حلقہ ارباب ذوق گلگت کے زیر اہتمام ادبی نشست

ایک عرصے کے بعد کل شام حلقہ ارباب ذوق گلگت کی ادبی نشست کا حصہ بننے کا شرف ملا۔ یہ ادبی نشست جہاں ماہانہ طرحی مشاعرہ کے لیے رکھی گئی تھی وہاں مرحوم عبدالواحد گہر اور پروفیسر ظفر شاکر کی خدمات کو ٹرابیوٹ پیش کرنے کے لیے تعزیتی اجلاس بھی تھا۔ دونوں مرحومین کے لواحقین کو بلایا گیا تھا۔ تقریب کی مہمان خصوصی کراچی سے آئی ہوئی معروف شاعرہ زیب النسا زیبی تھیں جبکہ صدارت حلقے کے سینئر نائب صدر اور ہردلعزیز شاعرعبدالخالق تاج نے کی۔ اس کے علاوہ دونوں مرحومین کے لواحقین کو بھی اسٹیج پر بلایا گیا۔ اسٹیج سے میرا نام بھی پکارا گیا کہ مہمانوں کے ساتھ میں بھی آگے بیٹھوں۔ میں اس عزت افزائی پر حلقے کے دوستوں کی محبتوں کا مقروض ہوں۔ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض غلام عباس نسیم صاحب نے انجام دئیے۔ اب شعرا اور مقررین کی باری تھی۔ شعرا نے جہاں طرحی غزل سنائی وہاں وہ مرحومین کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار بھی کر رہے تھے۔ مقریرین میں جمشید خان دکھی، عبدالخالق تاج، عبدالحفیظ شاکر، محمد نظیم دیا، پروفیسر احمد سلیم سلیمی، پروفیسر ضیا اللہ شاہ، پروفیسر اشتیاق احمد یاد، مرحوم عبدالواحد گہر کے صاحبزادے شباب واحد اور ظفر شاکر مرحوم کے بڑے بھائی محمد عالم نے بھی جہاں مرحومین کی یادیں ہمارے شیئر کیں وہاں وہ اپنے آنسو بھی روک نہیں سکیں۔

میں نے اپنی تقریر میں جہاں دونوں غم زدہ خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا وہاں فلسفہ زندگی اور امام غزالی کی کتاب ’’مزاق العارفین‘‘ کے ایک واقعہ بھی سامعین کے سامنے رکھا۔

دین اور دنیا میں میانہ روی پر روشنی ڈالی، مذہب اور سائینس کے تعلق کو ابھارا۔ اور سب سے اہم چیز قومی بے حسی پر بات کی کہ کیا وجہ ہے ہم زندگی میں زندوں کی قدر نہیں کرتے۔ ’’بہت اچھا آدمی تھا۔‘‘ یہ جملہ سننے کے لیے مرنا ضروری ہے۔ کسی نے نباضِ قوم علامہ اقبالؒ سے اس حوالے سے پوچھا تھا ’’علامہ صاحب! کیا وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ زندگی میں ہی اپنی قابل قدر شخصیات کی عزت کرتے ہیں، ان کو ایوارڈ دیا جاتا ہے، ان کے نام کا خصوصی نمبر نکالا جاتا ہے جبکہ ہم یہ سب مرنے کے بعد مُردے کو ایوارڈ دیتے ہیں۔‘‘ علامہ اقبالؒ نے برجستہ جواب دیا تھا ’’زندہ قومیں زندوں کی قدر کرتی ہیں جبکہ مُردہ مُردوں کی۔‘‘

اب آخر میں مہمان خصوصی کی باری تھی۔ زیب النسا زیبی نے جب اپنی تقریر میں بتایا کہ وہ ادب کی ستر اصناف پر شاعری کر چکی ہیں تو حیرت ہوئی اور بعد میں چائے کی میز پر پروفیسر سلیمی صاحب کہہ رہے تھے دیکھیں دنیا کہاں سے کہاں پہنچی ہوئی ہے، لوگ ادب کی مختلف اصفاف پر طبع ازمائی کر رہے ہیں جبکہ ہم صرف طرحی مشاعرے تک محدود۔

سلیمی بھائی کی بات میں وزن تھا۔ حلقے کے ہمارے سینئرز کو اب خول سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ طرحی مشاعرے سے ذرا ہٹ کے کتابوں پر تبصرے، تنقیدی نشستیں، کوئی ماہنامہ، کوئی ادبی بٹھیک ہفتہ وار کرنے کے بارے میں قدم اٹھانا چاہئیے۔

خیرعلمی قحط سالی میں اب تک حلقے کے اکابرین خصوصاً جمشید خان دکھی صاحب جو چلتے پھرتے فی نفسہٖ ایک انجمن ہے، کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں۔

اللہ پاک انہیں شاد و آباد رکھے۔ آمین!

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments