فلاح انسانیت کے لئے جاری رضاکارانہ خدمت کو مسلکی رنگ دینا بدنیتی پر مبنی ہے، شدید مذمت کرتے ہیں، ہنزہ تھنکرز فورم

اسلام آباد (پ ر) سول سوسائٹی ادارے ہنزہ تھنکرز فورم کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک مقامی اخبار میں شائع شدہ نام نہاد خبر کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ فلاح عامہ کے لئے کام کرنے والے رضاکاروں کو مسلک کی بنیاد پر نشانہ بنانا اور ان کی حوصلہ  شکنی کرنا قابل مذمت ہے۔ پوری دنیا میں رضاکارانہ کام کرنے والوں کی قدر ہوتی ہے جبکہ یہاں نام نہاد صحافی من گھڑت اور بے بنیاد خبریں بنا کر ان کی مسلکی بنیادوں پر حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ذاتی مفادات کے حصول میں ناکامی کے بعد منفی ہتھکنڈے استعمال کرنے اور مسلکی نفرت پھیلانے والے افراد اور ‘نام نہاد صحافیوں’ کو لگام دی جائے۔

ہنزہ تھنکرز فورم نے کہا ہے کہ مخصوص مسلک سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف مذہبی منافرت پر مبنی یہ خبر سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ اس طرح کی حرکتوں سے رضاکارانہ کام کرنے والوں کو دیوار سے لگانے اور انہیں بدظن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ مال، علم اور وقت کی قربانی دے کر فلاح عامہ کے اداروں میں رضاکارانہ خدمات سرانجام دینے والوں پر من گھڑت الزامات اور اور جھوٹ پر مبنی خبریں قابل مذمت ہیں۔

ہنزہ تھنکرز فورم نے مزید کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی ترقی میں اس مسلک کے کردار کو علاقائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، اور صدر مملکت سے لے کر وزیر اعظم اور دیگر سیاسی و سماجی زعما اس مسلک کے پیروکاروں کو ترقی کے حوالے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں فقید المثال کارنامے سرانجام دیے ہیں۔ امن پسندی ان کی شناخت ہے اور ان کا ہر عمل عالم انسانیت کی خدمت کے لئے ہوتا ہے۔

ہنزہ تھنکرز فورم کے معزز ممبران نے کہا ہے کہ مخصوص مسلک کو نشانہ بنانے والے اس اخبار کے مالکان، مدیروں اور صحافیوں کو آزادی گلگت بلتستان اور ترقی گلگت بلتستان و پاکستان میں اس مسلک کے کردار کے بارے میں معلومات کی شدید ضرورت ہے۔ اس مسلک سے تعلق رکھنے والے شہدا اور غازیوں نے ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے قربانیاں دے کر مثالیں قائم کی ہوئی ہیں۔ ایسے مسلک کو ذاتی مفاد کی خاطر نشانہ بنانا اورتعلیم یافتہ و ہنر مند رضاکاروں کی حوصلہ شکنی کرنا انتہائی افسوسناک ہے، اور اس کی ہم شدید الفاظ میں پرزور مذمت کرتے ہیں۔

ہنزہ تھنکرز فورم کے سینکڑوں معزز ممبران جن میں ہنزہ کے سیاسی، سماجی و کاروباری حلقوں سے تعلق رکھنے والے علیٰ تعلیم یافتہ افراد شامل ہیں، اس رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس رپورٹ کو مرتب کرنے والے صحافی، ایڈیٹر اور اخبار کے مالک کے خلاف متعلقہ صحافتی فورمز ایکشن لیں، تاکہ بغیر کسی ثبوت کے کسی بھی مسلک یا مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانا آپس میں نفرت پیدا کرنے کا سبب نہ بن سکے. ایکشن نہ لینے کی صورت میں احتجاج کرنا اور عدالت جانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں.

مقامی روزنامے میں چھپنے والے اس بیان کو ہنزہ تھنکرز فورم مخصوص مسلک کے ملازمین کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش سمجھتا ہے. اور خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے محرومیوں کو ہوا دی جارہی ہے۔ اس طرح کے من گھڑت خبر کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی کاروائی کو مخصوص مسلک کے خلاف کاروائی تصور کی جائے گی۔

ہنزہ تھنکرز فورم نے مزید کہا ہے کہ وہ ہنر مند اور تعلیمیافتہ افراد کی رضاکارانہ فلاحی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایسے آفیسرز اپنے منصبی فرائض بخوبی سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ فلاح عامہ کے کام جاری رکھیں گے تو علاقے کی مزید خدمت ہوگی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے لیڈرز پر فخر ہے، جو سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ فلاح عامہ کے کام کرتے ہیں، اور سماجی ترقی کے عمل کو مہمیز دیتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments