کالمز

گلگت بلتستان ویمن سپورٹس گالا پر اعتراض کیوں؟

تحریر۔ اشفاق احمد ایڈوکیٹ

گلگت بلتستان میں 5 اکتوبر 2022 کو ایک تاریخی ویمن سپورٹس گالا منعقد ہونے والا ہے جس کی تمام تر تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں کرکٹ، باسکٹ بال، ٹینس، بیڈ مینٹن، اور ہاکی کے ٹورنامنٹ منعقد ہونگے جس میں لڑکیاں حصّہ لیں گی چونکہ صحت مند جسم کا صحت مند دماغ ہوتا ہے اور کھیل دماغ کو صحت مند اور متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، پہلے زمانے میں یہ کہا جاتا تھا کہ کامیاب زندگی کے لیے تعلیم ضروری ہے لیکن موجودہ دورِ میں کھیل بھی کامیاب زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لہذا طلباء کو اپنی معمول کی پڑھائی کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بھرپور شرکت کرنا چاہئیے کیونکہ  گذشتہ کئی سالوں سےگلگت بلتستان میں خواتین کے لئے تفریح کے مواقع تقریبآ ناپید ہوگئے ہیں اس کی وجہ روایتی سماجی سٹرکچر کا ٹوٹنے اور درآمد شدہ اقدار کا نفاذ ہے۔ دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور تفریح کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے بھی
خواتین میں خودکشیوں کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے خصوصا ضلع غذر میں خواتین میں یہ شرح کافی زیادہ ہے اس لئے کھیلوں کا انعقاد ایک مثبت سرگرمی ہے۔ جس سے خواتین کو اعتماد مل جائے گا اور  ایک مثبت سرگرمی میں حصہ لینے کا موقع ملے گا ۔
لیکن اس ایونٹ کی شروعات ہونے سے قبل ہی ایک تنازعہ جنم لے چکا ہے اس پروگرام کے حق اور خلاف میں ایک بحث جنم لےچکی ہے۔
گلگت بلتستان کے معاشرے کا ایک مکتبہ فکر اس سے بے حیائی قرار دے رہا ہے اور اس سے گلگت بلتستان کے کلچرل کے خلاف سمجھتے ہوئے اس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہا ہے اور  اس سے کینسل کرنے کے لئے حکومت گلگت بلتستان پر دباو ڈال رہا ہے جبکہ دوسری طرف ترقی پسند نوجوانوں کی بڑی تعداد خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کررہے ہیں اور اس ایونٹ کو ایک مثبت سرگرمی قرار دے رہے ہیں۔
اسی صورت حال میں جب ہم گلگت بلتستان میں رائج الوقت قانون آرڈر 2018 پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے قانون کےمطابق کسی بھی شہری کو جنس کی بنیاد پر کسی بھی سیاسی، سماجی، تفریحی و ثقافتی سرگرمی کی انجام دہی اور پبلک مقامات میں جانے سے نہیں روکا جاسکتا ہے۔
لیکن اس کے باوجود خواتین اسپورٹس گالا کے حوالےسے منفی خبریں پھیلا کر اس سے متنازعہ بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے حالانکہ ان  کھیلوں کو خواتین خود آرگنائز کر رھی ھیں اور کسی بھی وینیو میں مردوں کا داخلہ بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
مقامی اخبارات کے مطابق لالک جان گراوًنڈ اور دوسرے تمام گروًنڈز میں مردوں کی داخلے پر مکمل پابندی ہوگی تاکہ خواتین کے کھلیتے ہوئے ان پر کسی مرد کی نظر نہ پڑے اور تمام گرلز کھلاڑی پردے میں کھیلنگی۔
سکارف اور فُل بازو شرٹ / فُل یونیفارم اور جوگر لازمی ہیں۔ کسی بھی مرد کو کوئی تصویر اور وڈیو بنانے اور کسی بھی عورت کو کوئی تصویر اور وڈیو سوشل میڈیا میں یا کسی گرپ میں یا کسی خاتون فرینڈ کو بھی شئیر کرنے پر پابندی ہوگی۔
ان تمام پابندیوں کے باوجود بھی بعض علما کرام نے سپورٹس گالا کا مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے اور گلگت شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال بھی دی گئی ہے۔ اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا گلگت بلتستان میں خواتین کے حقوق ہیں یا نہیں ؟
خواتین کے کھیلوں میں شرکت کرنے پر اتنا شدید رد عمل سے صاف واضح ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان میں قبائلی ذہنیت کے ساتھ رجحت پسندی بھی عروج پر ہے حالانکہ پاکستان میں خواتین کے کھیلوں پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔
تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کی سوچ  معاشرتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے
مثلا یورپ میں ایک زمانہ تھا جب خواتین کو چڑیل قرار دے کر باقاعدہ ٹرائل کرکے مارا گیا ۔
جس سے تاریخ میں witch Hunting کہا جاتا ہے ، یہ زمانہ یورپ کا Dark Ages کہلایا۔ دوسری طرف مسلمانوں نے سائنس میں بے پناہ ترقی کیا تھا پھر آہستہ آہستہ مسلم دنیا قدامت پرستی کا شکار ہوئی اور وہ آسیب آج تک ہمارا پیچھے نہیں چھوڑ رہا ہے جبکہ دوسری طرف دنیا چاند ستاروں سے آگے نکل گئی ہے جبکہ ہم عہد تاریک کو دہرانے میں لگ گئے ہیں اور آج اکیسویں صدی میں گلگت بلتستان میں بھی وہ دور ارہا ہے، جب ہم وچ ٹرائل شروع کریں گے ۔
ویسے بھی ہمیں چڑیلوں سے بہت ڈر لگتا ہے بقول کارل جیٹمار گلگت بلتستان کے لوگ چڑیلوں پر نہ صرف یقین رکھتے ہیں بلکہ وہ رات کو باہر نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ ان کو چڑیل کھا نہ جائے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت ہمیں پریشانی انسانی خون پینے والی چڑیلوں سے زیادہ فٹ بال یا کرکٹ کھیلنے والی لڑکیوں سے ہے ۔
ہم نان ایشوز کی چکر میں ساری توانائی ضائع کرتے ہیں حالانکہ یہ وقت ایک قوم بن کر  اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنے کا ہے نہ کہ مورل پولیسنگ کا ،کیونکہ ہماری قوم 75 سالوں سے بنیادی جمہوری انسانی حقوق سے محروم ہے بقول چیف جسٹس، گلگت بلتستان میں آئین نہیں ہے نہ ہی بنیادی انسانی حقوق کی گرانٹی ہے لیکن افسوس ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ہاں ہمیں فکر اور پریشانی ہے تو خواتین کے کھلینے پر اور اگر ہماری ترجیحات اس طرح جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب ہم witch Hunting میں یورپ کی عہد تاریک کو دہرا
کر مغرب کا ریکارڈ توڑ دینگے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: