اشکومن: متاثرین بدصوات شدید سردی کے باوجود شیلٹرز میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

اشکومن(کریم رانجھا) بلہنز،بدصوات کے متاثرین سات مہینے گزرجانے کے باوجود معاوضوں سے محروم،اوپر سے شدید سردی نے جینا دوبھر کردیا،ہیٹنگ کا کوئی بندوبست نہیں۔ مقامی لوگوں کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت فراہم کردہ جلانے کی لکڑی پر گزارہ کررہے ہیں۔ حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔

ذرائع کے مطابق بالائی اشکومن کے دومواضعات 17جولائی 2018کو آنے و الے شدید سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوئے۔ نالہ بدصوات میں گلئشیر پھٹنے کے باعث آنے والے سیلاب سے پینتالیس گھرانے زیرآب آئے۔ سات ماہ گزر جانے کے باوجود ان متاثرین کو معاوضہ نہ مل سکا۔ جس باعث متاثرین کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان علاقوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق حالیہ برفباری کے باعث یہاں کے مکین شدید سردی میں انتہائی قابل رحم حالت میں زندگی گزاررہے ہیں۔ علاقے میں اب تک ڈیڑھ فٹ برف پڑچکی ہے جس سے آمدورفت میں شدید مشکلات ہیں۔
بلہنز پڑی کے مقام پر برفانی تودہ کی وجہ سے روڈ بلاک ہے ۔آمدورفت کے لئے تشنالوٹ سے ہوکر آنا پڑتا ہے۔

علاوہ ازیں علاقے میں اشیائے خوردونوش کی بھی شدید قلت ہے۔ متاثرین شدید سردی میں این جی او کی جانب سے بنائے گئے شیلٹرز میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

متاثرین کا مطالبہ ہے کہ دریا برد ہونے والے مکان اور زمینوں کا معاوضہ فی الفور ادا کیا جائے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments