اللہ رب العزت نے انسان کو دیگر مخلوقات سے علم اور سمجھ بوجھ کی بناء عظمت و برتری عطافرمائی ہے، ڈاکٹرمیربائزخان

چترال (نامہ نگار) چترال میں اعلیٰ تعلیم کے حصول میں ٹیلنٹ رکھنے والے نادارطلباء وطالبات کی معاونت کاادارہ ریجنل آرگنائزیشن فارسپورٹنگ ایجوکیشن (روز)کے زیراہتمام چترال میں کوالٹی ایجوکیشن اوراعلیٰ تعلیم میں درپیش مسائل کے حوالے سے سمینارمنعقدہوئی۔سمینارسے خطاب کرتے ہوئے ممتازسکالرڈاکٹرمیربائزخان نے کہاہے کہ اللہ رب العزت نے انسان کو دیگر مخلوقات سے علم اور سمجھ بوجھ کی بناء عظمت و برتری عطافرمائی ہے،انسانی زندگی کا اہم مقصداپنے آپ کو علم یعنی سمجھ بوجھ سے آراستہ کرنا ہے،علم اورسمجھ بوجھ کے حصول کے لئے کی جانے والی انسانی جد وجہد کو تعلیم کہا جاتا ہے۔تعلیم کی وجہ سے ہی انسان کو اشرف المخلوقات کی دستار فضیلت سے سرفراز کیا گیاہے۔انہوں نے کہاکہ ہم طلباء کو اپنی ذاتی صلاحیتیں تلاش کرنے کی نہ صرف سہولت فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کو مختلف کورسز کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔کلاس روم سے باہر مختلف سوسائٹیز موجود ہیں جو طلباء میں قیادت کی صلاحیتیں کو اُجاگرکرنے اور ان کی ذاتی دلچسپیوں کو آگے بڑھانے میں مدد دیتی ہیں۔ انہیں انڈر گریجویٹ سطح پر تحقیقی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے وقت آگے پانچ سوسال کے لئے سوچناچاہیے۔

انہوں نے کہاکہ چترال میں ہائر ایجوکیشن کا شعبہ ترقی کر رہاہے۔ تاہم اس وقت اعلیٰ تعلیم کو معیاری بنانے کیلئے نہایت سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے اور اعلیٰ تعلیم تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے اورکوالٹی ایجوکیشن کوعام کرنے کی کوشش کرناچاہیے اسلام میں مذہبی اورعصری علوم دونوں کی اہمیت ہے۔آج کے طلباء وطالبات صرف کورس کے کتابوں تک محدودنہ رہے دورجدیدنے جوسہولیات فراہم کئے ہیں اُن سے بھرپورفائدہ اُٹھاکراساتذہ سے آگے نکلنے کی کوشش کریں۔ مختلف کتابوں کامطالعہ کرکے اپنے سوال کاجو اب تلاش کریں جس سے آپ کے علم میں اضافہ ہوتاجائے گا۔ڈاکٹرمیرنے کہاکہ طلباء وطالبات قوم و ملت کے نگہبان و پاسبان ہوتے ہیں اورمستقبل کے معاشرے کی تشکیل میں یہ کلیدی کردار اداکرتے ہیں اسی لئے ایک کامیاب طالب علم اور انسان کے لئے اپنے کام اور امور کواحسن طریقے سے تکمیل کرنے کی ضرورت ہے۔

ا نہوں نے کہاکہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تعلیمی اداروں میں کوالٹی ایجوکیشن کا انقلاب ایک دن میں نہیں آ ئے گا،بلکہ اس کے لئے ایک پراسیس،یعنی خاص تراکیب بنانا پڑتی ہیں۔ کوالٹی کا زیادہ تر انحصار اسی پراسیس پر ہوتا ہے۔ ایک اچھا منصوبہ نہ صرف تعلیمی اداروں میں اپنی روایات اور ثقافت کا علمبردار ہوتا ہے، بلکہ ایسے طالب علم بھی پیدا کرتا ہے جو مستقبل میں ملک و ملت کا نام روشن کریں گے۔ ہائر ایجوکیشن کے طلباء کوچاہیے کہ وہ کوالٹی کے فلسفے کو سمجھے اور دوسروں کوبھی سمجھائیں۔انہوں نے کہاکہ سائنسی میدان میں مسلمانوں کے کارناموں کا تسلسل پچھلے ہزار سال سے ابھی تک قائم ہے۔ اس انتشار اور محکومی کے دور میں بھی مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری۔آج بھی ایسے سینکڑوں مسلم سائنسدان موجود ہیں جو سائنسی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور جن کی ایجادات اور دریافتوں نے سائنس کے کئی نئے میدان کھولے ہیں۔ہر دور میں مسلمانوں نے سائنس و ادب میں بین الاقوامی طور پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔انہوں نے روزکے چیئرمین ہدایت اللہ کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ اُن کی کوششوں سے چترال کے 400 سے زاہدطلباء وطالبات مختلف جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرچکے ہیں اورکررہے ہیں جس نے چارسو خاندانوں کاتقدیر بدل دیاہے۔انہوں نے اپنے طرف سے ہرقسم کی تعاون کی یقین دہانی کی۔

پروگرم کے صدرمحفل ممتازماہرتعلیم (ر)پروفیسراسرارالدین نے کہاکہ ڈاکٹرمیربائزخان کی زندگی چترال کے نوجوانوں کے لئے ایک رول ماڈل ہے۔ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجوداپنی محنت اورلگن سے علم کے میدان میں ایک نام پیداکیا۔آج دنیاکے بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں جاکرچترال کے نام روشن کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرمیربیزنے آج کے خطاب میں ہمیں جن کلمات سے نوازاہے ان کے تمام الفاظ سونے کے سیاہی سے لکھنے کے قابل ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس جدیددورمیں کئی ایسے باہم مربوط مسائل ہیں جو ہماری تعلیمی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ایک مسلمان ہونے کے ناطے معیاری ایجوکیشن سے اس کوختم کرنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پرڈاکٹرعنایت اللہ فیضی،چیئرمین روزہدایت اللہ،صلاح الدین صلاح،ظہران شاہ اوردیگرنے بھی اظہارخیال کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments