قدرتی آفات کا رونما ہونا کلائمیٹ چینج کے اثرات میں شامل ہے، صوبائی سکریٹری ہلال احمر

ہنزہ (پ ر) گلگت بلتستان دنیا میں ایک ایسا خطہ ہے جہاں پر سالہاسال طرح طرح کے قدرتی آفات کے وقوع پذیر ہونے کے خطرات موجود رہتے ہیں جن میں سے زیادہ آفات کا رونما ہونا موسمیاتی تغیر میں تبدیلی یا کلائمیٹ چینج کے اثرات کا سبب ہے جس سے نمٹنے کے لئے عوامی سطح پر شعورواگاہی اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ہلال احمر گلگت بلتستان صوبائی سکریٹری نورالعین نے ہلال احمرپاکستان اور جرمن ریڈکراس کے باہمی اشتراک سے ادارے کے سٹاف اور رضاکاروں کے لئے کلائمیٹ چینج کے اثرات سے نمٹنے کے حوالے سے ہنزہ میں منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق عوامی الناس میں شعور اجاگر کرنے کے سلسلے میں ہلال احمرپاکستان نے جرمن ریڈکراس اور دیگر عالمی اداروں کے اشتراک سے ایک جامع منصوبے کا اجراء کیا ہے جس کے تحت نوجوانوں اور طلباء وطالبات کو موسمیاتی تبدیلی کے دیہی آبادی پر اثرات کے حوالے سے خصوصی تربیت فراہم کی جارہی ہے جسے وہ مزید وسعت دیکر عوامی سطح پر شعورواگاہی مہم چلانے میں ہلال احمرکے سفیرکے طورپر اپنی خدمات سرانجام دینگے جنہیں کلائمیٹ چمپین کا نام دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں کلائیمٹ چینج کے سبب گلئیشرز کاپگھلاؤ اور گلیشئائی جھلیوں کے پھٹ جانے کے نتیجے میں ندی نالوں میں سیلاب اور طغیانی کے باعث علاقے کے عوام کو بیش بہا نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، اسی تناظرمیں ان آفات کے خطرات میں کمی لانا عوامی شعوری مہم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس سلسلے میں ہلال احمرکی جانب سے مستقبل میں قراقرم یونیورسٹی سمیت دیگر اضلاع کے کالجوں کے طلباء وطالبات کو خاص تربیت فراہم کی جائیگی۔ اس سہ روزہ تربیتی ورکشاپ میں ادارے کے ماہرین نے شرکاء کو کلائمیٹ چینج، ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور دیگر موضوعات پر خصوصی لیکچرز دیئے جسے شرکاء نے بہت سراہا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments