کالمز

گلگت بلتستان کی گونا گوں ثقافت

تحریر: احسان علی رومی

بلند و بالا کوہساروں اور دلفریب نظاروں سے گیرہ گلگت بلتستان کا یہ علاقہ وہ واحد خطہ ہے جہاں ہر بیس کلومیٹر بعد نئی زبان، نئی ثقافت، نئی تہذیب اور ایک نئی شناخت کے ساتھ لوگ ملتے ہیں۔  اس چھوٹے سے علاقے میں ہر قدم پر گوناگوں ثقافت، تہذیب، خوراک اور لباس ہیں۔ گلگت بلتستان کی اپنی کوئی مشترکہ ثقافت نہیں ہے بلکہ یہ گوناگوں ثقافتوں کا حسین مجموعہ ہے۔ یہاں کے باسیوں کا تعلق کسی ایک مخصوص ثقافت سے نہیں اور نہ ہی ہم اس کا تعلق زبردستی کسی ایک ثقافت سے جوڑ کر اس عظیم تاریخ کو مسخ کر سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان رنگارنگ ثقافتوں کا ایک انوکھا اور منفرد سنگھم ہے۔ یہاں کے باسی کشمیر، لداخ، تبت، کارگل، افغانستان، تاجکستان، چائنہ اور سنٹرل ایشیاء کے قرب وجوار سے تلاش روزگار یا فکر نان ونفقہ یہاں آ کر یہاں آباد ہوئے۔ جن کی زبان، لباس، خوراک، رہن سہن، تہوار گویا زندگی کے ہر پہلؤوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور منفرد ہیں۔

ان لوگوں کی زندگیوں میں ہر دور میں مختلف مذاہب کا عمل دخل ضرور رہا کیونکہ مذہب کو آزادنہ طور پر منتخب کرنے کا اختیار میروں اور قبائلی سرداروں کے اختیار میں ہوتا تھا۔ اس لئے یہاں مختلف ادوار میں مختلف مذاہب کو بطور سرکاری مذہب تسلیم کیا گیا ۔ ان مذاھب کا براہ راست اثر ان کی ثقافت پر پڑا جس کی وجہ سے ان کی اصلی ثقافت سے بہت ساری خصوصیات معدوم ہو گئی۔ جیسا کہ ہماری کچھ ثقافتوں میں اب بھی بت مت دور کی رسومات کا جھلک نظر آتا ہے۔یہ کہہ کر ہم اس بات سے  کنارہ کشی کھبی اختیار نہیں کر سکتے کہ گلگت بلتستان کی ایک ہی ثقافت اور تمدن ہے۔ صرف ایک ٹوپی کا مشترکہ استعمال اس بات کی دلیل کبھی نہیں ہو سکتی۔

ہنزہ کے بالائی علاقوں کے لوگ زیادہ تر تاجکستان، چائینہ، افغانستان سے ملحقہ علاقوں ، پامیر، افگرچ، گرچہ، سمرقند اور وسطی ایشیاء کے قرب و جوار سے آکر یہاں آباد ہوئے۔  اور اپنے ساتھ اپنی منفرد لباس، رسم و رواج، تہذیب، اقدار، خوراک اور زبان کو بطور ثقافت ساتھ لے کر آئے۔ سنٹرل ہنزہ کے بیشتر خاندانوں کا تعلق بھی انہی علاقوں سے ہیں جو خانہ بدوشوں کی شکل میں آہستہ آہستہ ہنزہ میں آکر آباد ہوئے۔ بروشو قوم کا ان علاقوں میں وارد ہونے کا سبب الیگزینڈر دی گریٹ کی فوجی کاروان سفر سے علیحدگی بتایا جاتا یے۔ اور کچھ خاندانوں کا تعلق گلگت بلتستان کے قرب و جوار یعنی دریل ، تانگیر اور چلاس سے بتایا جاتا ہے۔ سنٹرل ایشیاء سے جو لوگ ہنزہ کے بالائی علاقوں میں آئے، ان کی ثقافت میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں مخلوط ناچ اور خواتین کا ناچ ایک ثقافتی عنصر کے طور پر شامل تھا جیسا کہ آج کل تاجکستان، افغانستان، ایران اور سنٹرل ایشیاء کے بہت سے ممالک میں بطور ثقافتی عنصر شامل ہے۔ اسی طرح خواتین سے مسافہ و دست بوسہ وغیرہ گلگت بلتستان کے چند علاقوں میں بطورِ ثقافت اپنی منفرد حیثیت رکھتا ہے جو کہ گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں نہیں۔ اب اس ایک ثقافتی عنصر کو ہم گلگت بلتستان کے لوگوں کی مشترکہ ثقافت کھبی نہیں کہہ سکتے۔ ہنزہ کے اندر بھی ثقافتی گوناگونی ہے- یعنی بالائی ، سنٹرل اور زیریں ہنزہ کی ثقافتیں بھی اپنی ارتقاء کی وجہ سے بالکل الگ ہیں۔

تاجکستان، افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا کے بہت سارے ممالک میں مسلمان آج بھی اپنی ثقافت کے ساتھ زندہ ہیں جس میں مختلف تہواروں میں مخلوط ڈانس ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ان علاقوں میں تمام مسلم فرقوں کے لوگ رہتے ہیں اور ایک ہی کلچر کو اپنائے ہوئے ہیں۔ کلچر کا تعلق مذہب سے کھبی نہیں البتہ ان ثقافتوں میں مذہب کا عمل دخل ابتداء سے ہے۔ جب ثقافت کو مذہب سے جوڑنے کی کوشش ہوتی ہے تو وہاں نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔ جیسے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سارے قبائلی، علاقائی یا قدیمی رسومات کو مذہب کا حصہ بنا دیا گیا جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

بلتستان میں بسنے والے لوگوں کی ثقافت ، گلگت بلتستان کے دوسری ثقافتوں سے بالکل مختلف اور منفرد ہے۔ ان لوگوں کا تعلق زیادہ تر تبت، کارگل، لداخ اور انڈیا سے ملحقہ علاقوں سے ہیں جن کی تہذیب و تمدن، رسم ورواج، خوراک، زبان اور معاشرتی اقدار بالکل الگ ہیں۔ ان کی ثقافت بے مثال اور منفرد ہے۔ ان کی جڑیں جس تہذیب و ثقافت سے وابستہ ہے ، ہم اس کو الگ کھبی نہیں کر سکتے۔

اسی طرح استوار کی ثقافت بھی منفرد ہے۔ تاریخی طور پر استوار کے راجوں کا تعلق ایران سے تھا اور وہ ان علاقوں یعنی کھرمنگ، استور، سکردو اور روندو میں حکومت کرتے رہے۔ تاریخی، کاروباری اور سرحدی تعلق وادی نیلم سے ہونے کی وجہ سے استور کی لباس، خوراک اور ثقافت میں کشمیری ثقافت کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے کیونکہ ان علاقوں کا قدیمی تعلق کشمیر اور کشمیر سے ملحقہ علاقوں سے تھا۔ اس ثقافت کی قدیمی ارتقاء سے آج تک کے سفر میں کہیں ثقافتوں کا عمل دخل رہا جس میں کشمیری، بلتی، چترالی اور گلگت کی ثقافتوں کا براہِ راست تعلق ہے۔

دیامر کی اپنی ثقافت، زبان اور تہذیب ہے۔  ان علاقوں میں قبائلی طرزِ حکمرانی زیادہ رہی اور سرداروں کا اثرورسوخ زیارہ رہا جس کی وجہ سے آج ان کی ثقافت میں اس چیز کی عکاسی ہوتی ہے جو کہ منفرد حیثیت کے ساتھ اس علاقے کے لوگوں میں زندہ ہے۔

ہم ان ثقافتوں کے اس حسین امتزاج میں سے کس ثقافت کو گلگت بلتستان کی مشترکہ ثقافت کہے گے؟

آج کل گلگت بلتستان کی ثقافت کو لیکر بہت زیادہ بحث ہو رہی ہے اور بحث ہونی بھی چاہیے۔ سب سے پہلے اس بات کو زہن نشین کیا جائے کہ گلگت بلتستان کی کوئی ایک مشترکہ ثقافت نہیں ہے جسے ہم "گلگت بلتستان کی ثقافت” کہہ سکے اور اس کی تشریح کسی ایک علاقے کی ثقافت کو سامنے رکھ کر یا کسی ایک زبان کو سامنے رکھ کر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ردعمل میں ہر ایک کی اپنی سوچ کا لیول اور پیمائش کے پیمانے سامنے آتے ہیں۔ کوئی اس کو مذہبی آنکھ سے پرکھنے کی کوشش کرتا ہے تو کوئی اس کو غیرت کے پیرائے میں دیکھتا ہے۔ مختصر بات یہ ہے کہ سب سے پہلے اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ اس علاقے کی کوئی ایک ثقافت نہیں۔ زیر بحث محفل میں تمام صوبوں کی ثقافتوں کو بذریعہ مخلوط ڈانس پیش کیا گیا۔ تمام صوبوں میں مسلمان ہی رہتے ہیں جنہوں نے بعد میں مخلوط ڈانس کو بطور ثقافت تسلیم کیا ہے۔ چونکہ گلگت بلتستان ابھی دنیا میں اجاگر ہو رہا ہے اس لئے ہمارے ذہنوں پر عورت، شرم ، مذہب ، غیرت اور ثقافت ایک ساتھ سوار نظر آتے ہیں۔ وقت ہی ان تمام چیزوں کا علاج ہے۔ اس کا ڈور کسی کے ہاتھ میں نہیں۔ رد عمل ایک فطری عمل ہے۔ باخدا, آج سے ایک عشرہ بعد ہمارا ردعمل ایسا کھبی نہیں ہوگ جیسا اب ہے ۔ہم کسی پر بھی تنقید نہیں کر سکتے کیونکہ ہر ایک اپنی حد نگاہ اور سوچ کا معیار رکھتا ہے مگر اس کا تعلق ضرور ماحول، سوچ، ثقافت، مذہب اور زبان سے ہے۔

اپنی علاقائی تعصبات سے نکل کر اگر ہم اس چیز کو ثقافتی گوناگونی کی نظر سے دیکھیں، تو ہم اپنے اندر مثبت سوچ پیدا سکتے ہیں۔ عورت ذات کے وجود کو بطور آزاد انسان کے تسلیم کرنے اور  قبول کرنے سے ہی ہمیں اس یکطرفہ سوچ کے جنبش سے نجات دلا سکتا ہے۔ غیرت، عزت، شرم اور فحاشی کے زنجیر یں عورت کے پیروں میں باندھ کر خود کو مادر پدر آزاد کرنا ہماری سوچ کو بیان کرتا ہے۔

ہمارے مادر پدر آزاد مرد حضرات اور بالخصوص ماضی میں ہمارے لیڈرز کے اعمال کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ کب کیا کیا ہوتا رہا اور کیا ہو رہا ہے، کسی سے چھپی نہیں۔یہاں سے جا کر شہروں میں جو کارنامے کئے گئے اس سے ہم روپوش تو ہو گئے مگر اس حرکت کو کھبی علاقائی غیرت سے ناپا نہیں گیا۔ جب ہمارے علاقے کے مرد شہروں میں جا کر عیاشیاں کرتے ہیں، علاقےکی حرمت کو داغ دار کرتے ہیں، تب اسلامی اقدار، وطن کی غیرت، شرم و حیاء کے اعلیٰ معیار ، کہاں جاتے ہیں؟ کوئی ان حرکات کو فحاشی کیوں نہیں کہتا؟

اللّٰہ ہمیں مثبت سوچ وفکر عطا فرمائے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: