قو موں کی پہچان

انگریزی میں محاورہ ہے ’’آدمی اپنے ہم نشین کے ذریعے پہچا نا جا تاہے ‘‘ نپو لین کا قول ہے کہ قو میں اپنے طرز عمل کے ذریعے پہچا نی جا تی ہیں طرز عمل کا اظہار نپو لین کے دور میں صدیوں کی تاریخ اور امن یا جنگ کی حا لت میں قو موں کے انداز فکر اور اسلوب سیاست سے ہو تا تھا آج کل قوموں کی پہچان اخبارات ، ٹیلی وژن اورریڈیو چینلوں کے ذریعے ہو تی ہے آپ ایک دن کے 10ٹیلی وژن چینلز 10اخبارات اور 10ریڈیو چینلز کی مدد سے اُس دن اندازہ لگا سکتے ہیں کہ قوم کیسی پہچان رکھتی ہے ؟ قوم کا مزاج کیا ہے ؟قوم کی معا شرت کیسی ہے ؟اور قوم کا مستقبل کیسا ہے ؟ آج کی تازہ خبر یہ ہے کہ عوا می جمہوریہ چین نے 2019 ء کے دوران ریل کی پٹڑیوں میں 6800کلومیٹر اضا فہ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے بظا ہر یہ ایک سطری خبر ہے مگر اس خبر سے اندا زہ ہو تا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کی قیا دت کیسی سوچ رکھتی ہے کیسا پروگرام رکھتی ہے ؟ وژن کیا ہے ؟ مشن کیا ہے ؟ اور کس طرح آگے بڑھ رہی ہے؟ اس کے مقا بلے میں اُس دن پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر نظر دوڑائیں قومی اسمبلی کی رُوداد پڑھ لیں حکمرا نوں کے ٹوئیٹر پیغا ما ت کا جا ئزہ لے لیں تو دوبڑے اہداف سامنے آتے ہیں 2019 ء کے دوران 6800مخا لفین پر مقدمات چلا ئے جا ئینگے 6800مخا لفین کے نا م ایگزٹ کنٹرول لِسٹ (ECL) میں ڈا لا جائے گا حکمران اپنے حق کا دفاع کرینگے مخا لفین مزا حمت کرینگے پرنٹ اور الیکڑا نک میڈیا پر اس قسم کی خبروں کی دھوم ہو گی ان خبروں کی وجہ سے ملک میں ہیجا ن ہو گا پریشانی ہو گی اور نئی نسل میں بے چینی پھیلے گی ملک سے بیزاری پیدا ہو گی اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ صر ف میڈیا پر ذمہ داری عا ئد ہوتی ہے میڈیا اور ملکی سیا ست کا حا ل مر غی اور انڈے جیسا ہے اگر کوئی کہتا ہے کہ مر غی پہلے پیدا ہوئی توہم اس کو جھٹلا نہیں سکتے اگر کوئی کہتا ہے کہ انڈا پہلے پیدا ہو اتو ہم اس کو بھی نہیں جھٹلا سکتے اگر ملکی سیا ست میڈیا کو مواد فراہم کرتی ہے تو یہ بھی سچ ہے اگر میڈیا ملکی سیا ست کو مواد فراہم کر تا ہے تو یہ بھی سچ ہے دراصل بات تر جیحا ت کی ہو تی ہے آپ نیٹ پر جا کر بر طا نیہ ، امریکہ ، بھا رت ،ایران ،تر کی ،جا پان اور چین کے اخبارات یا ٹیلی وژن چینل تلاش کر یں آپ کو 90فیصد خبریں کار خانوں کی پیدا وار، زراعت کی تر قی ،صحت کی سہو لیات ، تعلیمی معیار ، برآمدات میں اضافہ اور ملکی تر قی کے دیگر کاموں کے بارے میں ملینگی قومی اسمبلی ، صو بائی اسمبلی کی ایک آدھہ خبر 6مہینے میں ایک بار آئیگی سیاستدانوں کے بیا نا ت دو تین مہینوں میں ایک آدھہ بار اخبارات یا ٹیلی وژن پر آئینگے اُن کا میڈیا قوم کو مصروف اور مشغول دکھا تا ہے کیونکہ قوم حقیقت میں مصروف اور مشغول ہے اورکام کر تی ہے ہمارا میڈیا 90فیصد ایسی خبروں سے بھرا ہوتا ہے جس میں سیا ستدانوں کے بیا نات ، الزا مات، جوابی الزا مات اور گا لم گلوچ کی بھر ما ر ہو تی ہے زراعت ، صنعت ، بنیا دی ڈھانچہ اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں تر قی کو 10فیصد سے بھی کم جگہ ملتی ہے مجمو عی طور پر قوم با لکل فارغ نظر آتی ہے ایسا لگتا ہے کہ قوم کے سامنے کرنے کا کوئی کام نہیں ڈھنگ کا کوئی منصو بہ نہیں کوئی اچھی سکیم نہیں حزب اقتدار کے سامنے بھی کوئی کام نہیں حزب اختلاف کے سامنے بھی کوئی کام نہیں بقول شاعر ؂

میں کچھ بھی نہیں کر تا وہ ارام کرتے ہیں
میں اپنا کام کرتا ہوں وہ اپنا کام کر تے ہیں

گویا دونوں کا کوئی کام ہے ہی نہیں اس لئے ایک دوسرے کے اوپر کیچڑ اچھا لتے ہیں اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں انفارمیشن ٹیکنا لو جی اور صحت کی سہو لیات کو لے لیں تو پڑوسی ملک بھارت نے چین کا مقا بلہ شروع کیا ہے یورپ اور امریکہ سے لوگ علاج کے لئے بھارت کا رُخ کرتے ہیں جاپان ، جر منی اور فرانس کی آئی ٹی کمپنیوں کو بھارت نے پیچھے دھکیل دیا ہے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے کہاتھا ’’ کام کا م اور کام ‘‘ ہماری قیادت نے اس کا متبادل نعرہ قوم کو دیا ہے ’’دعوے ،دعوے اور دعوے ‘‘ بس دعوے کرو جھوٹے دعوے کرو اُن کو سچ ثا بت کرنے کے لئے پھر دعوے کرو جھوٹ بو لو ، ڈٹ کر بو بو اور اتنا بو لو کہ سادہ لوح لوگ اس کو سچ ماننے پر مجبور ہو جا ئیں شاعر نے کیا بات کہی ! ؂

وہ آئینے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے
خدا کسی کسی کو یہ کمال دیتا ہے

اگر آدمی اپنے ہم نشین کے ذریعے پہچا نا جا تا ہے اور قوم اپنے طرز عمل کے ذریعے پہچا نی جا تی ہے تو پھر ہمیں بحیثیت قوم آئینے میں اپنا چہرہ بار بار دیکھنا چاہئیے عوامی جمہوریہ چین 2019ء میں ریل کی مزید 6800کلو میڑ پٹڑی بچھائے گا اُس کے چیف جسٹس اور آرمی چیف کا نا م ایک بار بھی اخبار میں نہیں آئے گا اُس کے سیا ستدانوں کی تصویر یں ہر روز اخبارات کی زینت نہیں بنینگی کیونکہ وہ فارغ نہیں ہیں اُن کے سامنے بڑے بڑے کام ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments