سیکریٹری جنگلات خیبر پختونخواہ کی من مانی اور لکڑی کی ترسیل پر “غیر قانونی” پابندی کے خلاف داریل تانگیر کے عوام مشتعل

چلاس (شہاب الدین غوری سے) خیبر پختونخواہ حکومت کی ایما پر سیکرٹری محکمہ جنگلات خیبر پختونخواہ نے دیامر کے علاقے داریل اور تانگیر سے ڈاون کنٹری لیجائی جانے والی پالیسی عمارتی لکڑی کی ترسیل پر غیر قانونی پابندی لگا دی ہے ،جس کے خلاف داریل اور تانگیر کی عوام نے داریل سے لانگ مارچ کرکے شاہراہ قراقرم بسری کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بلاک کر دیا اور احتجاجی دھرنا دے دیا،داریل اور تانگیر سے ہزاروں عوام شاہراہ قراقرم پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور خیبر پختونخواہ حکومت اور سیکریٹری فاریسٹ کے خلاف سخت نعرے بازی کی ۔ دھرنے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی معطل ہوئی اور مسافروں کی پریشانی قابل دید تھی ،

دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ حکومت کے اندر بھتہ خور بیٹھے ہیں اور محکمہ جنگلات کے پی کے دیامر سے جانے والی قانونی عمارتی لکڑی کی ترسیل میں بھتہ خوروں کیساتھ مل کر رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔شاہراہ قراقرم پر دھرنا دیئے بیٹھے مظاہرین کا کہنہ ہے کہ ابیٹ آباد کا ایک شہری نے 1923 کی دہائی کا ایک نام نہاد،جعل ساز اور خود ساختہ معاہدہ کو لیکر داریل کی جنگلات اور ملکیت پر دعوا کر دیا ہے اور ایبٹ آباد کے عدالت میں سٹے لیکر یہاں سے اندرون شہر جانے والی عمارتی لکڑی کی ترسیل رکوادیا ہے،جس کا کوئی قانونی حثیت نہیں ہے۔ابیٹ آباد کی شہری نے داریل کی جنگلات پر دعوا کیا ہے اور اس کا کیس گلگت بلتستان کے عدالتوں میں دائر کرنے کے بجائے دوسرے صوبے کی عدالتوں میں دائر کیا ہے جو کہ غیر قانونی ہے،

احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سابق رکن اسمبلی،حاجی رحمت خالق،چوہدری لوبان،عبدالقیوم،سیف اللہ،نمبردار بشیر،رقیب و دیگر نے کہا کہ داریل اور تانگیر کی عوام نے 1952میں الحاق پاکستان کے دوران مشروط طور پر پاکستان کے ساتھ باضابطہ الحاق کیا تھا جن میں ایک جنگلات اور معدنیات پر یہاں کی عوام کی ملکیت کا معاہدہ شامل ہے،آج خیبر پختونخواہ سے ایک شخص 1923 کے دور کے کچھ خود ساختہ نقولات دیکھا کر داریل کی جنگلات پر اپنی ملکیت کا دعوا کرکے یہاں کی عوام کو بلیک میل کرنے کی کوشش کررہا ہے،ہندوں کی زمانے کے نقولات دیکھانے سے کسی کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی،ہندوں اور ڈگروں کو تو یہاں کی عوام نے یہاں سے بھگایا اور اس علاقے کو فتح کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ٹمبر پالیسی کی مدت ختم ہونے کو ہے اور داریل تانگیر میں پالیسی کے لاکھوں فٹ عمارتی لکڑی جن کی لاگت اربوں میں ہے داریل اور تانگیر میں پڑی ہوئی ہے ،اگر یہ لکڑی پالیسی کی مدت ختم ہونے سے پہلے اندرون شہر منتقل نہیں ہوتی ہے تو نہ صرف یہاں کی عوام کا بڑا معاشی نقصان ہوگا بلکہ حکومت کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ سیکریٹری فاریسٹ خیبر پختونخواہ بھتہ مافیا سے ملا ہوا ہے اور کے پی کے حکومت کا اُن کو سپورٹ حاصل ہے،جس کی وجہ سے دیامر کی لیگل عمارتی لکڑی کو اندرون شہر لیجانے کی اجازت نہیں مل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ حکومت کے اعلی حکام اس حساس معاملے کا نوٹس لیں اور بھتہ خوروں کو سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص اس قسم کی گھناونی حرکت سے باز آسکے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان، فورس کمانڈر،وزیر اعلی،اور خیبر پختونخواہ کے اعلی حکام اور ریاستی ادارے اس معاشی دہشت گردی کا نوٹس لیں ورنہ داریل تانگیر کی عوام سخت اقدام اُٹھانے پر مجبور ہونگے ۔اس موقع پر دھرنا دینے والے مظاہرین کے ساتھ ڈپٹی کمشنر دیامر امیر اعظم حمزہ نے مذاکرات کئے اور ہفتے کے صبح دس بجے تک کیلئے شاہراہ قراقرم ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بحال کرادی ۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments