ایک مہذب معاشرے کی تشکیل میں قانون کا عمل دخل

تحریر : ایڈوکیٹ حیدر سلطان

راولپنڈی سے اسلام آباد کیلیے ٹیکسی بک کریں اور ٹیکسی ڈراٸیور پہ نظر رکھیں ۔ جوں ہی اسلام آباد کی حدود میں آپ داخل ہونے لگیں گے تو آپ نہ صرف ڈراٸیور کو سیٹ بیلٹ باندھتے ہوۓ دیکھیں گے بلکہ اس کے ڈراٸیو کرنے کے انداز میں بھی خاصی تبدیلی محسوس کریں گے چاٸینیز جب شروع شروع میں پاکستان آٸے تھے تو ان کے بڑے چرچے تھے کہ وہ قانون کی کتنی پاسداری کرتے ہیں ، کرپشن اور کرپٹ پرکٹسز سے ان کا دور دور تک کوٸی تعلق نظر نہیں آتا تھا ۔ کہتے ہیں خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ، اب دو ہی راستے تھے یا تو ہم پاکستانی ان سے کچھ سیکھتے یا پھر چاٸینیز ہم پاکستانیوں سے۔ چنانچہ ہمارے مقابلے ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی اور پاکستانی قوانین میں موجود گنجاٸش بھی کسی حد تک اثر کر گٸی تو مختلف شعبہ ہاٸے زندگی سے تعلق رکھنے والے چاٸینیز ہمارے رنگ میں رنگ گٸے یوں آہستہ آہستہ وہ بھی کرپشن اور کرپٹ پرکٹسز کے عادی ہوتے گٸے ۔ میگا پراجکٹس میں ہمارے لوگوں کیساتھ مل کر کرپشن کرنا تو معمول کا حصہ تھا ہی مگر حالیہ دنوں نیوز چینلز اود اخبارات کے زریعے جو چیزیں دیکھنے اور سننے میں آرہی ہیں وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ اب کی بار چاٸینیز نے نہ صرف ہمارے ریاستی قوانین کا غلط فاٸدہ اٹھایا بلکہ اسلام قبول کرنے کا جھٹا ڈھونک رچا کر عزتوں کو بھی پامال کیا ۔ جب کوٸی غیر ملکی ٹوریسٹ چلتے چلتے جوس پینے کے بعد خالی ڈبہ روڈ پہ پھینکنے کے بجاۓ اپنے بیگ میں ڈالتا ہے تو ہم صفاٸی کو نصف ایمان کہنے والوں اور جوس کے خالی ڈبے کو چلتی گاڑی کے ٹاٸیر کے نیچے پھینک کر ٹھاہ کی آواز سننے کے شوقین لوگوں کو یہ سب عجیب لگتا ہے اور ہم اندر ہی اندر شرمندگی بھی محسوس کرنے لگتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے کہ پنڈی سے اسلام آباد جانے والا ٹیکسی ڈراٸیور بیک وقت دو روپ دکھاتا ہے اور ایک خاص مقام پہ وہ مہذب نظر آنے لگتا ہے ؟؟ وہ چاٸینیز جو پاکستان آنے کے بعد ایک عرصے تک مہذب نظر آتے تھے ، گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ غیر مہذب کیسے ہوگٸے ؟؟ انگریز جوس کے ڈبے کو روڈ پہ پھینکنے کے بجاٸے اپنے بیگ میں ڈال کر اسے پھینکنے کیلیے موضوع جگہ کی تلاش کیوں کر کرتا ہے ؟ کیا یہ عادتیں اسے باٸی برتھ ملی ہیں ؟؟ بعید نہیں کہ اگر جوس کا خالی ڈبہ ہاتھ میں لیکر ڈسٹ بین اور موضوع جگہے کی تلاش کرنے والا انگریز اگر ہمارے ساتھ ایک لمبا عرصہ گزارے تو وہ بھی ڈسٹ بین کے بجاٸے چلتی گاڑی کے ٹاٸر کے نیچے ڈبہ کو پھینک کر ٹھاہ کی آواز سن کر لطف اندوز ہونے لگے ۔ کوٸی معاشرہ از خود مہذب نہیں ہوتا ، نہ ہی مہذب ہونے کے پیچھے مزہب کا زیادہ عمل دخل ہوتا ہے اگر مہزب معاشرہ کا قیام مزہب سے ہوتا تو اسلام کے نام پہ قاٸم مملکتیں آج اخلاقی اقدار میں نمونہ عمل ہوتی مگر جس دور میں ہم جی رہے ہیں ہمارےحالات اسلامی اقدار سے یکسر مختلف ہیں۔ جھوٹ ،فریب، دھوکھہ دہی ، ناپ تول میں دو نمبری ، قتل و غارت گری ، اصولوں پہ سودے بازی اور معاملات میں دوغلا پنی میں بحیثیت قوم ہم نمبر ون ہیں اور کوٸی غیر مسلم معاشرہ ان معاملات میں ہمارا مقابلہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا مگر ہمیں یہ پڑھایا گیا ہے کہ کہ ہمارے اعمال جو مرضی ہوں ہمارا ایمان ہمیں جنت کی جانب کھینچ کر لے جاٸے گا اور غیر مسلموں کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے چاہے ان کے اعمال اسلام کے عین مطابق ہی کیوں نہ ہوں ۔ انفرادی عادتیں ہوں یا اجتماعی ہمارے مُعاشرے کو تباہی کے کنارے کھڑا کرنے میں جو وجوہات سرِ فہرست ہیں،ان میں سے ایک بڑی وجہ سزا و جزا کے قوانین پہ عملدرآمد نہ ہونا ہے، لاقانونیت ہمارے مُعاشرے میں اپنی جڑیں اتنی مضبوط کر چکی ہے کہ اب یہ ایک قد آور درخت بن چکا ہے اور مُعاشرے کا تقریباً ہر طبقہ اس کی لپیٹ میں ہے۔ جھوٹ دھوکہ دہی ، چوری چگلی اور قتل و غارت گری کرتے ہوٸے کوٸی پکڑا جاٸے تو بڑے اطمینان سے کہنے لگتا ہے بھٸ پاکستان ہے، سب چلتا ہے!!! اور جب تک سب چلتا ہے کو قانون کے زریعے لوگوں کے زہنوں سے نہ نکالا جاٸے گا تب تک ایک مہذب معاشرے کا خواب ، خواب ہی رہے گا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments