سرکاری سکول بمقابلہ پرائیویٹ سکول

عبدالصبور

بات معمولی نہیں جس کو سنا پڑھا دیکھا اور بھول گئے۔۔ جناب یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے۔ کہتے ہیں کہ بچے کسے بھی علاقے کی کل آبادی کا 20 فی صد ہوتے ہیں جبکہ مستقبل  کا 100 فی صد۔ آئیے ہمارا 100 فی صد مستقبل کس نازک مرحلے سے گزر رہا ہے اور ہمارے رویے کیسے ہیں اس پر ایک نظر۔

 بظاہر دیکھا جائے تو نظر یہی آتا ہے کہ ہمارے ہاں تعلیمی میدان میں سرکاری اور پرائویٹ دونوں طرح کے ادارے موجود ہیں۔ کارکردگی کے حساب سے پرائیویٹ سکول زیادہ بہتر نتائج دے رہے ہیں جبکہ سرکاری سکول ابھی اصلاح طلب ہیں۔

مندرجہ بالا باتوں سے  ہر گز انکار ممکن نہیں لیکن ہم نے کبھی نہیں سوچا اس سارے عمل کا معشرہ پر کیا اثر مرتب ہوتا ہے اور ہماری سوچ کی سمت کیا ہونی چاہیئے۔  پرائیویٹ سکول بہتر آپشن کی شکل میں اپنا وجود رکھتے تو ضرور ہیں لیکن مسائل بہت ذیادہ ہیں۔

پرائویٹ میں داخلہ کی کچھ شرائط ہیں۔ آپ کا بچہ پہلے سے قابل ہونا ضروری ہے۔۔ اگر نالائق ہوگا تو یہ اساتذہ اسے قابل بنانے کا جوکھم نہیں اٹھانا چاہتے پرائویٹ سکولوں کی نظر میں اسے زیور تعلیم سے آراستہ ہونے کا کوئی حق نہیں۔  یہ بڑی عجیب منطق ہے۔ بڑی کلاسوں میں شائد ایسا کرنا ٹھیک ہوتا ہوگا لیکن چھوٹی کلاسوں میں قابل ترین بچوں کو داخلہ دے کر یہ کہنا کہ بچوں کو قابل بنانے میں ہمارا کردار ہے تو اس سینہ زوری پر کیا کہا جائے۔ جب کہ یہ سرکاری سکول  سب کو داخلہ دینے کے پابند ہیں۔

پرائویٹ سکولوں کی دوسری اہم شرط یہ ہے کہ والدین مالدار بھی ہونے چاہیئں۔  اب اس اصول کو ہی لیجیئے۔ گویا ایک بار پھر وہ بچے زیور تعلیم سے محروم قرار دئیے جا رہے ہیں جن کے والدین امیر نہیں۔  آپ کبھی گلگت شہر میں موجود بڑے سکولوں کا نظام دیکھئیے۔ آدمی حیران و پریشان ہوتا ہے کہ یہ ادارے واقعی تعلیم دینے کے لئے قائم کئے گئے ہیں یا پیسہ جمع کرنے کے لئے۔ نام لئے بغیر ایک بڑے ادارے کا احوال یہ ہے کہ داخلہ لیتے وقت مختلف مدوں میں ایک بھاری رقم وصول کی جاتی ہے۔ اس کے بعد بھاری بھرکم ماہانہ فیس۔ بات یہاں تک ہوتی تو ٹھیک تھا لیکن آگے سنئیے۔ اگر بچے سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو والدین بھاری جرمانہ ادا کرنے کے بھی پابند ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ بچہ غلطی بھی سکول میں کرتا ہے اور جرمانہ والدین سے لیا جاتا ہے۔ اب سکول انتظامیہ کی موجودگی میں بچہ غلطی کرے اور بچے کا باپ دفتر میں ہو تو اس غلطی کا زمہ دار دار سکول ہے یا والد؟  خیر جانے دیجئے۔۔ ہم اس بحث میں فی الحال نہیں پڑتے۔ بات چل رہی تھی کہ ایسے سکولوں کے قیام کا بنیادی مقصد کیا ہو سکتا ہے کوئی جانتا ہو تو مجھے بھی بتادے۔۔ تعلیم بنیادی مقصد نہیں رہا یہ تو طے ہے۔ بات پھر اسی سوال اور اسی جواب پر آکر رکتی ہے کہ ایسے والدیں جو ان بڑے ناموں والے پست سکولوں میں داخلہ نہیں دلا سکے ان کے پاس کیا آپشن ہے۔۔ جی ہاں سرکاری سکول۔ ۔۔ جہاں معیار تعلیم میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے

اساتذہ کسی بھی سکول کا بنیادی کردار جزو ہیں۔ ۔ پرائویٹ اداروں میں اچھے اساتذہ بھرتی کئے جاتے ہیں۔۔   اس بات میں دو رائے نہیں کہ قابل ترین اساتذہ سرکاری اداروں میں آتے ہیں۔ ماسوائے ان کے جو قابل تو ہیں مگر عمر کی حد پار کرچکے ہیں۔  لیکن پھر وہی جملہ دہراونگا کہ ان قابل اساتذہ کے ہونے کے باوجود سرکاری اداروں میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ قابلیت اور مالی حیثیت کی بنیاد پر معاشرتی تقسیم بظاہر معمولی بات نظر آتی ہے مگر یقین جانیں یہ انتہائی خطر ناک عمل ہے۔ دو ایسی نسلیں پرورش پا رہی ہیں جو کسی صورت ایک دوسرے کو قبول نہیں کر سکتیں۔

 اب یہاں میں عوام سے چند گزارشات کرنا چاہونگا جس سے میرا خیال ہے انقلابی تبدیلیاں ممکن ہیں۔  آپ اپنے بچے کو ہر دو صورتوں ایک خطرناک کھیل حصہ بنا رہے ہیں ۔ آپ کا بچہ وہ شہری بننے جا رہا جس کی نظر میں اس جیسوں کے علاواہ باقی لوگ قابل نفرت ہیں۔ آئیے اصلاح کی بات کرتے ہیں۔

میرا زاتی تجربہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں مطلوبہ اصلاحات لائی جائیں تو یہ مسئلہ فوری حل ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ سرکاری سکول قریب قریب ہر جگہ ہر گاوں میں موجود ہیں۔ اگر یہ نظام بہتر ہو تو اس کے ثمرات ہر جگہ برابر تقسیم ہوسکتے ہیں۔ اور طبقاتی تقسیم کا بھی احتمال نہیں۔

سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ سرکاری سکولوں میں معیار تعلیم اور نظم و ضبط کا ہے۔  جس علاقے میں سرکاری سکول ہے وہاں کی عوام سکول کا حصہ بنے۔۔ سکول کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرے۔۔۔ بچوں کو داخل کرائیں اور اساتذہ کی کارکردگی پر بات بھی کریں۔ گاوں یا محلہ سطح پر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔  اگر سکول میں کسی اور طرح کی سہولیات کا فقدان ہے تو ایسے کئی علاقوں کی مثال دی جس سکتی ہے جہاں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت مطلوبہ سہولیات پورا کرتی ہیں اور عوام کی دلچسپی ہی حکومتوں کی دلچسپی میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔

میں ایک بار پھر آپ کو یاد دلانا چاہونگا کہ اساتذہ  کسی بھی تعلیمی ادارے کا بنیادی جزو ہیں، اور سرکاری سکولوں میں  بہترین اساتذہ دستیاب ہیں۔ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروائیں اور ان سکولوں کو اچھا بنانے کی حکومتی کوششوں  کا ساتھ دیں۔اگر ہم گاوں یا محلہ کی سطح پر سڑک بنانے کے لئیے اکٹھے ہو سکتے ہیں، تعمیر مسجد یا پانی کے مسئلے پر کمیٹیاں بنا سکتے ہیں تو اپنے گاوں محلے کے سکول کا نظام کیوں بہتر نہیں بنا سکتے۔ ضرورت ہے اعتماد کی، احساس کی، شعور کی اور ذمہ داری کی۔  عوام کا تعلیمی اداروں میں بہتری کے لئے قدم اٹھانے کی دیر ہے۔۔ حکومت قدم اٹھا چکی ہے۔ محکمے کےموجودہ ذمہ داران بہت اچھے فیصلے لے چکے ہیں۔ آپ بھی ہمت کیجئے۔  منصوبہ بندی کیجئیے ۔ سکول کو اپنائیے۔

saboor9494@gmail.com

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments