داسو میں‌ مقامی اور غیر مقامی لیبرز کے مابین کشیدگی کا خاتمہ، دونوں‌گروہوں‌کو یکساں‌سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ

کوہستان(نامہ نگار) داسو پروجیکٹ ، جرگے کی کوشش رنگ لے آئیں مقامی اور غیر مقامی لیبرز کے مابین کشیدگی مذاکرت کے ذریعے ختم کرادی ، کمپنی کا دونوں گروپوں کو یکساں سہولیات میسر کرنے کا فیصلہ

تفصیلات کے مطابق چائنہ غضوبہ کمپنی میں کام کرنے والے مقامی اور غیر مقامی لیبرز کے مابین ہونے والی لڑائی کی بنیاد پر جاری کشیدگی جرگے کے ذریعے ختم کرادی گئی ۔ اس ضمن میں کمپنی کی جانب سے دنوں گروپوں کو یکساں سہولیات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔مقامی مزدوروں کا مطالبہ تھا کہ ہمیں وہ مراعات دی جائیں جو غیر مقامی افراد کو دی جارہی ہیں جس پر وہ ہڑتال پر گئے تھے ، توں تکرار کے بعد مقامی اور غیر مقامی لیبرز کی ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی جس سے داسو پروجیکٹ پر کام کرنے والے تمام مزدوروں نے ہڑتال کررکھا تھا۔ پیر کے روز جرگہ ممبران میں سے مولانا عطا الرحمن ، مولانا عبدالحکیم ، مولانا عزیز الرحمن ، عبدالجبار خان ، مولانا میرہزار خان اور ایس ایچ اوتھانہ داسو کی مسلسل تین روز کی جدو جہد کے بعد دونوں گروپوں میں صلح کرادی گئی ۔ اس موقع پر سی جی جی سی کمپنی کے افسران میں سے مسٹر لیو اور مسٹر چو بھی موجودتھے۔

کمپنی افسران نے میڈیا کو بتایا کہ یہ معاملہ کمپنی کا داخلی ہے جسے غیر ضروری طورپر اچھالا جارہا تھا ، ہمیں تمام لیبرز یکساں ہیں اور تمام لوگوں کے ساتھ کمپنی کے رولز کے مطابق اچھا برتاو کیا جارہاہے ۔ بعدا ازاں جرگہ ممبران نے یہ فیصلہ سنایا کہ آئندہ کیلئے پروجیکٹ میں آسامیاں پیدا ہوں تو باقاعدہ طورپر کمپنی مشتہر کرنے کی پابند ہے جس کے ذریعے مقامی افراد کو تمام تر نوکریوں میں ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کیا جائیگا اور جو لیبرز کمپنی قواعد اور روزلز کی خلاف ورزی کرے انہیں کمپنی سے نکال دیا جائگا ۔ اس سے قبل جتنے مقامی لیبرز کو نکالا جاچکا تھا انہیں اپنی پوزیشنز پر بحال رکھا جائیگا۔جرگہ ممبران نے بتایا کہ داسو پروجیکٹ کی تمعیر میں مقامی سطح پر ہر طرح کا تعاون کیا جارہاہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ اس قومی نوعیت کے پروجیکٹ پر کام تیز کرے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments