چلاس:‌مقامی عدالت نے سرکاری ملازم کے قتل کے مجرم کو موت کی سزا سنا دی، ساتھی ملزم بری

چلاس(کرائم رپورٹ) دیامر کے مقامی عدالت میں محمد قمر قتل کیس کی سماعت،کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج سہیل احمد خان نے کیا،ایڈیشنل سیشن جج دیامر نے قتل کے ملزم کو سزائے موت سنا دی،جبکہ شریک ملزم بجرائم 109 میں شہادت نکافی ہونے پر ساتھی ملزم سیف الرحمن کو بری کردیا۔ایڈیشنل سیشن جج دیامر سہیل احمد خان نےقتل کے مجرم کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور 7سال قید کی سزا سنادی اور تین لاکھ جرمانہ عائد،مجرم محمد اعظم ولد سیف الرحمن ساکن گونر فارم حال چلاس نے6ستمبر 2015کو محکمہ بلدیہ چلاس کے اکاونٹ آفیسر مسمی محمد قمر کو مرغی گلی کے احاطے میں اپنے گھر کے پاس قتل کیا تھا۔اور ان کے خلاف سٹی تھانہ چلاس میں مقدمہ علت نمبر 65/15زیر دفعات/13Ao 302/34 ت پ کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا۔

ایڈیشنل سیشن عدالت کے جج نے گذشتہ 24 آگست کو کیس کی سماعت کی اور فیصلے کو محفوظ کیا تھا،فاضل عدالت نے آج بدھ کے روز قتل کیس میں دس صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے جرم کے مرتکب مجرم محمد اعظم ولد سیف الرحمن کو زیر دفعہ 302 تعزیرات پاکستان ایکٹ  کے تحت موت کی سزا دی جاتی ہے۔اس کیس میں سٹیٹ کی طرف سے  ڈسٹرکٹ پبلک پراسکیوٹر ثناءاللہ اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسکیوٹر عبدالوہاب نے بھرپور طریقے سے اپنے دلائل دیئے اور کیس کو انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔پبلک پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ قمر قتل کیس میں شریک جرم 109میں بری ہونے والا ساتھی ملزم سیف الرحمن ولد گل محمد  کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیل کا فیصلہ کیا ہے،تاکہ لواحقین کو بروقت انصاف پورا ملیں اور جرائم کی شرح میں مزید کمی واقع ہو،پراسیکیوٹرز کے عدالتوں میں آنے سے سٹیٹ کی رٹ مذید مضبوط ہوئی ہے۔

یادرہے کہ مقتول محمد قمر چار بچوں کا باب تھا،ملزم نے اندھا دھند فائرنگ کرکے بچوں سے باپ کا سایہ چھین لیا،مقتول محکمہ بلدیہ چلاس دفتر میں بطور اکاونٹ آفیسر تعینات تھا، جبکہ سزائے موت اور سات سال قید کی سزا پانے والے ملزم محمد اعظم گلگت بلتستان پولیس محکمہ میں سپاہی بھرتی ہیں،قمر قتل کیس کے تفتیشی افسر SHOسٹی تھانہ چلاس شاہ سرور تھے،عوامی حلقوں نے پراسیکیوٹر صاحبان کے کردار کو خوب سراہتے ہوئے اطمنان کا اظہارکیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments