گھریلو تشدد اور دیگرمظالم کا شکار ہونے والی خواتین کے لیے دار الامان قائم کیا جا رہا ہے، وزیراعلی گلگت بلتستان

گلگت (کرن قاسم سے) وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ معاشرے میں خواتین کے مقام پرافراط و تفریط سے بچتے ہوئے اعتدال سے کام لینا ہوگا۔ معاشرے سے بغاوت کرکے کسی کو حقوق نہیں ملتے، بلکہ مزید رکاوٹیں کھڑی ہوجاتی ہے۔ انتہاپسندی جس شکل میں بھی ہوخطرے سے خالی نہیں ہوتی۔ ان خیالات کا اظہار بحثیت مہمان خصوصی وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے محکمہ ترقی نسواں حکومت گلگت بلتستان کے زیر اہتمام عالمی یوم خواتین کے مناسبت سے منعقدہ تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیر اعلی نے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان میں خواتین کی مضبوطی پر یقین رکھتی ہے اور اس کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ خواتین اپنی بہتری کے لیے خود فورم تشکیل دے، حکومت مدد فراہم کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے خواتین نے علاقائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی نمائندگی نظر آ رہی ہے۔

وزیر اعلی نے مزید کہا کہ زمانہ جاہلیت میں بیٹی پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کیا جاتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے بعد خواتین کو تحفظ دیا گیا۔ اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیے دنیا کے کسی مذہب میں نہیں دیئے۔ حضرت خدیجۃالکبریٰ، حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت فاطمہ الزہرا خواتین کے لیےعظیم مثالیں ہیں۔ برطانیہ جو جمہوریت کا علمبر داربتایا جاتا ہے وہاں پر 250 سال تک خواتین کو ووٹ دینے کا حق نہیں تھا، لیکن اسلام نے خواتین کو بہت حقوق دیے ہیں۔

حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ خواتین کے لئے سرکاری اداروں میں بھی کوٹہ مقرر ہے۔ انجینئرنگ اور میڈیکل کے شعبوں میں خواتین کے لیے بھی کوٹہ مختصں ہے۔ اسمبلی میں بھی خواتین کے لئے کوٹہ مقرر ہے۔ اگر خواتین جنرل الیکشن میں حصہ لے کر منتخب ہو کر اسمبلی میں آئے تو وہ اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی بہتراندازمیں کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں خودکشیوں کے بڑھتے واقعات تشویشناک ہے۔ خودکشیوں کے روک تھام اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیےحکومتی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ گلگت بلتستان کے خواتین کے لئے صحت مندانہ سرگرمیوں کے لیےخواتین پارک بہت جلد قائمی کیا جا رہا ہے۔ خواتین جو گھریلو تشدد اوردیگر مظالم کے شکار ہیں میں ان کے لیے دار الامان قائم کیا جا رہا ہے۔ پرائمری سطح کے سکول خواتین اساتذہ کے حوالے کیا جا رہا ہے تاکہ چھوٹے بچوں کو خواتین بہتر انداز میں پڑھا سکیں گے۔ جو خواتین کاروبار کر رہی ہے اور کاروبار کے ذریعے گھر کی کفالت کر رہے ہیں ایسے خواتین کے لیے بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ خواتین بہتر انداز میں اپنےخاندان کی کفالت کرسکیں۔

وزیر اعلی نے کہاکہ گلگت بلتستان میں خواتین کے لئے الگ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ خواتین کو اعلی تعلیم کے مواقع ان کے گھر کے دہلیز پر میسر ہوں گے۔ سرکاری محکموں کےملازمتوں میں خواتین کے لیے مختص کوٹے میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

حافظ حفیظ الرحمن نے خواتین کی جانب سے لگائے گئے اسٹالز کا دورہ کیا اور ہاتھ سے بنائی گئی مصنوعات اور دستکاری کی تعریف کی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments