لداخیوں اور بلتیوں کی خواہش مشترک !

شریف ولی کھرمنگی۔ بیجنگ

2011 کی مردم شماری کے مطابق انڈین مقبوضہ کشمیر (31 اکتوبر 2019 سے انڈین یونین ٹیریٹری) کے علاقے اور لوک سبھا کے پارلیمانی حلقہ کرگل لداخ کی کل آبادی پونے تین لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس میں سے سوا لاکھ ڈسٹرکٹ لداخ کی ، جہاں اکثریت 83 فیصد سے کچھ زیادہ بدھسٹ اور ہندو جبکہ مسلمانوں کی 14 فیصد کے قریب آبادی ہے۔ جبکہ کرگل ضلع کی کل آبادی ایک لاکھ اکتالیس ہزارکے قریب ہے جہاں مسلمان تقریبا 77 فیصد کیساتھ اکثریت میں ہے جبکہ یہاں تقریبا 21 فیصد بدھ مت اور ہندو بستے ہیں۔ دونوں کو جمع کرکے بدھسٹ اور مسلمانوں کی آبادی دیکھیں توبدھسٹ اور ہندووں کی آبادی 52 فیصد کے قریب بنتا ہے جبکہ مسلم 46 فیصد۔ جبکہ تقریبا دو فیصد آبادی دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی بھی موجود ہے۔ رقبے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ضلع لداخ ، کرگل سے تین گنا سے بھی زیادہ بڑا علاقہ ہے۔

سو (کسی انہونی کے نہ ہونے کی صورت میں اس سال اکتوبر کے بعد باقاعدہ یونین ٹیریٹری بننے کے بعد) یہاں کی ڈیموگرافی اگلے سالوں میں کس قدر بدلتی ہے یہ تو آنیوالا وقت ہی بتائیگا۔ فی الحال یہ خیال رہے کہ ستر کی دہائی سے ابتک ہر الیکشن میں مسلمان اور بدھسٹ امیدوار جنرل الیکشن میں مد مقابل کھڑے ہوتے، مذہب کی بنیاد پر ووٹ تقسیم کرتے اور ایک دوسرے کو ہراتے آئے ہیں۔ مثلا ساٹھ کی دہائی سے اب تک تیرہ مرتبہ یہاں الیکشن کا انعقاد ہوا جن میں سے چار مرتبہ مسلمان امیدوار نشست جیت کر لوک سبھا تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکے۔ جبکہ سال نو کے الیکشن میں مسلسل دوسری مرتبہ بی جے پی کے امیدواروں نے مسلمان امیدواروں کے آپس میں ووٹ تقسیم ہونے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوک سبھا کی نشست حاصل کرلی۔ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے علاقے کے موجودہ منتخب نمائندے کا دعویٰ ہے کہ کرگل لداخ کی ستر فیصد آبادی خطے کو جموں کشمیر سے علحدہ اور انڈیا کے یونین ٹیریٹری میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اٹوٹ انگ بننا چاہتی ہے۔ لوک سبھا میں دلائل دیتے ہوئے جہاں انہوں نے کئی حوالوں کیساتھ جموں کشمیر کیساتھ لداخ ریجن کے الحاق کو غلط قرار دیا وہیں انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب کے بیشترمسائل اور ماضی کی حکومتوں کیجانب سے نظر انداز کئے رکھنے پر بھی سوالات اٹھائے۔ جن سے گمان ہوتا تھا کہ پاکستان نے اس طرف جہاں آزاد کشمیر کو ایک خود مختار اسمبلی اور قانون سازی کے اختیارات دیکر گلگت بلتستان کی عوام کو محکوم رکھا کچھ ویسا ہی وہاں لداخ اور کرگل ریجن کا نمائندہ جموں کشمیر سے ملحق رہنے کو اپنے علاقے کی محرومی کی وجہ سمجھتے ہیں۔ انکی تقریر کو جہاں انڈین پارلیمان میں حکمران جماعت کے ممبران کی جانب سے بھرپور داد ملی ، وہاں خود وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر خوب سراہا۔

یہاں مجموعی مقبوضہ کشمیر میں انڈین استحصال سے ہٹ کر گلگت بلتستان اور لداخ کی ڈیموگرافی اور مطالبات کی روشنی میں ایک اہم سوال کی طرف آتے ہیں۔ گلگت بلتستان کو کشمیر تصفیئے کا حصہ ہونے کی بنیاد پر سات دہائیوں سے بنیادی جمہوری حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ ہمیں آزاد کشمیر سے علحدہ وفاقی حکومت نے نہیں بلکہ خود ہم نے جنگ آزادی لؑڑ کر کیا۔ جبکہ کرگل لداخ کو انڈین حکومت نے سات دہائیوں بعد جموں کشمیر سے علٰحدہ کرکے اپنے وفاق کا حصہ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ گلگت بلتستان کی آبادی مسلمانوں کی ہے اور سات دہائیوں سے یہاں پاکستانی آئینی شہری قرار دینے کا مطالبہ ہوتا رہا۔ جبکہ کرگل لداخ میں بدھسٹ اور ہندووں کی آبادی مسلمانوں سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ وہاں کے مسلمان چاہے یونین ٹیریٹری کی مخالفت کرے، مگر انڈیا سے آزادی کی بات کرنے والی کوئی علحدگی پسند جماعت موجود نہیں، چہ جائیکہ وہاں کے مسلمان جموں کشمیر کیساتھ اپنے لئے حق خود ارادیت کی بات کرتے ہیں۔ جیسے گزشتہ ادوار میں علاقے کے کئی مسلمان سیاسی نمائندے جموں کشمیر نیشنل پارٹی سے جیتتے رہے جبکہ بدھسٹ نمائندے انڈین نیشنل کانگریس سے منتخب ہوتے آئے۔ شاید اسلئے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کیلئے بی جے پی کی نسبت انڈین نیشنل کانگریس نے معتدل ریاستی سیٹ اپ کیساتھ پارلیمان میں برابر نمائندگی بھی برقرار رکھا۔ سو اب ایک ٹرننگ پوائنٹ حالیہ کشمیر موو نے اس خطے کیلئے بھی لا دکھایا بلکہ کئی حوالوں سے لگتا ہے کہ لداخ کی بدھسٹ عوام کا یہ مطالبہ رنگ لایا اور وہ مودی سرکار سے انڈیا کی یونین ٹیریٹری قرار دینے کے مطالبے پرعملدرآمد کرانے میں کامیاب ہوگئے۔

سوال یہ ہے کہ جس طرح بی جے پی کو دوسری مرتبہ لداخ کے حلقے میں نمائندگی ملی، اور وہاں کا نمائندہ دعویدار ہے کہ اسکے حلقے کی آبادی کی اکثریت انڈیا کیساتھ رہنے کا فیصلہ کرتی ہے تو کیا یہ ایسی ہی بات نہیں جیسے ہم گلگت بلتستان میں اکثریت پاکستان کیساتھ رہنا چاہتے اور باقاعدہ آئینی شہری قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہیں؟ اس فرق کیساتھ کہ وہاں ڈیموگرافی کی تناسب میں فرق بہت کم ہے، پھر بھی سیاسی اصطلاح میں سادہ اکثریت تو بدھسٹ آبادی کے پاس موجود ہے، ممکن ہے مسلمانوں میں سے ایک اچھی تعداد بھی انکا ساتھ دے دے۔ سو حق خود ارادیت کی اصطلاح کے تحت اب اگروفاق کے زیر انتظام علاقوں میں عوامی رائےدیکھی جائے توعین ممکن ہے کہ لداخ کی اکثریت انڈیا کیساتھ رہنے پر آمادہ ہو اور گلگت بلتستان والے واضح طور پر پاکستان کیساتھ رہنا چاہیں گے۔ رہ گئی بات کشمیر کی، تو آزاد کشمیر کی طرح مقبوضہ جموں کشمیر میں بھی غالب اکثریت مسلمانوں کی ہی ہے۔ انڈین مردم شماری ریکارڈز کے مطابق جموں کشمیر کے بعض اضلاع جیسے اودھم پور، سامبہ ، کٹھوعہ اور جموں میں ہندوں کی آبادی اکثریت میں ہیں۔ تانکہ حالیہ تبدیلیوں کے بعد بھی آزاد کشمیر کی طرح جموں کشمیر کے لداخ کے علاوہ باقی علاقے ریاستی حیثیت میں موجود ہے۔ اس فرق کیساتھ کہ آزاد کشمیر میں قانون باشندہ طرز کے قوانین کو طے کرنے کا مجازمقامی اسمبلی ہے، جبکہ انڈین مقبوضہ کشمیرکی ریاستی اسمبلی سے ایسے قوانین اور اختیارات انڈین آئین میں کی گئی حالیہ ردو وبدل کے تحت ہٹا دیئے گئے ہیں اور کرگل لداخ ریجن کو یونین ٹیریٹری یعنی وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا ہے۔ جس پر مقامی عوام کے رد عمل کا اندازہ کئی ہفتوں سے جاری کرفیو کے ہٹائے جانے کے بعد واضح ہوسکے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments