تین محب وطن پاکستانی

تحریر: امیرجان حقانی

تین قسم کے پاکستانی ایسے ہیں جن سے بڑا محب وطن پاکستانی اب تک کوئی جنا ہی نہیں.مجھے ان تینوں قسم کے محب وطن پاکستانیوں سے ہزاروں دفعہ ملنے اور ان کے جذبات جاننے، سمجھنے اور سننےکا موقع ملا ہے. پہلی قسم کے لیے ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان نے کچھ بھی نہیں کیا. ریاست کے سسٹم میں ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں، بلکہ ہمیشہ ان کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے مگر کمال یہ ہے کہ نہ ان کی پاکستانیت میں کمی آئی اور نہ ہی ان کے پاکستان کے لیے دعاؤں میں کمی.. بغیر کسی طمع و لالچ اور کسی مفاد کے ہمیشہ، 75سال سے پاکستان کے لیے دعائیں کررہے ہیں.ہر بابرکت محفل میں مملکت خداداد پاکستان کی سلامتی کے لیے انفرادی اور اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں. میں نے خود ان کے ساتھ ہزاروں دفعہ پاکستان کے لیے دعائیں کی. یہ مدارس کے طلبہ و اساتذہ ہیں. واللہ! میں نے ان سے بڑا محب وطن پاکستانی اب تک نہیں دیکھا، جو باوجود دھتکارنے کے، سسٹم سے آوٹ کرنے کے، پاکستان کو اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں. اور ہمیشہ اسکی سلامتی کے لیے اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں. جب جب وطن نے پکارا، یہ لوگ آٹھ کھڑے ہوئے اور جانیں پیش کی. نہ سبز ہلالی جھنڈا نصیب ہوا اور نہ ہی پسماندگان کو کوئی معاوضہ اور نہ ہی کوئی عزت افزائی.

مگر یہ لوگ اپنی دھن کے اتنے پکے ہیں کہ مسلسل عتاب کے باوجود انکی پاکستانیت میں کمی نہیں.

دوسرا محب وطن طبقہ وہ 90 فیصد غریب طبقہ ہے جن کے لیے بھی ریاست اور حکومت نے اب تک کچھ نہیں کیا مگر جب بھی ان سے پاکستان کی بات کی جاتی ہے تو ان کا پاکستان کے لیے کمٹمنٹ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوتی ہے. یہ لوگ ملک کے طول وعرض میں رہتے ہیں اور مشکل سے پیٹ بھرنے جتنی کمائی کرتے ہیں اور زندہ رہتے ہیں. اور تو اور ریاست نے ان کے بنیادی ضروریات تک کا بھی خیال نہیں رکھا مگر یہ لوگ پاکستان سے شاکی بھی نہیں. جب بھی ان سے پوچھو تو یہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں گے.اپنی اولاد کو بھی حُب پاکستان کا درس دیں گے.

تیسرا طبقہ محاذ جنگ پر مامور وہ سپاہی ہے جو بہت ہی قلیل تنخواہ پر ہر وقت ملک کی حفاظت کے لیے کمرکس کر بیٹھا ہوا ہے.ہمیشہ ان کی جان خطرے میں ہوتی ہے، دشمن کی تاک میں ہوتا ہے، روز کہیں نہ کہیں یہ بیچارہ فوجی سپاہی شہید ہوجاتا ہے اور سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر دفن ہوجاتا ہے. یہ بھی کسی نہ کسی گاؤں اور دیہات کے غریب، مزدور اور کاشت کار کا بیٹا ہوتا ہے. اس کی شہادت کے بعد اسکی پوری فیملی افسوس کے بجائے دیگر بیٹے اور بھائیوں کو بھی ملک کی حفاظت کے لیے قربان کرنے کا عزم کرلیتی ہے.

انصاف سے بتاؤ! کیا ان تینوں سے بڑا کوئی محب وطن ہوسکتا؟

سچ یہ ہے کہ باقی سب تو پاکستان کا کھا پی کر، بینک بیلنس بناکر بھی ریاست کو گالی دے رہا ہوتا ہے.شکایتیں کررہا ہوتا ہے.

یہ تینوں طبقات میرے محسن ہیں. ریاست پاکستان کے بھی عظیم ترین محسن ہیں. مدارس کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کی بےلوث دعاؤں، غریب کی شبانہ روز محنت اورفوجی سپاہی کا محاذ پر چوکس ہونے کی وجہ سے پورا پاکستان محفوظ ہے اور زندگی انجوائی کررہا ہے.آئیں اپنے ان محسنوں کو سیلیوٹ کیجے .اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments