پانچ ہزار میں ٹراوٹ کے شکار کا لائسنس دینا کمیاب مچھلی کی نسل کشی کے مترادف ہے، عوامی حلقے برہم

غذر(محمدایوب)پانچ ہزار کے بدلے کمیاب مچھلی کی نسل کشی کا لائسنس دینا سراسر ناانصافی ہے۔محکمہ ٹراوٹ مچھلی کی نسل کشی پر تلا ہوا ہے۔غذر بھر میں دو سال تک مچھلیوں کے ہر قسم کے شکار پر مکمل پابندی عائد کردیا جائے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق دنیا کی نیاب ٹراوٹ کی غیر قانونی شکار عروج پر ہے۔سورچ کے ڈھلتے ہی دریا کے کنارے شکاریوں کی لائینیں لگ جاتی ہیں۔یہ سلسلہ پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے۔ایک طرف مچھلی کا غیر قانونی شکار عام ہے تو دوسری طرف محکمہ فشریز خود پانچ ہزار روپے میں پورے سیزن کے لئے لائسنس جاری کردیتا ہے۔جس کی آڑ میں لوگ بھاری شکار کرکے فروخت کردیتے ہیں۔جس کے باعث اس نیاب مچھلی بقا خطرے میں پڑسکتی ہے۔عوامی حلقوں کا کنہا ہے کہ دریا غذر میں اب ٹراوٹ نیاب ہورہی ہے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اگلے ایک دو سال میں دریائے غذر میں ٹراوٹ ختم ہوجائے گی۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم دو سال تک مچھلی کی شکار پر مکمل پابندی عائد کریں تاکہ نیاب مچھلی کی افزائش ہوسکے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments