اختیارات بمقابلہ کارکردگی

شاہ عالم علیمی

جہاں ہم ایک طرف گلگت بلتستان کے آئینی اور سیاسی حقوق کے حوالے سے چیخ و پکار کرتے ہیں اور ستر سال کی محرومیوں کا رونا روتے ہیں وہی جو کچھ ہمیں ملا ہے اس میں خود ہماری اپنی کارکردگی بہت مایوس کن ہے۔

گلگت بلتستان کو 2009 سیلف گورننس آرڈر کی شکل میں جو اختیارات دے گئے تھے اس میں بہت سارے ڈیپارٹمنٹس ایسے تھے جہاں اگر باصلاحیت لوگ ہوتے تو کافی کام ہوسکتا تھا۔ روزگار پیدا کرنے اور انفراسٹریچکر کو ٹھیک کرنے کے کافی امکانات تھے۔ تاہم شروع کے ان دنوں میں ہی مہدی شاہ سرکار کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ جہاں ہر سال کے آخر میں اسی فی صد ترقیاتی بجٹ واپس اسلام آباد جانے کی خبریں آتی رہی وہی رشوت ستانی اقربا پروری کا بازار گرم رہا۔ حالات یہاں تک پہنچ چکے تھے کہ ایک وزیر موصوف فرمانے لگا کہ “تھوڑا سا پیسہ بنانا” ہمارا بھی حق بنتا ہے۔ ایک اور وزیر نے اپنے محکمے کی آسامیوں کے باقاعدہ نرخ لگا رکھا تھا۔

پھر نواز لیگ کی حکومت آئی۔ حافظ حفیظ الرحمن کو وزیر اعلی بنا دیا گیا۔ موصوف جو دعوے حزب اختلاف میں ہوتے کررہے تھے ان کو یکسر بھول گئے۔ اول تو وزارتیں اور محکمے اپنی مرضی سے بانٹتے رہے۔ اپنی پسند کے ضلعوں کو تین تین وزارتیں دے دی اور کہیں ایک بھی نہیں۔ یہی صورتحال ٹیکنو کریٹس کی سیٹوں کے ساتھ کیا گیا۔ غذر جیسے سب سے بڑے ضلعے کو ایک بھی وزارت نہیں دی گئی اور نہ ہی ٹیکنو کریٹ کی ایک سیٹ۔ جب لوگوں نے احتجاج کیا تو جاکر ڈیڑھ سال بعد ایک وزارت غذر کو دے دی گئی۔
موصوف نے یہی منفی رویہ حزب اختلاف کے ساتھ رکھا۔ حزب اختلاف کے ممبران کی ترقیاتی فنڈز میں غیر معمولی کمی رکھی گئی جس کا مقصد اپنے مخالفین کو نیچا دیکھانے کے سوا کچھ نہ تھا۔

پھر جاکر لوگوں کی مرضی کے برخلاف جی بی میں ٹیکس نافذ کرنے اور گندم سبسڈی ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ فروری 2017 میں ٹارگٹڈ سبسڈی کے نام سے خرد برد کا ایک نیا نظام ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی۔ جسے عوامی رد عمل کی وجہ سے موخر کیا گیا۔

پھر موصوف نے اسلام اباد میں ان کی پارٹی کی اپنی حکومت ہوتے ہوئے گلگت بلتستان کے حقوق پر بات کرنے سے اجتناب کرتے رہے۔ الٹا فرمانے لگے کہ گلگت بلتستان کو جو کچھ ملا ہے وہ کافی ہے۔ 2016 میں جیو نیوز کے ایک پروگرام میں فرمانے لگے گلگت بلتستان کا گورنر مقامی ہونا لازمی نہیں ہے جس پر صحافی نے گلگت بلتستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پوچھا کہ؛ پھر کیوں نہ وزیر اعلی بھی باہر سے ہو!

2018 میں آرڈر 2018 کے نام سے ایک نیا پیکیچ اسلام اباد سے لے کر آیا۔ جس میں گلگت بلتستان کو پہلے سے حاصل اختیارات بھی ختم اور وزیر اعظم پاکستان کو گلگت بلتستان کے سارے نظام کا مختار کل بنانے کی کوشش کی گئی۔ جسے گلگت بلتستان کے عوام نے یکسر مسترد کردیا۔ جب کہ موصوف اپنی جماعت کے ساتھ اس پیکیچ کی تائید اور دفاع کرتے رہے تاہم اب جب کہ مرکز میں ان کی حکومت ختم ہوگئی ہے تو وہ گلگت بلتستان کے حقوق کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔

ان چند سالوں میں گلگت بلتستان میں بے روزگاری میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے۔ حکومت روزگار پیدا کرنے اور غربت کم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ لوگ غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آچُکے ہیں جب کہ سرکار کے کارندے اسلام اباد میں سردیاں گزار رہے ہیں اور لندن اور برلن سیر سپاٹے کرنے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف سرکار نے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ، ایجوکیشن اور پولیس کے محکموں تک مہدی شاہ سرکار کی روش کو برقرار رکھا ہوا ہے۔

دسمبر 2016 میں ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں کچھ آسامیوں پر بھرتی کرتے وقت اقربا پروری کا نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ جب گلگت بلتستان کے جوانوں نے احتجاج کیا تو الٹا ان کو سلاخوں کے پیچھے بند کردیا۔ 2017 میں پولیس کے محکموں میں غذر اور گنگچھے کی آسامیوں پر بھی اپنے حلقے سے بھرتیاں کی گئی۔ جب ان اضلاع کے جوانوں نے احتجاج کیا تو بھونڈی دلیل دی گئی کہ گلگت میں حالات خراب ہوتے ہیں اس لیے مقامی لوگوں کو پولیس میں بھرتی کرنا لازمی ہے۔ اوّل تو یہ کہ سی پیک کی بدولت گلگت میں حالات خراب کرنے والوں کو خاموش کردیا گیا ہے اب اس کی گنجائش نہیں کہ کوئی مزید حالات خراب کریں۔دوم اگر ایسا کوئی خطرہ ہے بھی تو یہ سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی اپنائے کوئی سپیشل فورس تشکیل دیں ایسا تو نہیں ہے کہ اپ حالات کی اڑ میں کسی اور کا روزگار چھین لیں۔ یہ صرف سرکار کی نااہلی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

کسی بھی جمہوری ملک میں اظہار رائے کی آزادی وہاں کی ترقی اور شفافیت کی ضمانت ہے۔ جہاں اظہار رائے کی آزادی نہ ہو میڈیا پر پابندی ہو سمجھو کہ وہاں کچھ نہ کچھ مشکوک ہے۔

میڈیا اور اظہار رائے پر قدغن لگانے میں شاید حافظ سرکار مہدی شاہ سرکار کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔ مہدی شاہ نے اپنے ناپسندیدہ اخبارات بند کرانے کی بھر پور کوشش کی۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو پاپند سلاسل کرتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی بے گناہ لوگ صرف بولنے کی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ نواز لیگ کی حکومت نے بھی اس روش کو برقرار رکھا۔ میڈیا کا گلہ دبانے کے لیے ہر ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ گلگت بلتستان کے نوجوانوں یہاں تک کہ اساتذہ پر پاکستان میں دہشتگردوں کے لیے بنایا گیا قانون شیڈول فور نافذ کردیا گیا۔ اس حوالے سے یہ دور ہمیشہ تاریک دور کہلائے گا۔

اب جب کہ مرکز میں ان کی حکومت نہیں ہے تو یہ رونا رونے لگے ہیں کہ مرکزی حکومت نے ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز روکے رکھا ہے جس سے ‘بہت سارے ترقیاتی کام’ رکے ہوئے ہیں۔

میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کی سرکار کو کس نے پورا ترقیاتی بجٹ استعمال کرنے سے روکا ہوا ہے؟ اقربا پروری کی جگہ شفافیت کیوں نہیں ہے؟ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع سے یکساں سلوک کیوں نہیں ہے؟ کیا موجودہ نظام کے اندر مناسب روزگار پیدا کرنے کے مواقع بھی نہیں؟ کیا یہ سیاستدان وزیر کبیر بنتے ہی بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی گلگت بلتستان کے اسی معاشرے میں پیدا ہوئے ہیں، انھی لوگوں میں سے ہیں اور انھی لوگوں کی بدولت ‘بڑے لوگ’ بنے ہوئے ہیں؟ کیا ان کو گلگت بلتستان کے جوانوں کی بے روزگاری کا احساس نہیں؟ گلگت بلتستان کے تیس لاکھ لوگوں کی غربت کا احساس نہیں؟ اگر ہے تو یہ لوگ پرفارم کیوں نہیں کررہے ہیں؟ اگر پرفارم نہیں کرسکتے تو استعفی کیوں دیتے؟

جب ہمارے رویے ہی خراب ہیں تو ہم مزید اختیارات لے کر کیا کریں گے۔ گلگت بلتستان کے آج تک بااختیار ہونے سے گلگت بلتستان کے عام آدمی کو کچھ فائدہ نہیں ہوا ہے۔ اس سے مین لینڈ پاکستان کی طرح چند خاندان طاقتور سے طاقتورترین ہوتے جارہے ہیں۔ یہی سلسلہ جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں جب یہاں بھی ان چند خاندانوں کی اجارہ داری ہوگی اور ایک یوٹوپیا معرض وجود میں آیے گا۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کو جو کچھ بھی ملا ہے اس میں سب کو شامل کیا جائے۔ کسی کی اداراجارہ داری نہیں ہونا چاہیے۔ گلگت بلتستان میں شرح خواندگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے لوگ خاص کر نوجوان اپنے حقوق و فرائض کو جانتے ہیں۔ ان کو بے وقوف بناکر یا ڈرا دھمکا کر حکمرانی کرنا مشکل ہے اور آنے والے وقت کو سوچ سمجھ کر استعمال نہیں کیا گیا تو اس کے منفی نتائج سامنے انا شروع ہوجائیں گے۔

جب تک ہمارے رویے سیدھے نہیں ہوتے، ہم نہ تو موجودہ نظام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور نہ ہی مزید اختیارات حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کل ہم کیا کیا وعدے کر رہے تھے اور آج کیا کررہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں ابھی حکمرانوں کے لیے احتساب کا کوئی نظام نہیں ہے۔ ایک وزیر ببانگ دھل نوکریاں فروخت کرکے پیسہ بنا لیتا ہے اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ شاید نظام کے اندر ان لوگوں کو یہ چھوٹ دی گئی ہے تاکہ وہ باغی نہ بنے۔ لیکن ایک مہذب معاشرے کے اپنے اقدار بھی ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستانی معاشرے میں چوری چکاری کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ وہاں کا معاشرہ باہمی میل جول ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور مثبت سوچ پر مبنی ہے۔ ان اقدار کو نقصان پہنچانے والا معاشرے کا دشمن ہے۔

ہمیں اگر حکمرانی کرنی ہے اختیارات حاصل کرنا ہے عزت اور طاقت پانا ہے تو پھر سب سے پہلے عام آدمی کو عزت دینا ہوگا اس کا خیال رکھنا ہوگا اس سے کیے گئے وعدے یاد رکھنا ہوگا۔ ہمیں سیاسی وعدوں کا نہیں تو معاشرتی اقدار کا پاس کرنا ہوگا۔ ورنہ قدرت کا اپنا نظام بھی ہے جو اوپر اٹھاتا ہے تو نیچے بھی گرا دیتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments