پیپلزسیکریٹریٹ گلگت میں بینظیر بھٹو کی 11ویں برسی کی تقریب

گلگت(پ۔ر)پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے سینئر نائب صدر جمیل احمد نے کہا ہے کہ سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات حفیظ الرحمن نے لندن میں کشمیریوں سے مل کرسازش کے تحت سپوتاژ کروایااب یہ ن لیگ والے کس منہ سے کہتے ہیں کہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کروایا جائے ۔یہ حفیظ اور ن لیگی والے میر صادق اور میر جعفرکا کردار ادا کررہے ہیں ،ان کوبھی تاریخ میں میر صادق اور میر جعفر کی طرح یاد رکھا جائے گا۔

جمعرات کے روز انہوں نے پیپلزسیکریٹریٹ گلگت میں بینظیر بھٹو کی 11ویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ن لیگ کے اسلام آباد سیکنڈل کو نہیں بھولیں ہیں ،انہوں نے اسلام آباد میں گلگت بلتستان کی عزتیں نیلام کی ہے، میڈیا والے لکھے یا نہ لکھے ہم ان کے کارتوت اپنے ورکروں سمیت گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اس طرح کے فورمز کے ذریعے لاتے رہیں گے ۔ن لیگ کی حکومت نے غداری کی انتہا کردی ہے ،ہمارا مقابلہ تحریک انصاف سے نہیں بلکہ اس کرپٹ حکومت سے ہے اور تحریک انصاف کوئی سیاسی جماعت نہیں اس وجہ سے ہم ان کی بات کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے ہیں اور اگر تحریک انصاف کو بھی کسی طاقت نے سیاسی جماعت بنایا تو اس وقت ان کے حوالے سے بات کرنے کیلئے سوچیں گے ۔گلگت بلتستان کا اگلا الیکشن پیپلزپارٹی سے کوئی چھین نہیں سکتا ہے ،کیوں کہ پیپلزپارتی کے علاوہ کوئی اور جماعت نہیں جو گلگت بلتستان کے حقوق کی بات کرے اور اب گلگت بلتستان کو آئینی حقوق بنانے باقائد پیپلزپارٹی کے منشور کا حصہ ہے اور جب بھی پیپلزپارٹی کی حکومت آئے گی تب گلگت بلتستان کو بنیادی و آئینی حقوق مل جائیں گے ۔یہ کٹ پتلی حکومتوں کی مجال نہیں کہ وہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دے سکے ۔ن لیگ نے وفاق میں پانچ سال گزارے لیکن گلگت بلتستان کی آئینی حقوق کمیٹیوں کی حد تک رہی باقی اس سے آگے کچھ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا ن لیگ کے کرپٹ قائد اپنی کرپشن کی وجہ سے آج سزائیں بھگت رہے ہیں ،یہ کوئی سیاست دان یا لیڈر نہیں تھے بلکہ چند کاروباری تھے جو ضیاء اور دیگر ڈیکٹریٹروں کے ذریعے سیاست میں آئے تھے ۔سی پیک کا اہم منصوبہ آصف علی زرداری نے شروع کیاتھا لیکن اس کرپٹ نواز شریف نے اس کو بھی متنازعہ بنایا اور ایران پاکستان گیس پائپ لائن بھی اس میاں کی وجہ سے بند ہوگا جس کی وجہ سے آج پورا پاکستان پاور کرائسسز کا شکار ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاست کرنا اور حکومت کرنا کھلاڑیوں کی بس کی بات نہیں ہے ،یہ عمران نیازی جب سے آئے ہیں ملک میں بے چینی اور مہنگائی کی انتہاء تک پہنچی ہے ۔جب ایک نیازی 1971ء میں آیا تھا تو اس وقت پاکستان دو لخت ہوگیا تھا اور اب اس نیازی نے بھی پاکستان کا یہی حال کروانا ہے جس کیلئے پیپلزپارٹی ہر کاکن اور ہر جیالا ان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے کھڑا ہوجائے گا اور پاکستان کو کسی بھی کرائسسز سے باہر نکالے گا۔نائب صدر بشیر احمد نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کرنے کا مقصد پاکستان کو دو لخت کرنا اور پاکستان کو دنیا میں تنہاء کرنا تھا اور کچھ طاقتیں اپنی اس مذموم سازش میں کامیاب بھی ہوگئے لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت نے یہ تمام تر سازشیں ناکام بنادی ۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے اپنا پانچ سالہ دور میں صرف کمیٹیا بنائی باقی گلگت بلتستان کو عملی طور پر کچھ نہیں دیا اور اب عمران خان بھی صرف باتوں پہ ہی گزارہ کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت ایک ایسا مائنڈ سیٹ مسلط ہے جو جمہوریت کو ختم کرناچاہتی ہیں لیکن پیپلزپارٹی کا ہر ورکر جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنادے گا۔

پیپلزپارٹی استور کے رہنماء ڈاکٹر مظفر ریلے نے کہا کہ یہ کرکٹ کھیلنے والے لوگ پاکستان سے جمہوریت کو لپیٹنا چاہتے ہیں لیکن پیپلزپارٹی کا ہر ورکر جمہوریت کی حفاظت کرے گا ۔انہوں نے کہا گلگت بلتستان خطر ے کی دور سے گزررہا ہے اور دنیا کی طاقتوں کو گلگت بلتستان کے 20لاکھ عوام کی نہیں یہاں کے وسائل کی ضرورت ہے جس کیلئے گلگت بلتستان کے ساتھ ایک مذموم کھیل کھلنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ضلع گلگت کے صدر اقبال رسول ، شہزاد حسین الہامی ، ملک غلام علی شاہ ،وقار احمد مایا اور امان بونجوی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے قائدین نے نہ صرف پاکستان بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کیلئے بھی قربانیاں دی ہے ،آصف علی زرداری نے 2009میں سلف گورننس آڈر پوری دنیا سے لڑ کر یہ پیکج دیا تھا جس کو یہ حفیظ اور دیگر انجوائی کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ غریب اور متوسط طبقے کی نمائندگی کی ہے اور پیپلزپارٹی ایک نظریہ پر چلنے والی جماعت ہے۔تقریب کے اختتام پر پیپلزپارٹی کے تمام شہدا اور بالخصوص شہید بینظیر بھٹو کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments