چترال میں 14زبانیں بولی جاتی ہیں، چھوٹی زبانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر) کہواراہل قلم اورمئیرتنظیم کے زیراہتمام چترال میں مادری زبانوں کاعالمی دن منایاگیا۔اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروگرام کے مہمان خصوصی صلاح نظام صلاح،صدرمحفل پرنسپل ڈگری کالج چترال پروفیسر ممتازحسین ،ممتازماہرتعلیم کالم نگارڈاکٹرعنایت اللہ فیضی ،پروفیسرشفیق احمد،میئرکے صدرفریداحمدرضا،کہواراہل قلم کے سرپراست اعلیٰ محمدکوثرایڈوکیٹ اوردیگرنے کہاہے کہ مادری زبان کسی بھی شخص کی وہ زبان ہوتی ہے جو اسے ورثے میں ملتی ہے یعنی جس گھرانے اور خاندان میں وہ پیدا ہوتا ہے اس کی زبان بچے کی مادری یا ماں بولی زبان کہلاتی ہے۔ ہر سال 21فروری کو دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی طرف سے مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ 17نومبر 1999ء میں یونیسکو نے یہ دن منانے کا اعلان کیا اور 2000ء سے یہ پوری دنیا میں منایا جارہا ہے۔ 2008ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس حوالے سے قرارداد منظور کی اور 2008ء کو عالمی زبانوں کے سال کے طور پر منایا گیا۔ جس کا مقصد مادری زبان اور اس سے وابستہ ثقافتی و تہذیبی پہلووں کو اجاگر کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ چترال میں 14زبانیں بولی اورسمجھی جاتی ہیں۔زبانیں کہانیوں،گیتوں اورتاریخی روایات سے بھرپورثقافت کے خزانوں سے مالامال ہوتی ہیں۔وادی چترال میں میں بولی جانے والی 14زبانوں میں سے کئی ایسی ہیں جن کی بقاء کوسنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آج مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر ہم تجدید عہد کرتے ہوئے اس عزم کو دہراتے ہیں کہ ہم اپنی مادری زبانوں کو اتنی ہی اہمیت دیں گے جو اہمیت ماں جیسی دنیا کی عظیم ترین ہستی کو دیتے ہیں۔

نظامت کی فرائض پروفیسرظہورالحق دانش اوراقرارالدین خسرو انجام دے رہے تھے۔

پروگرام کے درسرے نشست میں محفل مشاعرہ کاانعقادکیاگیاجس میں عنایت اللہ اسیر،افضل اللہ افضل،ظہورالحق دانش،اقرارالدین خسرو،عبدالحسیب حسیب،ذوالفقار،جاویداخترجواد،فداالرحمن،سیدنذیرحسین شاہ نذیر،سرورسرور،انصارنغمانی،احسان اللہ احسان،محمدکوثرکوثراوردیگرکلام پیش کرکے حاضرین سے خوب دادحاصل کی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments