ڈپٹی کمشنر کرکٹ ٹورنامنٹ‌جیتنے والی ٹیم کو صرف بیس ہزار روپے دینے پر کوہستان میں‌شائقین بپھر گئے، شاہراہ قراقرم پر دھرنا

کوہستان ( نامہ نگار) ضلع اپر کوہستان کی ضلعی انتطامیہ کی جانب سے منعقدہ پہلا ڈپٹی کمشنر ٹورنامنٹ میں مبینہ مالی بدعنوانی کے خلاف جیتنے والی ٹیم احتجاجاً شاہراہ قراقرم پر آگئی جہاں لوگوں کے جم غفیرنے  ڈیڑھ گھنٹے شاہراہ قراقرم بلاک کرکے دھرنا دیا ،  جس سے شاہراہ کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی اور گلگت روالپنڈی میں سفر کرنے والے مسافر پریشان ہوگئے ، اتوار کے روز راجکوٹ اور کے کے آر کی کی کرکٹ  ٹیموں کے مابین اس ٹورنامنٹ کا فائنل ایف سی گراؤنڈ میں کھیلا گیا جہاں پہلے ہی ایف سی اہلکاروں کی جانب سے مقامی تماشائیوں کے ساتھ ناروا سلوک جاری رہا اور لوگوں کو ایک گھنٹے تک گروانڈ کے باہر کڑی دھوپ پر بٹھایا گیا ، خصوصی مہمانوں کی آمد کے بعد کھیل شروع ہوا جسے کے کے آر نے جیت لیا.

 اختتامی تقریب میں انعامات تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا تو جیتنے والی ٹیم کو صرف بیس ہزار روپے انعام میں ملے جس پر کھلاڑی برہم ہوگئے اور احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ قراقرم کی طرف اُمڈ آئے، اس تقریب میں ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان مہمان خصوصی تھے ۔

مظاہرے کی قیادت کے کے آر کرکٹ ٹیم کے کپتان فضل اکبر کررہے تھے۔ٹیم  کے ساتھ اظہار ہمدردی میں کمیلہ شہر کے عوام کثیر تعداد میں شاہراہ پہ جمع ہوئے۔

کھلاڑی فضل اکبر نے میڈیا کو بتایا کہ دو لاکھ بہتر ہزار روپے انتظامی کمیٹی نے جمع کئے تھے جس میں ایک لاکھ باون ہزار ضلعی انتظامیہ اور ایک لاکھ بیس ہزار منیجمنٹ کمیٹی نے کھلاڑیوں سے جمع کیا تھا جسے ہڑپ کرلیا گیا ہے اور ہمیں صرف بیس ہزار روپے دیے گئے ہیں، جو کہ سراسر ناانصافی ہے ۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کمیٹی ممبران اور ضلعی سپورٹس افسر کا احتساب کیا جائے جب تک احتساب نہیں ہوگا وہ شاہراہ قراقرم کو بلاک رکھیں گے ۔ احتجاجی مظاہرہ عصر سے قبل شروع ہوا اور رات گئے مذاکرات کے بعد ختم کیا گیا ، تاہم کھلاڑیوں نے حقوق نہ ملنے کی صورت میں دوبارہ  احتجاجی مظاہرہ کرنے کا عندیہ دیاہے۔

 اس سے قبل ضلعی سپورٹس افسربرکت شاہ  نے ایف سی گراونڈ میں صحافیوں کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے ڈیڑھ لاکھ روپے اس ٹورنامنٹ کیلئے رکھے گئے تھے جن میں شروع سے آخر تک تمام اخراجات شامل تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments