ہنزہ، دس سال گزرنے کے باوجود مسگر 3 میگاواٹ پاور منصوبہ زیر تعمیر

ہنزہ ( اجلال حسین: تجریاتی رپورٹ ) محکمہ برقیات کی عدم دلچسپی اور لاپروائی کی وجہ سے مسگر پاور منصوبہ مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ واٹر چینل اور پائپ کا کام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی ترسیل میں مشکلات پیدا کا سامنا ہے۔ محکمہ برقیات ہنزہ کے حکام درجن سے زائد سابق چیف سیکریٹریز اور سیکریٹریز برقیات کو منصوبہ کا مکمل ہونے کے متعلق بریفنگز دے چکے ہیں ۔

محکمہ برقیات ہنزہ کی عدم دلچپسی اور درجنوں گمنام کنٹریکٹر ز کی وجہ سے مسگر 3میگاواٹ پاور منصوبہ گزشتہ دس سال سے زائد کے عرصے سے ز یر تعمیر ہیں۔ 2008 میں شروع ہونے والا اس پاور منصوبے پر درجنوں کنٹریکٹرز نے کام کیا اور ایگریکٹو انجئنیرز کا تبادلہ ہو تے ہوئے چند افسران ریٹائر بھی ہو گئے مگر منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا۔

محکمہ برقیات ہنزہ کے حکام کے پاس مسگر پاور منصوبے سے متعلق ایک ہی تحریری بریفنگ تیار ہے وہ بریفنگ گزشتہ کئی سالوں سے تبادلہ اور موجودہ چیف سیکریٹریز اور سیکریٹریز برقیات کے علاوہ سابقہ و موجودہ سیاسی نمائندوں کودیتے ہوئے سب کو سبز باغ دیکھائے جارہے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ دنوں نو تعینات سیکریٹری واٹر اینڈ پاور گلگت بلتستان اورڈی سی ہنزہ کے ساتھ مسگر پاور منصوبہ کا معائینہ کیا اس موقع پر بھی وہی بریفنگ دی گئی۔ یہی بریفنگ کمشنر گلگت عثمان اور سابق سیکریٹری برقیات ظفر وقار تاج کو28دسمبر 2018کو دیا گیا تھا جنہوں نے سابق چیف سیکریٹری اور وزیر اعلی گلگت بلتستان کے خصوصی احکامات پر مسگر پاور منصوبے کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے 15مارچ سے قبل پائپ فیٹنگ کا کام مکمل کرنے کا تنبیہ دیتے ہوئے ایگزیکٹو انجیئنر اور دو سب ڈ ویثرنل انجینئرز کو معطل کرنے کو کہا تھا ۔

رات گئی بات گئی۔ محکمہ برقیات گلگت بلتستان کے دفاتر میں کوئی یاد داش نہ ہونے کی وجہ سے محکمہ برقیات ہنزہ کے حکام نے سابقہ دور کے کمشنر اور سیکریٹری کو وہی بریفنگ دیاجہاں پر گزشتہ کئی سالوں سے سابقہ افسران کو دیتے آرہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب میڈیا سروے کے مطابق مسگر پاور منصوبے کا کام انتہائی ناقص اور عدم دلچسپی سے ہو رہا ہیں۔ جہاں پر نہ کوئی کنٹریکٹر ہے اور نہ ہی محکمہ برقیات ہنزہ کی دلچسپی ہیں۔

عوامی حلقوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہنزہ میںن بڑھتی ہوئی بجلی کی بحران کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت و انتظامیہ مسگر پاور منصوبے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے غفلت برتنے والے محکمہ برقیات کے حکام اور کنٹریکٹرز کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے عوامی نوعیت کے منصوبے کو مکمل کرے۔ ششپر گلیشیر سے پانی بند ہونے کی وجہ سے گزشتہ چار ماہ کے دوران صوبائی حکومت تھرمل جنریٹر سے بجلی کی فراہمی پر تقریباً12کروڈ سے زائد کی رقم خرچ کر چکی ہیں۔ دریائے ہنزہ میں ایسے مواقع موجود ہیں جہاں سے کئی میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہیں لیکن محکمہ برقیات کے ماہرین کی عدم دستیابی کیوجہ سےہنزہ میں بجلی کا بحران پیدا ہوا ہیے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments