بڑی عمارتوں کے چھوٹے مکین

رشید ارشد
کسی پرشکوہ عمارت ،عالی شان دفتر یا کسی ایسی جگہ پر جہاں صبح سے شام تک غریب کا استحصال اور حرام کا کاروبار ہوتا ہے وہاں لکھا ہوا دیکھتا ہوں کہ ،ھذا من فضل ربی ،تو مجھے وہ منظر یاد آتاہے جب میں کسی عالی شان دفتر میں صاحب دفتر کی دعوت پر گیا تھا ،اس ملاقات کے بعد کئی دن تک اکیلے میں روتا رہا ، چاروں طرف مہنگے ترین قرآنی آیات کے فریم ،ایک طرف الماری اسلامی کتابوں سے سجی ، الماری کے اوپر جائے نماز ،وسیع میز پر تسبیح اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ صاحب دفتر مکمل اسلامی خیالات و نظریات کے مالک ہیں،یہ پانچ منزلہ عمارت ان کی زاتی ملکیت تھی ۔،علیک سلیک کے بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو صاحب دفتر نے اپنی معاشی ترقی اورزندگی کے ابتدائی غربت کے دنوں کے احوال سنانے شروع کئے ،اس بات پر میں نے خوشی ہوئی کہ ترقی کی اس منزل پر پہنچنے کے بعد بھی غربت کے دنوں کو یادہیں تو ضرور ان کے ادارے میں کام کرنے والے مزدور بھی معاشی آسودگی میں ہوں گے کیونکہ جس نے غربت اوربھوک افلاس سے ترقی کی منزلیں طے کیں ہوں وہ بخوبی جانتا ہے کہ غربت کی سختیاں اور دکھ کس طرح انسان کو انگاروں پر زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
غریب جب تھکا ہارا شام کو گھر جاتا ہے اور بچوں کی فرمائشیں سنتا ہے جنہیں پوری کرنے کے لئے اسے اپنے آپ کو کسی سرمایہ دار کے ہاں گروی رکھنا ہوتا ہے تو اس وقت کس طرح اس کا کلیجہ منہ کو آتا ہے یہ دکھ وہی سمجھ سکتا ہے جس نے غربت دیکھی ہو،خیر بات کسی اور طرف نکل گئی،صاحب دفتر گفتگو کے گھوڑے کو ماضی میں غربت کے تپتے صحرا سے امارت کے گلستاں تک دوڑاتے رہے اور کہا کہ یہ سب اللہ کا کرم ہے اور یہ سب میرے اللہ کا فضل ہے کہ جس نے مجھے غربت کی پستی سے اٹھا کر امارت کی بلندی سے آشنا کرایا اور آج کئی بنکوں میں میرے شےئر ہیں ،اسلام آباد اور روالپنڈی میں کئی ایک پلازوں اور مارکیٹوں کا مالک ہوں ،یورب میں وسیع کاروبار ہے۔
،گفتگو کا سلسلہ جاری تھا ،اسی دوران دفتر کا دروازہ کئی دفعہ آدھا کھلا اور ادھ کھلے دروازے میں کوئی بار بار جھانک رہا تھا اور صاحب دفتر ہاتھ کے اشارے سے بار بار منع کر رہے تھے ،کافی دیر کے بعد ملاقاتی کی ہمت جواب دے گئی دفتر میں داخل ہوئے ،صاحب دفتر نے ناگواری سے پوچھا ،جی کیا کہنا ہے ،صاحب جی آج مہینے کی ستائیس تاریخ ہے میری ماں ہسپتال میں داخل ہے میں آپ کا ملازم ہوں اکاونٹ والے سے کہا کہ مجھے تنخوا سے کچھ ایڈوانس دو تو وہ کہتا ہے بڑے صاحب سے اجازت لو ،خدا کے لئے میری ماں کی حالت خراب ہے مہینہ پورا ہونے کے لئے صرف تین دن باقی ہیں مجھے تنخوا ایڈوانس دیں نہیں تو کچھ رقم ہی دیں تاکہ میں ماں کا علاج کرا سکوں یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں صاف نظر آرہا تھا کہ بے بسی کے آنسو تیر رہے تھے ،مجھے خیال آیا کہ بات بات پر ھذا من فضل ربی کا ورد کرنے والے صاحب کہیں گے کہ جاو بیٹے اکاونٹ آفیسر کے پاس آپ کو نہ صرف اضافی تنخوا دیں گے بلکہ کچھ اضافی پیسے بھی دیں گے ،ماں تو سانجھی ہوتی ہے ،لیکن یہ کیا کچھ ہی دیر قبل گفتگو میں اپنے بنک بیلنس اور مال دولت کے قصے سنانے والے صاحب اس بے بس مزدور سے کہنے لگے ،ہمارے ادارے میں ایڈوانس کا کوئی رواج نہیں اور اکاونٹ سب خالی ہیں اتنے پیسے بھی نہیں کہ آپ کو دے سکیں اس بے بس مزدور نے کچھ کہنا چاہا تو سختی سے حکم دیا کہ جاو اپناکام کرو ،وہ منہ چھپا کر دفتر سے نکل گئے ، شاید وہ اپنا رونا اور آنسو گرتے منظر کو چھپانا چاہتے تھے ،لیکن میں اس بے بس کی سسکیاں محسوس کر سکتا تھا ،پل دو پل میں بظاہر اللہ اور رسول کے احکامات کی پاسداری اور شکر گزاری کے کلمات ادا کرنے والے شخص کے بدلتے روپ] کو دیکھتے ہوئے میں حیرتوں کے سنمدر میں غوطے کھا رہا تھا کہ دوروازہ دوبارہ کھلا ایک نوجوان بڑے طمطراق سے داخل ہوئے ،لباس اور چال ڈھال سے محسوس ہو رہا تھا کہ نوجوان نے کھبی غربت کے تپتے صحرا کو دیکھا ہے تو نہ غربت کے دکھ کو کھبی محسوس کیا ہے ،
صاحب دفتر نے نوجوان کی طرف دیکھتے ہی کہا آو بیٹے ،کیسے ہو ،،میری توجہ نوجوان کی طرف دلاتے ہوئے کہا یہ میرے بیٹے ہیں ،جی بیٹا حکم ،ابو ،،،زرا لندن تک جانے کا دل کر رہا ہے کچھ دن چھٹیاں گزارنا چاہتا ہوں ،جی بیٹا ضرور ،میں اکاونٹ والے کو بتاتا ہوں آپ کے لئے ٹکٹ اور رقم کا بندوبست کرے ،یہ کہہ کر فون اٹھایا اور اکاونٹ آفیسر کو حکم دیا کہ الائیڈ بنک والے اکاونٹ سے دس لاکھ نکال کر لے آئیں ،،،جی بیٹے میں بھی سوچ رہا تھا کہ آپ کو کچھ دن آرام کرنا چاہئے ،اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے آپ جائیں اور جتنے دن رہنا چاہتے ہیں رہیں رقم کی کوئی فکر نہ کریں جتنے خرچ کر سکتے ہو کرو،بس میں آپ کی خوش دیکھنا چاہتا ہوں ،باپ بیٹے کی گفتگو اور تھوڑی دیر قبل ماں کے علاج کے لئے کچھ ہزار رقم کے لئے التجائیں کرتے ہوئے مزدور کی بے بسی والا منظر ، دیواروں پر ھذا من فضل ربی ،کے مقدس قرآنی آیات کے فریم اور قرآنی احکامات کی صریحا خلاف وزری کے اس منظر کو دیکھ کر حیرت اور سرمایہ دار کے اس بدلتے روپ کو دیکھ کر نفرت کے احساس نے اس بری طرح مجھے جھکڑا کہ مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ میں اس بہروپئے کی محفل میں مزید رہوں ،میں اٹھا اور صاحب دفتر سے کہا مجھے کوئی ضروری کام پڑ گیا ہے میں جا رہا ہوں ،اٹھا اور چل دیا جو ضروری کام پڑ چکا تھا وہ یہ تھا کہ اس انسانیت دشمن اور بات بات پر اللہ کے ٖفضل اور اللہ کے رسول کے احکامات کا حوالہ دے کر عمل کا وقت آئے تو غریب کے لئے فرعونی صفات پیدا کرنے والے اس بے حس سرمایہ دار کی پتھر دلی اور مزدور کی بے بسی پر کھل کر رو سکوں۔اس منظر کے بعد جب بھی کسی پر شکوہ عمارت کسی عالی شان دفتر کی دیوار پر ،ھذا من فضل ربی ،کی مقدس آیات پڑھتا ہوں توخیال آتا ہے کہ یہ بھی شاید وہی ہوں گے جن کے نزدیک اللہ کے فضل کو صرف دولت کی فراوانی سے تعبیر کیا جاتاہے ، اس مزدور کی ماں بچی یا نہیں اس کا علم مجھے نہ ہوسکا لیکن اتنا معلوم ضرور ہوا کہ اصل فضل تو یہ ہے کہ اللہ کے دئے ہوئے ہوئے مال کو اللہ کے بندوں پر خرچ کرو،اگر یہ نہیں تو غریبوں کے ارمانوں کا خون اور ان کی محنت کے بل بوتے پر دولت کے انبار جمع کرنے والوں کے لئے دولت اللہ کا قہر بھی بن سکتی ہے ،،، قول فعل کے اس تضاد کو ختم کئے بغیر ہم نہ اچھے مسلمان بن سکتے ہیں ا ور نہ انسان ۔میں نے چھوٹی اور بوسیدہ عمارتوں میں بہت بڑے لوگ بھی دیکھے اور عالی شان عمارتوں کے بہت
ہی چھوٹے مکین بھی ۔
روٹی امیر شہر کے کتوں نے چھین لی
فاقہ غریب شہر کے بچوں میں بٹ گیا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments