رودادِ محفل مشاعرہ

جمشید خان دُکھی

حلقہ ارباب ذوق ( حاذ ) گلگت کے زیر اہتمام ماہانہ طرحی و غیر طرحی مشاعرہ29 دسمبر 2017 کو دن دو بجے بعد از نماز جمعہ ریویریا ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ جس میں سنئیر اور جو نئیر شعراء کرام نے شرکت کی۔یہ مشاعرہ سال 2017 کا آخری مشاعرہ تھا۔ جس میں شعراء کے علاوہ کچھ ادبی ذوق رکھنے والے احباب بھی شریک ہوئے۔ محترم فیض اللہ فراق صاحب اس محفل کے مہمان خصوصی تھے جو ایک شاعر ہونے کے علاوہ ایک معروف صحافی ہیں اورآج کل صوبائی حکومت گلگت بلتستان کے ترجمان بھی ہیں۔جو شعراء کرام اس محفل میں شریک ہوئے ان میں پروفیسر محمد امین ضیا ء، عبدالخالق تاج، محمد نظیم دیا،ظفروقار تاج، عبدالحفیظ شاکر، غلام عباس نسیم، مشتاق راہی، اشتیاق احمد یاد، یونس سروش، وسیم عباس، عبدالعزیز ، تہذیب برچہ، ناصر نصیر، فاروق قیصر، عارف شہکی، ذوالفقار، اشرف سحر، جمیل اُمنگ، فیض احمد درانی اور جمشید دکھی نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض غلام عباس نسیم نے سر انجام دئے۔بعض شعراء نے شینا کلام بھی سنایا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی جناب فیض اللہ فراق نے کلام سنانے سے قبل اپنے خطاب میں حاذ کی ادبی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حاذ اپنے مثبت کردار کے ذریعے لوگوں میں اتحاد و ادب کے فروغ کیلئے کام کرتا رہے گا، گلگت بلتستان کے حالات بہتر سے بہتر ہونگے اور لوگوں کے درمیان محبت اور ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہوتا رہے گا۔یاد رہے کہ صوبائی حکومت کے زیر اہتمام معروف شاعر جناب ظفر وقارتاج سیکرٹری واٹر اینڈ پاور کی صدارت میں 29 ،30 اور 31 دسمبر 2017 کو شینا، بروشسکی، وخی اور کھوار زبانوں کی لکھائی کے سلسلے میں قراقرم انٹرنیشل یونیورسٹی میں تین روزہ ورک شاپ بھی ہوئی جس میںFLIاسلام آباد سے آئے ہوئے مہمانوں جناب نسیم حیدر، ذمان ساغر، زبیر تروالی اور امیر حیدر کے علاوہ عبدالصبور نے ورکشاپ کے شرکاء کو اس حوالے سے بڑے سود مند لیکچرز دیے جس سے مقامی ماہرین کے مابین لسانی ہم آہنگی کا راستہ کھل گیا۔31دسمبر کو ورکشاپ کے اختتام پر FLIکے مہمانوں نے حاذ کے صدر محمد امین ضیاء کے گھر جاکر اُنکے بیٹے شہزاد ضیاء کی وفات پر تعزیت بھی کی۔ اس موقع پر حاذ کے احباب نے FLI کے مہمانوں کے اعزاز میں 31 دسمبر 2017 کو ریوریا ہوٹل میں ایک عشائیہ کا اہتمام بھی کیا ۔جس میں مہانوں کے علاوہ حاذ کے سنئیر احباب اور معروف گلوکار جابر خان جابر اور سلمان پارس بھی شریک ہوئے۔عشائیہ کے بعد رات تقریباً 12 بجے تک محفل موسیقی کا اہتمام کیا گیا جس سے شرکاء خوب محظوظ ہوئے۔29 دسمبر کو ہونے والے مشاعرے کیلئے جو طرح دیا گیا تھا وہ کچھ یوں تھا جس پر شعراء نے خوب طبع آزمائی کی۔

تھا کچھ ابھی بیان ابھی کچھی بیان ہے

’’گویا تری زبان کے نیچے زبان ہے‘‘
جن شعراء نے مصرع طرح پر طبع آزمائی کی اور جنہوں نے غیر طرحی اردو کلام سنایا ان کا نمونہ کلام ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

پروفیسر محمد امین ضیاء
مجھ کوہے فخر خاک نشینی پہ اے ضیاء!
اپنی تو اس زمین کی جانب اُڑان ہے

عبدالخالق تاج
طوطی ہمارا بولتاتھا شہر میں کبھی
اپنے ہی گھر میں تاج ابھی بے زبان ہے

فیض اللہ فراق
ہیں گلستاں کے پھول بڑے مطمئن مگر
اخبار میں بکھرتے گلوں کا بیان ہے

عبدالحفیظ شاکر
کتنی ہے خود کفیل سیاست میں ارضِ پاک
ہر آدمی کی اپنی سیاسی دکان ہے

یونس سروش
ہم راستوں کی دھول ہیں، خانہ خراب ہیں
دیوار ہے نہ سر پہ کوئی سائبان ہے

مشتاق راہی
اس کی وجہ سے ہی تجھے دیتے ہیں لوگ ووٹ
اس کی وجہ سے ہی تری چمکی دکان ہے

جمشید خان دکھی
مغرب کی دھمکیوں کا یہ دیتے ہیں کیا جواب؟
اب اپنے حاکموں کا کڑا امتحان ہے
(غیر طرحی نمونہ کلام)

ظفر وقار تاج
کوئی اپنی طرح نہیں پورا
کچھ کسی سا ہے، کچھ کسی سا ہے

محمد نظیم دیا
مجھے دستار پہنائے تو کیسے
ازل سے آج تک بے سر رہا ہوں

اشتیاق احمد یاد
میں دل کی آنکھ کا قائل ہوں اس لئے شاید
جہاں بھی دیکھوں محبت دکھائی دیتی ہے

عبدالعزیز
میاں جیسی بھی ہے ہنس کر گزارو
جوانی لوٹ کر آنی نہیں ہے

وسیم عباس
ناروا رزق کی تقسیم سدا ہوتی رہی
لوگ کہتے ہیں خدا کی یہ عطا ہوتی رہی

فاروق قیصر
اک جیسی اذیت سے ہی دوچار ہیں شاید
قیصر بھی اکیلا ہے تو خالی ہے دسمبر

ناصر نصیر
یہ خاموشی یونہی نہیں ہے
اک خلا کو نگل چکا ہوں میں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments