داریل میں‌الخدمت یوتھ کے زیر اہتمام جلسے کا انعقاد، ثوبیہ مقدم اور سلطان رئیس نے خطاب کیا

داریل (پ ر) الخدمت یوتھ نے داریل کی محرومیوں کے ازالے اور حل کیلئے آواز حق بلند کرنے کیلئے داریل میں اپنے یوم تاسیس کے داریل گھبر میں میدان سجا لیا۔ محترمہ ثوبیہ مقدم ہمراہ مولانا سلطان ریئس چیئرمین عوامی ایکشن کمیٹی، فدا حسین وائس چیئرمین اور حنیف الرّٰحمان مقدم داریل پہنچی۔ داریل کے سرگرم نوجوانوں نے پُر تپاک استقبال کیا پھولوں کے ہار پہنائے اور موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے ساتھ ریلی کی شکل میں آر سی سی بریج کے کے ایچ سے گھبر داریل لے گئے۔ جلسہ گاہ میں تمام لوگوں نے کھڑے ہو کر نعروں کی گونج میں استقبال کی۔ جلسہ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا اور سب سے پہلے داریل الخدمت یوتھ کے دوسرے یوم تاسیس کا کیک کاٹا گیا۔

محترمہ ثوبیہ جے مقدم صاحبہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج داریل کے نوجوانان جاگ چُکے ہیں اور عوام میں بھر پور شعوری بیداری کیلئے کوشاں ہیں۔ جسکا ثبوت آج کا یہ ایونٹ ہے۔ الخدمت یوتھ کو نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ اب مزید داریل کو کوئی بھی طاقت پسماندہ نہیں رکھ سکے گی۔ نوجوانان داریل اپنے حقوق چھین کے لیں گے۔ انہوں نے کہا گلگت بلتستان میں سب سے پسماندہ علاقہ داریل ہے پونے لاکھ کی آبادی کیلئے ایک سپیشلسٹ ڈاکٹر تک موجود نہیں ہے، ایک لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے، کوئی زمہ بچہ سنٹر کوئی ہسپتال فعال نہیں ہے۔ مائیں بہنیں آج اکیسویں صدی میں بھی دور جہالت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پورے داریل میں لڑکیوں کیلئے ایک مڈل سکول تو دور کی بات فعال پرائمری سکولز بھی نہیں ہے تو یہاں لڑکیوں کا اَن پڑھ ہونا فطری عمل ہے۔ انہوں نے جلسہ گاہ میں تمام لوگوں سے ہاتھ اُٹھا کر وعدہ لیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو پڑھائینگے۔

اتنے بڑے علاقے میں پکی سڑک تک موجود نہیں۔ تمام منصوبے پولیس تھانہ سے لیکر پبلک سکول کی جلِی بلڈنگ تک تمام منصوبے ادھورے پڑے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ہے۔ میں داریل کے ان تمام مسائل پر اسمبلی میں قرارداد لاؤں گی اور وزیر اعلٰی کے تعمیر و ترقی کے ڈھونگ دعووں کا پول کھول دوں گی۔ داریل کے تمام ایشوز کو جلسوں سے ایوانوں تک لے کے جاؤں گی۔ حفیظ الرّٰحمان صاحب نے پچھلے سال 8 مئ کو داریل عومی جلسہ میں وعدہ کیا تھا کہ دو مہینے میں داریل کو ضلع بنایا جائے گا مگر عوام کو آج تک دھوکہ دیا ہم نے آواز حق بلند کی اور ان کو مجبور کیا تو تین مہینہ پہلے چلاس جا کر ایک بار پھر اعلان کر کے کہا کہ ایک مہینہ میں ضلع کا نوٹیفکیشن ہو جائے گا مگر پھر بھی تین مہینے گزر رہے ہیں کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ 28 مئی کو تیسری بار یوم تکبیر کے دن کہا کہ تین دن کے اندر اضلاع بن جایئں گے۔ مگر اسکے بعد بھی 20 دن ہو گئے ہیں۔ ہم نے اضلاع کے حوالوں سے مقتدر حلقوں سے بات کی ہے اور انہوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ اضلاع کے قیام میں اپنا حصّہ ڈالیں گے۔ حفیظ الرّٰحمان صاحب تو آج تک جھوٹ بولتے رہے ہیں۔ ہم حفیظ الرّٰحمان کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ آپ داریل کے عوام سے کئے وعدوں کو پورا کریں، ڈگری کالج داریل کا قیام، لڑکیوں کے سکولوں کا قیام، 50 کروڈ داریل ڈویلپمنٹ فنڈ، تمام معلق پلوں کو آر سی سی پلوں میں تبدیل کرنا، منیکال اور کھنبری کو نیابت کا درجہ دینا، ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا قیام، داریل اور تانگیر کے 200 نوجوانوں کو جنگلات کی حفاظت کیلئے بھرتی کرنا، نمبر داران داریل تانگیر کے مراعات اور وظیفہ میں اظافہ کرنا۔

بصورت دیگر نوجوانان دیامر اور عوام آپ کے خلاف اعلان جنگ شروع کرینگے۔ داریل کی یوتھ اور عوام آپ تیار رہو ہم تانگیر کے نوجوانان اور تانگیر قومی اتحاد اور عوام اور دیگر دیامر بھر کے بوجونان تنظیموں کو ساتھ ملا کر دھرنا دینگے اور پورے دیامر کے کونہ کونہ کو بلاک کریں گے

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان رئیس نے کہا کہ منیکال داریل کی پسماندگی موجودہ حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے.

انہوں نےکہا کہ داریل کو پسماندہ رکھنے میں سیاستدانوں کا کیا مفاد ہے اس کا ادراک ضروری ہے گلگت بلتستان کی تاریخ رہی ہے کہ جس پارٹی کو لوگوں نے جتنا ووٹ دیکر اقتدار میں لایا ہے انہوں نے اتنا ہی عوامی امیدوں پر پانی پھیرا ہے افسوس کا مقام یہ ہے کہ داریل میں نہ روڈ ہے نہ ہسپتال اور نہ ہی کوئی معیاری سکول پورے داریل میں جوکہ ضلع بننے جارہا ہے ایک بھی گائینی ڈاکٹر نہیں اور منیکال گبر میں عرصہ دراز سے تعمیر شدہ 10بیڈ ہسپتال کا کوئی پرسان حال نہیں نہ ڈاکٹر اور نہ ہی کوئی سٹاف ضلع کے ساتھ ان تمام مسائل کا ازالہ بھی بہت ضروری ہے.

انہوں نےکہا کہ نوجوانوں میں شعور بیدار ہورہا ہے اب منتخب ممبران اسمبلی اور حکومت کو بھی جواب دینا ہوگا کہ انہوں نے اس علاقے کو نظرانداز کرکے کونسے مقاصد حاصل کئے ہیں

انہوں نےکہا کہ ہم مسلماں ہیں اور اسلام میں سیاست کا بھی معیار ہے اور ووٹ کا بھی لہذا آئیندہ جس کو ووٹ دیں تقوی دین داری اور اخلاص کے ساتھ عملی کام کے بنیاد پر دیں یہ قومیت.رشتہ خاندان اور اقربا پروری کے کلچر کو ختم کریں تب جاکر یہاں کے مسائل حل ہونگے.

انہوں آخر میں داریل الخدمت یوتھ کے ذمداران کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ علاقائی مسائل کے حل کیلئے منظم تحریک کا آغاز کیا جائے عوامی ایکشن کمیٹی آپکی آواز بنے گی.

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وائس چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی فداحسین و ممبر انجمن امامیہ نے کہا کہ اہلیان داریل کی مہمان نوازی کے بارے میں سنا تھا آج دیکھ بھی لیا گلگت بلتستان کے اہل تشیع مکتب کے ذہنوں میں ایک سازش کے تحت دیامر کے متعلق نفرت کا بیج بویا جارہا ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر اتفاق اور اتحاد کے ذریعے سے اسکا تدارک کریں وہ ماحول پیدا کریں کہ داریل کے مسائل کے حل کیلئے برمس کے عمائدین و نوجوان میدان میں آئے الحمداللہ عوامی ایکشن کمیٹی نے اسکا آغاز کیا ہے یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان میں کوئی بھی قومی مسئلہ ہو عوامی ایکشن کمیٹی بلاتفریق مسلک میدان عمل میں آئی ہے۔ انہوں نےکہا کہ برمس کے اہل تشیع نوجوان داریل الخدمت یوتھ کے ساتھ ہیں گلگت میں کہی بھی ضرورت پیش ہو آپکے ساتھ کھڑے ہونگے.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments