علم کے دریچے

تحریر: ایس ایم شاہ

علم ایک لازوال دولت ہے۔ مال کی حفاظت انسان کو خود کرنا پڑتا ہے جبکہ علم انسان کی حفاظت کرتا ہے۔ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا جاتا ہے جبکہ علم استعمال کے حساب سے بڑھتا بھی جاتا ہے۔ علم ایک ایسا نور ہے کہ جس کی نورانیت کائنات میں ہر سو پھیلی ہوئی ہے۔ علم کے مقابلے میں جہل آتا ہے جو کہ گھٹاٹوپ تاریکی کا نام ہے۔ جس میں پڑے انسان کو نہ کسی کے مقام و رتبے کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کی شخصیت و خودی کی قدر و قیمت کا اندازہ۔ اسلامی روایات کی رو سے انسان جب کچھ بھی نہیں جانتا ہے تو وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ میں بہت کچھ جانتا ہوں۔ جتنا وہ علم حاصل کرتا جاتا ہے تو اس کے اندر اپنی جہالت کا احساس بھی بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک سٹیج تک پہنچنے کے بعد اپنے اندر یہ احساس کرنے لگتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں جانتا ہوں۔

جہالت دو طرح کی ہوتی ہے۔ جہل مرکب اور جہل بسیط۔ ۔ جاہل مرکب وہ شخص ہےکہ جو کچھ جانتا بھی نہیں ساتھ ہی یہ بھی نہیں جانتا کہ میں کچھ نہیں جانتا ہوں۔ جبکہ جاہل بسیط وہ شخص ہے کہ جس کے پاس علم تو اتنا نہیں ہوتا البتہ اسے اپنی جہالت کا احساس ضرور ہوتا ہے۔

آج کے جدید دور میں علم میں دن بہ دن اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے نئے دریچے اور شعبے بھی کھلتے چلے جارہے ہیں۔ علم کو اگر عقلی ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سائنسی علوم اور عقلی علوم میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ تجرباتی علوم کا تعلق سائنس سے ہے جبکہ فلسفہ، کلام، منطق، ہیئت اور علم الحساب وغیرہ عقلی علوم میں آتے ہیں۔ علوم تجربی پر کامل مہارت رکھنے والے کو سائنس دان، سوشل سائنس کے بارے میں صاحب نظر افراد کو ماہر عمرانیات، فلسفے پر گرفت رکھنے والے کو حکیم یا فلاسفر، علم کلام میں تخصص رکھنے والے کو متکلم، علم منطق کی موشگافیوں سے کماحقہ آشنائی رکھنے والے کو منطقی، علم ہیئت کے ماہرین کو ماہر فلکیات اور علم الحساب پر کامل دسترس رکھنے والے کو ریاضی دان کہا جاتا ہے۔

پیغمبر اکرمؐ کی روایت کے مطابق علم و دانش شمارش سے بھی زیادہ ہیں۔ پس ان میں سے سب سے اچھے کا انتخاب کیا کرو!۔ حضرت علیؑ کے فرامین میں علم کی اقسام کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔علم چار طرح کے ہیں: علم فقہ دین کے لیے، علم طب جسموں کے علاج کے لیے، علم نحو زبان کی اصلاح کے لیے،علم نجوم زمان کی پہچان کے لیے۔ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: علم کی دو قسمیں ہیں: دینی علم اور جسم سے متعلق علم۔ روح کی حیات دینی علوم کے باعث ہے جبکہ بدن کی حیات علم الابدان کے باعث ہے۔ جان لو کہ دین جسم سے افضل ہے۔ لہذا دین کی حفاظت بدن کی حفاظت سے بھی افضل ہے۔

فلسفی، منطقی، سماجی اور دیگر عقلی علوم پر گرفت حاصل کرکے متقن دلیلوں سے اصول دین کو ثابت کرنے والے، علم الفقہ پر عبور حاصل کرنے کے ذریعے دینی احکام کا عمیق مطالعہ رکھنے والے، علم عرفان کے اصولوں کو پہچاننے کے بعد عرفان و شہود کے مختلف منازل کو طے کرنے والے، اپنی زندگی کو قرآن مجید کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ہر ممکن کوشش کے لیے وقف کرنے والے، علم روایت و درایت پر عبور حاصل کرنے کے بعد سچی روایتوں کو جھوٹی روایتوں سے پرکھنے کی صلاحیت رکھنے والے اور ان تمام امور کو انجام دینے کے بعد معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے والے، دین کی سربلندی کے لیے اقدامات کرنے والے،صاحبان حق تک ان کے حقوق بہم پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے والے، انسانیت کی آبیاری کرنے والےاور سماجی ناانصافیوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر نڈر ہوکر ظالم و جابر حکمرانوں کے سامنے ڈٹ کر انہیں گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے کو عالم دین کہا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایات میں علما کو انبیاء کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ عالم دین پھل دار درخت کی مانند علم و تقوی سے آراستہ پیراستہ ہونے کے باوجود تواضع کا پیکر بنا رہتا ہے۔ اسی تواضع سے غلط فائدہ اٹھاکر آج کل بعض ایسے نام نہاد تعلیم یافتہ افراد سماج میں سر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں جو مغرب زمین کے ظاہری شوشا کی فقط خبر سن کر سماج میں علما کی خدمات کے باعث لوگوں کے دلوں میں ان کی حکومت کو کمزور کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ تاکہ دین کمزور ہو پھر معاشرے کو اپنی من مانی کے سانچے میں ڈالا جاسکے۔ جو شخص مذکورہ بالا علوم میں سے کسی بھی علم سے آراستہ پیراستہ ہو وہ کبھی بھی دوسرے شعبے کے ماہرین کے بارے میں بدزبانی سے کام نہیں لے گا اور بلاجواز تنقید کا نشانہ نہیں بنائے گا۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ یہ میرا شعبہ نہیں۔اگر کوئی ڈاکٹر نجنئیروں کو، کوئی ماہر قانون ریاضی دانوں کو یا کوئی علم فلکیات کا ماہر معاشرتی علوم کے ماہرین کو نشانہ تنقید بنانا شروع کر دیں تو فوری سمجھ لینا چاہیے کہ یہ شخص در اصل خود سے نہ ڈاکٹر ہے ، نہ انجنئیر ہے، نہ ماہر فلکیا ہے اور نہ ہی ریاضی دان بلکہ جاہل مرکب ہے۔ آج اگر معاشرے میں اچھے برے کی تمیز باقی ہے، ماں بہنوں کی حرمت برقرار ہے، امن و امان کی حکمرانی ہے، اخلاقی برائیوں میں کمی ہے، نیک کردار والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، رشتہ داروں کے حقوق کا پاس رکھا جاتا ہے، والدین کا احترام برقرار ہے، طبقاتی نظام سست رفتاری کا شکار ہے، استاد کا احترام کیا جاتا ہے،تعلیم کے ساتھ ساتھ نئی نسل بہترین تربیت پارہی ہے، ظالم کے خلاف اپنے حقوق کے لیے استقامت دکھانے کی قابلیت رکھتا ہے، خاندانی نظام برقرار ہے …تو یہ سب کچھ علمائے کرام کی بے لوث خدمات کا نتیجہ ہے۔ جس معاشرے کے افراد کے دلوں پر دین اور علمائے دین کی حکمرانی ہو وہ معاشرہ بھی لازوال اور آئیڈیل معامشرہ بن جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments