پانی زندگی ہے! …. نعمت بھی …. اور بیماریوں‌کی وجہ بھی

تحریر:شفیع اللہ قریشی

ضلعی انتظامیہ نے روزہ رکھ کر انوکھا طرز عمل رویہ اختیار کیا ہے،انکی افطار کے لیے وقت ضرور لگے گا مگر یہاں افطار سے بھی زیادہ اہم ہے۔۔۔ہوگا۔ایک سروے رپورٹ کے مطابق دیامر میں زیادہ تر لوگ گندہ آلودہ پانی کے استعمال سے مختلف موضی امراض میں مبتلا ہوتے ہے.ضلعی انتظامیہ کے تمام وعدوں کا دھم گھٹ چکا ہے،محکمہ ہیلتھ گلگت بلتستان کا شعبہ غفلت کی گہری نیند سو گئی،ضلعی ہیڈ کوارٹر چلاس شہر سمیت پورے ضلع میں مہلک بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ سامنے آگئی۔جس میں ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت جی بی کی لاپرواہی سے غریب عوام عاجز آگئے۔آئے روز بیماریوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔عوامی حلقوں کی جانب سے انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے اس رویہ سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔

فوکس دیامر نو مہلک بیماریاں(ٹی بی،خسرہ،پولیو، خناق، نمونیہ، گردن توڑ بخار، یرقان وغیرہ) جو دنیا سے تقریباًختم ہو چکی ہیں لیکن پاکستان سمیت گلگت بلتستان میں جنگل کی آگ کی طرح بڑھتی جارہی ہیں اس کی کئی وجوہات ہیں محکمہ صحت کی غفلت، والدین کا ویکسی نیشن سے انکار اور ماحولیاتی آلودگی بنیادی وجہ ہے جس میں زہر آلود زدہ پانی سر فہرست ہے اس وقت ضلعی ہیڈکوارٹر میں گندے نالوں جو تقریباً سب کے سب اوپن ہیں جہاں ان کی بدبو بیماریوں کا باعث بنتی وہیں ان کا پانی زیر زمین صاف پانی کو آلودہ کرنے کا بھی باعث ہے۔حکومت کی جانب سے ان گندے نالوں کو ڈھانپنے کے حوالے سے متعدد کوششیں تو وقت پر نظر آتی ہیں لیکن ان کوششوں میں کامرانی دکھائی نہیں دیتی۔

شہر کو پینے کے پانی کا سپلائی واحد نالہ بٹوگاہ ہے جہاں سے پائپ لائن منصوبے سے گزر کر شہر کے اندر مخلتف مقامات پر تین مخصوص(ہرپن داس۔پی ڈبلیو ڈی۔شاہین ولیج) ٹینک بنے ہوئے ہیں جس میں زہر آلود پانی سے بیکٹیریا جراثیم پیدا ہوتے ہیں محکمہ واٹر اینڈ پاور اور ضلعی انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں۔جس کے باعث شہر میں لوگ مخلتف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔یہ پانی ایک میگاہ واٹ بجلی گھر کے سٹوریج ٹینک جہان شہری ہر روز غسل کرتے ہیں وہاں سے بجلی گھر مشینوں میں لوہے سے رگڑ کر گزر جاتا ہے جہاں سے شہر کو بجلی مہیا ہے۔گزر کر اوپن نالی میں آتا ہے پھر لکیج نما پائپ سے ایک چھوٹی سی واٹر ٹینک جہاں مال مویشیوں کا پیشاب شامل اور جانور پانی پیتے ہے پھر بغیر فلٹریشن ٹینک کے میں جمع ہو کر شہر کے اندر مخلتف مقامات پر بنے ٹینک میں آتا ہے اور شہریوں کو پینے کے لیے وقت وقت پر سپلائی کیا جاتا ہے۔”پینے کے صاف پانی کو ہر ماہ بعد واٹر کلورینیشن کی اشد ضرورت ہے۔واٹر ٹینگو میں خاص قسم کے کیمیکلز ڈال کر ایک مخصوص بیکٹریا گندے پانی میں ملانے سے ڈرین کے زہریلے گندے پانی کے مہلک جراثیم مار کر بدبو جو کہ کئی مہلک بیماریوں کا باعث بنتی ہے کو ختم کر دے گا”۔مگر ایسا خیال کسی کو بھی نہیں آیا۔بٹوگاہ نالہ جو کسی دور میں صاف شفاف نالہ تھا اب محض نالے سے لیکر واٹر ٹینک تک رینگتا ہے وہ بھی گندے نالے کی صورت میں۔ عوامی حلقے کہتے ہیں کہ اگر اس کو آلودگی سے پاک کر دیا جائے تو اس کا پانی آبی حیات اور فصلوں کے لئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

صاف پانی ایک صحت مند معاشرے کی اولین ضرورت ہے اور انسان کا بنیادی حق ہے جسے مہیا کرنا ضلعی انتظامیہ کا کام ہے۔وطن عزیز میں بجلی اورگیس کی لوڈ شیڈنگ کے بعداب پانی بھی نہ صرف نایاب ہوتا چلا ہے بلکہ پینے کے صاف پانی کے معیار کے حوالے سے منظر عام پر آنے والے کچھ تلخ حقائق کے مطابق اب یہ نعمت بھی انسانی صحت کیلئے غیر محفوظ ہے۔قومی تحقیقاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پینے کا 82 فیصد پانی انسانی صحت کیلئے غیر محفوظ ہے۔ واٹر ریسرچ کونسل کی رپورٹ کے مطابق ملک کے 23بڑے شہروں میں پینے کے پانی میں بیکٹیریا ‘ آرسینک،مٹی اور فضلے کی آمیزش پائی گئی ہے۔چلاس سمیت پورے ضلع دیامر میں 98 فیصد پانی غیر محفوظ اور زہر آلود ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے پینے کے پانی کا فقدان پر قابو تو پایا مگر افسوس صد افسوس کہ اس گدلہ آلود زہریلے پانی کو صاف اور شفاف بنانے کے لیے خیال کبھی نہیں آیا جلد اس پر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔لہذا فورس کمانڈر شمالی علاقہ جات میجرجنرل احسان محمود خان،وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن،چیف سیکٹری گلگت بلتستان خرم آغا،سیکٹری ہیلتھ اور کمشنر دیامر،ڈپٹی کمشنر دیامر سے پرزور اپیل ہے کہ اس مہلک بیماریوں کا سبب بنے والا زہر آلود پینے کے پانی کو صاف اور شفاف بنانے کے لئے حکومتی سطح پر تھوس اقدامات کر کے عملی جامہ پہنایا جائے اور اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments