کالمز

دھول اڑاتی سرکاری گاڑیاں اورہمارا پرچم

تحریر شکیل انجم ڈِرو

جب سے ہوش سنبھالا ہے، ذہنِ ناتواں میں یہ بات ڈالی گئی ہے کہ سبز رنگ امن و آشتی، اتفاق و اتحاد  اور بھائی چارہ گی کی نشانی ہے۔ اس فلسفے  پر ہمارا یقین محکم ہے کیوں کہ وطن عزیز  نے بھی اپنا ستراسی سبزرنگ  کے سحرانگیزلبادےسے ڈاھنپا ہوا ہے۔ یہی رنگ آمدِ بہار کی علت  ہے اور یہی رنگ قطب و ابدال اور صوفیأ و اولیا ٔ کے مزاروں پر لہراتے ہوئے  پرچموں کے تلے وجد میں محو فقیروں کے دلوں میں  طراوت و  آسودگی اور روحانی مستی کا  سبب بھی ہے ۔ میں شاید غلط بھی ہو سکتا ہوں  لیکن کیا یہ  امر قرین قیاس نہیں کہ  اسی رنگ سے مزئین سرکاری گاڑیوں کے نمبر پلیٹ اسی خیال  کے غماز ہیں ۔ لیکن ایک پرپیچ  سوال یہ ہے کہ اگر یہ رنگ امن و آشتی کا نشان ہے  اور اسی نسبت سے سرکار نے اپنی گاڑیوں کو اسی امن کے رنگ میں رنگ کر  اپنے آپ کو امن کا ییامبرگردان رہے ہیں  تو پھر سولیین کی نسبت اس رنگ کو روا کیوں نہیں رکھا جاتا ؟ ہماری سرکار کو  بڑی بڑی محفلوں میں کہتے سنا گیا ہے کہ ” اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں " اور اگر ہم اپنے وطن سے دیوانہ وار محبت کے نتیجے میں اپنی گاڑیوں کے نمبر پلیٹ میں سبز رنگ چھڑکنے کا ارتکاب کر یں  تو اُس کا نتیجہ اتنا بھیانک ہوگا کہ جس  کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں ۔اگر سرکاری گاڑیوں کو وطن عزیز کے سبز ہلالی پرچم کے رنگ میں رنگ کر  یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سرکار امن کی داعی ہے تو سو بسم اللہ، لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش عملی طور پر ایسا ہو۔ ہم یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ سرکار کی گاڑیوں میں سرخاب کا پر لگا ہوتا ہے  کیوں کہ یہ سرکاری خزانے سے خریدی ہوئی ہوتی ہیں ۔ ہمیں یہ بھی گہرا ادراک ہے کہ سرکاری خزانے سے کیا مراد ہے ؟  میرے ان تمام سوالوں کا جواب حضرت  قائد اعظم  محد علی جناح کے صرف ایک واقعے کے اندر موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ جب آپ کی کابینہ کی پہلی نشست  ہورہی تھی توآپ سے پوچھا گیا کی وزیروں اور دیگر شرکائے اجلاس کو چائے کی تواضع کیسے کی جائے۔ تو قائد کو اس بات پر نا خوشگوار حیرت ہوئی  اور آپ نے  پوچھا کہ کیا یہ لوگ اپنے  گھروں  سے چائے پی کے نہیں آئے ہیں ؟  کسی کو چائے کا شوق ہے تو  اپنی جیب سے پیسے دیکر کیوں نہیں پیتا ؟ انہوں نے فرمایا کہ  سرکاری ملازم سے مراد عوام کا خادم ہے۔ اور سرکاری خزانہ عوام کی امانت ہے اور دینِ اسلام میں خیانت گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن قطع نظراس کے اجکل معلوم یہ ہوتا ہے کہ کچھ سرکاری ہرکارے قائد کی بتائی ہوئی تعلیمات سے گویا مکمل طور پریا تو نا آشنا ہیں یا خود کو اِن سے مبرا سمجھتے ہیں ۔

شہرگلگت اور اس کے مضافات میں گاڑیوں کی انگنت تعداد نے نہ صرف نظامِ آمدورفت کو بے ہنگم بنا کے رکھدیا ہے  بلکہ جان لیوا حادثات کو بھی جنم دیا ہے ۔ اس شہر نا پرساں میں ایک طرف این سی پی گاڑیوں کا سمندر ہے تو دوسری جانب غیر ضروری گشت میں مصروف سرکاری گاڑیوں کی طویل  قطاریں بلکہ یہ کہنا شاید بے جا نہیں کہ  این سی پی سے زیادہ سرکار کی گاڑیوں کا رش ہے سر کاری گاڑیوں کے غیر ضروری مالکان نہ صرف اپنے آپ کو ٹریفک کے کسی بھی قانون سے  ماورا سمجھتے ہیں  بلکہ غلط پارکنگ، (رانگ سائیڈ) گاڑی چلانا، سویلین گاڑیوں کو حقیرسمجھ کے راستہ نہ دینا، غیر ضروری اور ٹیک کرنا، رات میں لائٹس کو مدھم (ڈِم) نہ کرنا وغیرہ وغیرہ اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں۔چند دن پہلے کی بات ہے، میرے ایک عزیز شدیدعلالت کی وجہ سے  ہسپتال میں زیرِعلاج تھے اور ایمرجنسی سی۔ٹی سکین کے لئے کسی دوسرے ہسپتال لے جانا تھا۔ میں خود مریض کو لے کے ہنگامی حالت میں چنار باغ پل پر شمالاً داخل ہونے ولا ہی تھا  کہ ایک ٹریفک پولیس کا نوجوان ایسا حملہ آور ہوا جیسے میں کسی  پڑوسی ملک کا جاسوس تھا ۔ چند لمحوں کے لئے میں سہم سا گیا اور لگا کہ میں غلطی سے سرحد پار کرکے دشمنوں کے نرغے میں پھنس گیا ہوں۔ لیکن پولیس کے کاندھے پر لگے سبز ہلالی پرچم سے احساس ہوا کہ میں اپنے حدود سے باہر نہیں گیا ہوں  بلکہ وہ اپنی حدیں پار کر چکا ہے شاید وہ یہ سمجھنے سے بے نیاز تھے کہ  مملکتِ خداد کے پرامن سرزمین پرچلنے کےلئے ہرشہری کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور سرکاری اہلکار سے مراد عوام کا خادم ہے۔

 پولیس کا یہ  جوان باقاعدہ تربیت یافتہ لگ رہا تھا  کیونکہ جس روانی سے وہ بے نقط سنا رہے تھے وہ کوئی تربیت یافتہ شخص ہی کا خاصہ ہوتا ہے ۔ الغرض آدھے راستے سے بہ زورِ (سرکاری) بازو  مجھے اس لئے واپس کیا گیا کے سامنے سے جناب آئی جی صاحب تشریف لا رہے تھے۔ بہت منت کی کہ مریض کی حالت ابترہے اورفوری ٹیسٹ ضروری ہے، لیکن صاحب بہادر کے سامنے ایک سویلین کی زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ایسے کئی ایک واقعات روزانہ کے معمول کا حصہ ہیں ۔ نہ جانے کتنے لوگوں کے ساتھ ایسے دل خراش واقعات آئے دن پیش آتے ہیں  اور سبزرنگی نمبر پلیٹ والی گاڑیاں نہ جانے کتنے راہ چلتے عوام پر دھول اڑاتی ہیں اور نہیں معلوم کتنے معصوموں کی جانیں صرف سرکاری ملازمین کی آمد پر راستوں کی بندش سے صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں ۔ اس ضمن میں چند گزارشات   پیش کرنے کی جسارت  کر رہا ہوں :

  • سرکاری گاڑیوں کے نمبر پلیٹس پر گورنمنٹ آف پاکستان کے بجائے عوامی خادم لِکھا جائے۔
  • تمام سرکاری آفیسران جن کو سرکاری گاڑیاں دی جاتی ہیں انہین صرف سرکاری کام کے لئے ہی مخصوص کی جائے۔
  • ایسے سرکاری ملازمین کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ صبح گھر سے دفتر اور شام دفتر سے گھر اپنی ذاتی گاڑی میں آیا جایا کریں، البتہ دفتری اوقات میں دفتری معاملات کے لئے سرکاری گاڑی استعمال ہو۔
  • جہاں تک ممکن ہو، سرکاری گاڑیوں کی الاٹمنٹ کم سے کم کی جائے، اس کے بدلے، تھوڑا کنونس الاوئنس دی جائے۔
  • ایک خاص گریڈ تک کے سرکاری ملازمین کو سائیکل پرآنے جانے کے لئے پابند کیا جائے جو کہ نہ صرف کی صحت کے لئے بہتر ہے بلکہ ماحول دوست بھی ہے۔
  • ایسی سرکاری گاڑیاں جن میں بیگمات کے کپڑے، تعمیراتی سامان کی ترسیل یا کوئی ذاتی مقصد کے لئے استعمال ہوتی ہوئی پائی جائیں ، تو اُن کو ضبط کیا جائے اور ایسے ملازم کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔
  • ایسے تمام سرکاری ملازمیں جو عوام کو بے عزت کرنے، گالی دینے یا بے جا تنگ کرتے ہیں ان کو عام شہریوں کے مقابلے میں ذیادہ سزا اور جرمانہ کرایا جائے اور سکیل میں لازمی تنزلی کی جائے۔
  • عوام کی ایسی شکایات مجسٹریٹ سطح پہ سنے جائیں اور تین دنوں کے اندر فیصلہ سازی  عمل میں لائی جائے
  • تمام سرکاری ڈرائیوروں کی خصوصی تربیت کی جائے جس میں نہ صرف ٹریفک کے اصول بلکہ، حسنِ اخلاق سے پیش آنا، اندازِ گفتگو، حلیمی وغیرہ بھی سکھائے جائیں۔ وہ تمام ڈرائیور حضرات جو سرکاری گاڑیوں میں بیٹھ کے خود کو نیل آرمسٹرانگ سمجھنے لگتے ہیں اور صاحب بہادر کی غیر موجودگی میں خود صاحب بہادر کا جامہ پہنتے ہیں، سے باز پرس ہو۔
  • پروٹوکول والی وائرس سے نہ صرف صاحب بہادروں کو بچایا جائے بلکہ عوام الناس کی بھی گلو خلاصی ہو تاکہ نہ صرف غیر ضروری گاڑیوں کے قافلے ختم ہوں بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثرنہ ہو۔

مجھے یقین ہے کہ میرا مشورہ حلق سے اتارنے کےلئے کڑوا ضرور ہے لیکن ہضم ہونے کے بعد ضرور کار آمد ثابت ہو سکےگا۔

ملّا کی شریعت میں فقط مستی گفتار

صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال

وہ مردِ مجاہد نظرآتا نہیں مجھ کو

ہو جس کے رگ وپے میں فقظ مستی کردار (علامہ اقبال)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: