’’یتیمی سے اعتمادی تک‘‘ کا تنقیدی جائزہ

فکرونظر: عبدالکریم کریمی

گزشتہ تحریر میں استاد فدا علی ایثارؔ کی کتاب ’’یتیمی سے اعتمادی تک‘‘ کا علمی جائزہ لیا گیا تھا۔ اب کی بار کوشش ہوگی کہ اس کا تنقیدی جائزہ پیش کرسکوں۔ اصطلاحِ ادب میں کسی فن پارے یا تخلیق کی خوبیوں اور خامیوں کو بیان کرتے ہوئے ادب میں اس کا مقام تعین کرنا تنقید کہلاتا ہے۔

استاد کی کتاب کی خوبیوں پر سیر حاصل گفتگو ہوچکی ہے۔ اب ذرا کتاب کی کتابت اور فن پہ بات ہوجائے۔ مطالعہ کرتے ہوئے املا پر غور اور جملوں کی ساخت میں محو ہو جانا میرے لیے ایک فطری عمل بن چکا ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ الفاظ نہیں خیال کو دیکھنا چاہئے مگر کیا کیا جائے کہ انہیں اساتذہ نے ہی تو الفاظ کی صحت کا خیال رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔ ’’یتیمی سے اعتمادی تک‘‘ پڑھتے ہوئے اندازہ ہوا کہ اس کی طباعت و اشاعت میں انتہائی عجلت سے کام لیا گیا ہے۔ پروف ریڈنگ اور تذکیر و تانیث کی غلطیاں دکھائی دیں یہاں تک کی تصویروں کی کیپشن میں بھی غلطیاں تھیں تو حسرت رہی کہ کاش یہ نہ ہوتیں۔ فارمیٹنگ کی تو از سرِ نو ضرورت ہے۔ کہیں پہ کوما ’’،‘‘ نہیں تو کہیں پہ فل اسٹاپ ’’۔‘‘ دوسری لائین میں آیا ہے تو کہیں پہ الفاظ آپس میں مل گئے ہیں۔ سبز روشنائی سے میں نے شروع سے آخر تک کتاب میں موجود پروف ریڈنگ اور فارمیٹنگ کی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ استاد اگر مناسب سمجھے تو اشاعتِ دوم میں ان غلطیوں کو دُور کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ لفظوں اور نقطوں کا ہیر پھیر کبھی کبھی بہت مہنگا پڑتا ہے۔ بقول شاعر ؂

ہم دُعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا

میں کئی بار عرض کرچکا ہوں کہ یہ کتابت کا دَور رہا نہیں کہ کوئی خوش نویس کاتب اپنے فن سے کتاب کے صوری حسن کو چار چاند لگائے۔ یہ دَور ٹیکنالوجی کا دَور ہے۔ آج کل ہر کام کمپیوٹر کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس لیے ہر ادیب اور شاعر کو کمپیوٹر کی مہارت حاصل کر لینی چاہئے۔ یہاں ارضِ شمال کے ادیبوں اور شعراء کی تحریر اور شاعری میں کسی قسم کا جھول نہیں لیکن ہم عصر دُنیا کی جدید ٹیکنالوجی سے ناواقفیت کی وجہ سے ہمیشہ مار کھانی پڑتی ہے۔ استاد کی زیر نظر کتاب بھی ان مسائل سے دوچار نظر آئی۔ استاد سے گلہ بھی نہیں کہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے خود استعفادہ نہیں کرسکتے لیکن اپنے کسی شاگرد کو حکم دیتا کہ وہ اس کو کمپیوٹر کی نظر سے دیکھتا۔

تعارف میں بھی تبصرہ نگار نے روئیداد اور عدم دستیابی کو مذکر استعمال کرکے اردو ادب میں ایک نئی روایت کی بنیاد ڈالی ہے۔

اس کے علاوہ بعض لفظوں کو ملا کر لکھا گیا ہے جیسے کیلئے، اسلئے وغیرہ حالانکہ جدید ادب میں اس کی گنجائش نہیں۔ کے لیے، اس لیے الگ الگ لکھا جاتا ہے۔

اسی طرح ’’لئے‘‘ لکھا گیا ہے جبکہ یہاں ’’ء‘‘ کی جگہ ’’ی‘‘ مستعمل ہے جیسے لیے۔

کتاب میں دوئم سوئم وغیرہ لکھا گیا ہے جوکہ صحیح نہیں ادب میں یہ الفاظ ’’ء‘‘ کے بغیر لکھے جاتے ہیں جیسے دوم، سوم۔

صلوات کو کتاب میں صلٰوت لکھا گیا ہے جوکہ صحیح نہیں ہے۔ نبی کریمؐ کے نام کے ساتھ یہ صلوات ’’ﷺ‘‘ لکھی گئی ہے۔ یہ ادھوری صلوات ہے۔ نبی کریمؐ کے نام کے ساتھ پوری صلوات لکھنی چاہئے جیسے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ نبی کریم ؐ کی احادیثِ مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے ’’مجھ پر ادھوری صلوات نہ بھیجی جائے۔‘‘ پھر فرمایا گیا ’’جب بھی مجھ پر صلوات بھیجی جائے تو اس میں میری آل کا بھی ذکر ہو۔‘‘ ایک عالم دین ہوتے ہوئے نہیں معلوم استاد نے اس جانب کیوں توجہ نہیں دی ہے۔ حالانکہ یہ چیز تو شیعہ اسلام کے ماننے والوں کے عقائد میں شامل ہے کہ تب تک صلوات کا اجر نہیں ملتا جب تک صلوات میں محمد و آلِ محمد دونوں پر درود و سلام نہ بھیجا جائے۔

کتاب میں کئی جگہوں پر گویائی کو گویاء، چلاس کو چیلاس، تاجک کو تاجیک اور پیر ناصر خسروؒ قبادیانی کو قباد ’’پانی‘‘ لکھا گیا ہے۔

کتاب میں کچھ اداروں کے ناموں کا مخفف لکھا گیا ہے جیسے رپما، اطرب، آئی اے پی، آئی آئی ایس وغیرہ۔ یہ اصطلاحات عام قاری اور ان اداروں سے ناوقف قارئین کے لیے سمجھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ اگر ان کے ساتھ ادارے کا پورا نام بھی بریکٹ بھی لکھا جاتا تو بہتر ہوتا۔ جیسے رپما (راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، مردان اور ایبٹ آباد ریجن)، اطرب (اسماعیلی طریقہ اینڈ ریلیجئس ایجوکیشن بورڈ)، آئی اے پی (اسماعیلی ایسوسی ایشن پاکستان) اور آئی آئی ایس (انسٹیٹیوٹ آف اسماعیلی اسٹیڈیز) لندن۔

کتاب میں اسماعیلی طریقہ اینڈ ریلجئیس ایجوکیشن بورڈ کے ایگزیکٹیو آفیسر (ای او) کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) لکھا گیا ہے حالانکہ طریقہ بورڈ وہ واحد جماعتی ادارہ ہے جس کا سی ای او خود امام زمانہؑ ہیں۔

کتاب کے شروع میں بڑے ادبی پیرائے میں بات کی گئی ہے۔ ایک ایک لفظ سے ادب جھلکتا ہے جبکہ آخری حصہ ایک عام دفتری رپورٹ کا تأثر دے رہا ہے۔ پھر کچھ مخصوص لوگوں کا بار بار ذکر مزہ کرکرا کر دیتا ہے۔ تصویروں کے انتخاب میں بھی یہی تأثر ملا۔ حالانکہ استاد کا حلقہ احباب کافی وسیع ہے لیکن نہیں معلوم وہ یہاں ایک مخصوص حلقے تک محدود کیوں ہوگئے ہیں۔

سرگزشت میں جہاں بڑے سے بڑے واقعہ کو جگہ دی جاتی ہے وہاں چھوٹے سے چھوٹے واقعات کو بھی صرفِ نظر نہیں کیا جاتا۔ استاد کی اس سے پہلے بھی کچھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن کا ذکر تک اس کتاب میں نہیں ہے۔ جب میں کراچی تھا۔ ’’قندیل‘‘ کی ادارت میرے پاس تھی۔ میں نے استاد کا ایک تفصیلی انٹرویو لیا تھا۔ اس بارے میں بھی کتاب خاموش ہے۔

لیکن ان سب کے باوجود استاد کی کتاب ’’یتیمی سے اعتمادی تک‘‘ اہلِ دِل کی ترجمانی کا حق ادا کر رہی ہے۔ ان چیزوں کی نشاندہی اس لیے ضروری تھی کہ استاد کتاب کی اشاعت دوم میں ان چیزوں کا خیال رکھے کیونکہ یہ کسی عام آدمی کی کتاب نہیں۔ استاد کا اپنا ایک مقام ہے وہ نہ صرف اردو بلکہ عربی و فارسی پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ اندازِ بیاں بے مثال ہے۔ لگتا ہے وہ ہماری ہی بات کر رہے ہیں ؂

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

میں نے جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

مجموعی طور پر ’’یتیمی سے اعتمادی تک‘‘ ایک عہد کی کہانی ہے، ایک فردِ واحد کی نہیں ایک تحریک کی سرگزشت ہے۔ جس کا ایک ایک لفظ اپنے اندر معنی و مفہوم کی ایک دُنیا لیے ہوئے ہم سے ہم کلام ہے۔

آخری بات………… اوپر جو کچھ لکھا گیا وہ ادب کے ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کی حیثیت سے میرے ذاتی تجربات و مشاہدات ہیں۔ ادبِ عالیہ میرے یا کسی کے ایسے لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ وقت ثابت کرتا ہے کہ کیا آب ہے اور کیا سراب تھا۔ ’’یتیمی سے اعتمادی تک‘‘ پڑھ کر جس طرح کی خوشی ہوئی۔ وہ مسرت کہتی ہے کہ استاد کی اس کتاب کا شمار وطن عزیز سے شائع ہونے والی بہترین کتب میں ہوگا بشرط کہ کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں اوپر ذکر شدہ اغلاط پر توجہ دی جائے اور یہ بات تو حقیقت ہے کہ ایسی کاوشوں کی حال سے زیادہ مستقبل میں قدر ہوتی ہے۔

یار زندہ صحبت باقی!

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments