پدم سے پدرود تک ۔۔۔!

تحریر: حاجی سرمیکی

پدم پارٹی سے کون واقف نہیں، ہماری تاریخِ مردانگی میں جہاں ڈھنڈوں سے ڈوگرہ غنڈوں کو فرو کرنے کے بے مثال کارنامے سے مزین ہے وہاں پدم پارٹی کی جفاکشی ، ثابت قدمی اورحب الوطنی کی کہانی بھی ایک منفرد مگر جرات آزما باب ہے۔ بلتستان کے رضاکاروں کے ساتھ صف اول میں چٹان صفت زانسکرکے مجاہد وطن رستم بٹ سینہ سپر تھے۔ انیس سو انچاس کے اوائل میں جب جنگ بندی ہوئی ، ہندوستان پاکستان باہمی سرحد کو لائن آف کنٹرول یا ورکنگ باونڈری تسلیم کرتے ہوئے سیز فائر ہوئی۔مگر پدم پارٹی کے جواں ہمت مجاہدین انیس سو اونچاس کے وسط تک دشمن افواج سے نبردآزما تھے۔ انہیں جنگ بندی کی بابت بھی کچھ خبر نہ تھی۔ انہیں بمشکل جنگ بندی پر راضی کراکر سکردو لایا گیاتویہاں کی غیور عوام نے پدم پارٹی کا شاندار خیرمقدم کیا۔ رستم بٹ سکردو کے نواحی گاوں کھیپ چوں ، موجودہ حسین آباد،کے مکین ہوئے، مکان بنایا، گھر کرلیا اور بچے بچونگڑے بھی ہوئے۔ خدا نے مجاہد ملت کو بیٹے سے نوازا، جو نذیر احمد کے نام سے موسوم ہوا۔ لداخ سے ہجرت کے بعد رستم بٹ کو تو بطور ایک قومی ہیرو معاشرے میں جلد ہی قبولیت حاصل ہوئی، رشتہ تعلق اور علیک سلیک میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ البتہ نذیر احمد تاج نے جس ماحول میں آنکھ کھولی ، بقدرے ہوش اس پر بھید کھلتا گیا کہ وہ دیار غیر میں ہیں۔ نذیر احمد بچپن سے ہی بے حد ذہین تھے۔ دیار غیر میں جب گھریلو مصروفیات مفقود ہوں تو وہاں ذہنی صلاحیت کا اس سے اعلیٰ اور کیا مصرف تھا کہ حصول علم کی تگ ودو کی جاتی۔ یوں نذیر احمد نے ابتدائی تعلیم حسین آباد سے ہی شروع اور مکمل کیا۔ اس زمانے میں تعلیم کے حوالے سے اتنا شعور کہاں تھا، دوسری طرف تعلیمی مدارس کی ذبوں حالی ناگفتہ بہ تھی۔پٹ سن کی ٹاٹ پر بیٹھ کر بچے پڑھتے تھے۔ سردی کے دنوں میں دھوپ اور گرمیوں میں درخت کی چھاوں میں درس و تدریس ہوتی تھی۔ نذیر احمد سے نذیر احمد تاج بننے میں اتنا عرصہ گزرا کہ انیس سو چوہتر میں سائنسی مضامین کے ساتھ میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس دوران حصول علم کا شوق اورادیبانہ و شاعرانہ روش پر تاج تخلص کیا۔ یوں ان کا نام قدرے بڑا ہوگیا یعنی نذیر احمد تاج اور خاندانی نام جو لداخ اورزنسکر کی نشانی کے طور پر جڑگیا،یوں نذیر احمد تاج بٹ ہوگئے۔ سرکاری نوکری ان دنوں میں بھی سستی تھی مگر دھن کے عوض نہیں بلکہ گیان کے عوض ۔ہجرت کرکے تہی دامان یہاں وارد ہوئے تھے اورمیٹرک سائنس اس زمانے میں اچھی تعلیم تھی،یعنی نذیر احمد تاج بٹ چاہتے تو ان دنوں میں کہیں پر بھی ملازمت اختیار کرسکتے تھے مگر ان کے لئے حصول علم میں کوئی مشکل درپیش نہیں تھی اس لئے انہوں نے انیس سو چھہتر میں ایف اے اور سن اٹھہتر میں بی اے پاس کرلیا۔ اسی سال بطور سی ٹی ٹیچر پرائمری سکول الڈنگ سکر دو سے درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ مگر معلم ہوتے ہوئے بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ کراچی یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرلی۔ محکمہ تعلیم نے انہیں بی ایڈ کے لئے گومل یونیورسٹی بھیجا ، جہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے اپنے گروپ میں امتیازی نمبر لے اڑے۔ یوں ایک طرف درس و تدریس میں تاج صاحب روبہ عروج رہے اوردوسری طرف بلتستان میں نظام تعلیم زوال کا شکار رہا۔ یوں تاج صاحب اپنی ترقی اور نظام تعلیم کی ابتری کے زیر وبم کے ساتھ ساتھ کسی ناؤ طوفان آشنا کی طرح پرعزم اور روبہ منزل رہا۔ یوں تاج صاحب شعبہ درس وتدریس پر جس قدر مہربان رہے اس کے برعکس حالات ان کے دیگر رفقاکار کی نسبت ان کے لئے کٹھن اور مشقت آزما رہے۔ وہ پس و پیش میں کسی بڑے کی سفارش اور دبدبہ نہ رکھنے کے پاداش میں غیر متوقع تبادلوں کا شکار رہے۔ مگر کسے معلوم تھا کہ یہی متنوع حالات، طرز معاشرت، متضاد ثقافت و جغرافیہ کی باران سنگ ان کی مستعداور فرض شناس شخصیت کے سمندر میں چھپی سیپیوں میں بند ہو کر موتیوں میں بدلتی رہی۔کون تھا، جو ذرا سی دیر کو سوچتا کہ سخت جانی اور جہد مسلسل اور مشکل حالات سے لڑنے کا حوصلہ تو انہیں گھٹی میں ملاتھا۔ یوں سکردو، کھرمنگ ، شگر اورخپلو کے جن جن مدارس میں رہے اعلی ظرفی اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے درس و تدریس میں جٹے رہے۔ جس جس سکول کو ان کی قائدانہ صلاحیتوں سے مستفید ہونے کا موقع ملا درس وتدریس اور انتظام وانصرام میں عملی نمونہ بنتاگیا۔ بطور صدر معلم آپ حسین آباد ہائی سکول میں رہے جو جلد ہی ماڈل سکول بن گئے، ہائی سکول نمبر ۱ سکر دو بھی ماڈل سکول بن گئے۔ تعلیمی انتظام کاری میں ان کی مہارت کا اندازہ کوئی تعلیمی انتظام وانصرام کے اصول وضوابط سے واقف شخص ہی کرسکتا ہے۔ سکول کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اساتذہ، طلبہ اور والدین کے کردار کے حوالے سے متنوع تخلیقی سرگرمیوں کی داغ بیل ڈالی جو کہ نہ صرف سکول کو ماڈل سکول بنانے اور گاوں کو ماڈل ویلج بنا نے میں ممد ثابت ہوئیں بلکہ طلبہ کو معاشرے میں رول ماڈل بننے پر آمادہ کرنے میں کارگر ثابت ہوئیں۔ سکولوں میں اساتذہ میں یونیفارم، جمعے کے دن بچوں میں مفتی ڈریس اور معاشرے میں حفظان صحت کے اصولوں کا پرچار تاج صاحب کی تخلیقی صلاحیتوں سے جڑے کچھ ایسے موضوعات ہیں جو کہ قابل تقلید اور فقہید المثال ہیں۔ وگرنہ سکولوں میں چاردیواری کے اندر اسباق کے رٹے لگانے اور تقریری طریقہ تدریس کے علاوہ نئے تجربے کا رجحان عنقاتھا۔ تاج صاحب نے ترقی لی نہیں بلکہ اسے ترقی ملتی گئی۔ انہوں نے قبل ازمیعاد ، غیر قانونی یا سفارشی ترقی کو کبھی قبول نہیں کیا۔بلکہ اس ضمن میں بھی بارہا وہ متاثر ہوتے رہے، تاہم موجودہ دور میں تاریخ محکمہ تعلیم میں بطور سکول ہیڈ ماسٹر بیسویں سکیل پر ترقی پانے والے اساتذہ میں سے وہ واحد استاد تھے جنہوں نے محکمہ تعلیم کی بدنامی سے اپنا دامن کھینچتے ہوئے ڈپٹی دائریکٹر کی پوسٹ ٹھکرادی حتی کہ ڈی ڈی اوشپ بھی قبول نہیں کیا۔ یقیناًجس کی رگ و پے میں جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ معجزن ہواور چالیس سالہ مدت ملازمت میں قدم پھونک پھونک کر رکھتے آئے ہو، انہیں کسی سستی شہرت سے کیامطلب ہوسکتا تھا۔ یوں چالیس سال کی مدت ملازمت پوری ہونے پر یہ سینئر ترین استاد تھورگو مڈل سکول میں اپنی مدت ملازمت کے آخری ایام گزار کر سبکدوش ہوگئے۔ اس بابت ایک سادہ مگر پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ان کے شاگردان گرامی، رفقاء کار، عزیز واقارب ، عمائدین تھورگو اور دیگر علم دوست احباب کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے باد مخالف کی روش اس آخری موقع پر بھی دیکھی گئی اور بیسویں گریڈ کے اس فرض شناس، دیانتدار اور قابل تقلیدشخصیت کی سبکدوشی کی تقریب میں بھی محکمے کے حکام و اعلیٰ آفیسران غائب رہے۔ اس موقع پر غلام مہدی مظہر صدر معلم سکول مذکور نے تاج صاحب کے نام اپنا منظوم کلام پیش کیااور جذبات پر قابو نہ رکھ پاتے ہوئے دیدہ نمناک سے الوداع کہا۔سابق ممبر صوبائی اسمبلی گلگت بلتستان آمنہ انصاری اور ممبر پارلیمانی کمیٹی میجر ریٹائرڈ امین خان نے بھی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے نذیر احمد تاج صاحب کی پیشہ وارانہ خدمات، سادگی، فرض شناسی اور جذبہ ایمانی کو واشگاف الفاظ میں سراہا۔ لداخ ، پدم سے حب الوطنی کی داستان رقم کرنے والی پارٹی کے شیر دل مجاہد رستم بٹ کا بیٹانذیر احمد تاج بٹ تاریخ شعبہ درس وتدریس میں ایک بڑا نام بن کر پدرودگیا۔ اساتذہ کی سبکدوشی سے مدارس کے تعلیمی انتظام و انصرام کی فضا میں ایک ناقابل تلافی خلا پیدا ہوتا ہے جسے پر کرنے میں زمانے لگتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعد از سبکدوشی ایسے اکابرین سے مستفید ہونے کا کوئی انتظام موجود نہیں، مختلف اداروں سے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہ کر سبکدوش ہونے والے افراد اپنی منفرد اہلیت اور تجربات کے بل بوتے پر اپنے آپ میں ایک مکمل دانشگاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لئے کیا ہی اچھا ہوتاکہ ایسے افراد اپنی تنظیم سازی کرتے اور معاشرے میں شہری فرائض و کردار سازی ، خاص کر طلبہ و طالبات کی رہنمائی کے لئے سکولوں اور مدارس میں خطبات کا اہتمام کرتے۔ اساتذہ کو ہمارے معاشرے میں جس قدر ومنزلت کی ضرورت ہے اس کے پس پردہ جہاں عمومی بے شعوری کارفرما ہے وہاں ادارے کی اپنی ناقص کارکردگی بھی ہے جو اس پیغمبری پیشے سے منسلک شخصیات کی جگہنسائی کے ساتھ ساتھ ادارے کی کارکردگی پر انگشت نمائی کا باعث بھی بن رہی ہے۔ تعلیم کی روح سے نابلد معاشرہ دیگر تمام اداروں حتیٰ کہ جمہوری اداروں کی کارکردگی متاثر کردیتا ہے اس عوام اسکے ثمرات سے محروم رہ جاتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments