عوامی مسائل

ہنزہ میں‌کورونا وائرس کی وجہ سے خوف کا عالم، بازاروں میں‌رش کم، کاروبار متاثر

ہنزہ (بہرام خان) ہنزہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی غلط تشریح لوگوں میں خوف و ہراس۔بازار میں لاک ڈاون کی صورت حال۔کاروبار ٹھپ۔ لوگ گھروں میں محصور۔ محکمہ صحت اور کمیونٹی اداروں کی طرف سے کرونا وائرس سے بچاؤ کی غلط تشریح باعث لوگ گھروں میں بند رہنے کو ترجیح دیے رہیں ہے۔ لوگ خود سے احتیاطی تدابیر اختیار کر رہیں ہیں۔محکمہ صحت نے عارضی ایسولیشن وارڈ قائم کیئے ہیں مگر ان  کے پاس کرونا وائرس کی تشخیص سے متعلق کوئی بھی نظام موجود نہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ۔ہمارے پاس جدید سہولیات موجود نہیں سکریننگ کا کوئی نظام موجود نہیں۔ہم شک کی بنیاد پر مریض کو آگے بیج دیتے ہیں۔ ہم پہلے مریض سے معلومات وصول کرتے ہیں کی مریض خود بیرون ملک سفر کیا ہے یا ان کے گھر میں سے کوئی افراد یا رشتدار جنہوں نے ملک سے باہر سفر کیا ہو۔اس بنیاد پر ہم کرونا وائرس کی تشخیص کر رہیں ہیں۔اس کے علاوہ  محکمہ صحت کے پاس کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی انتظامات ہسپتالوں میں سنٹلائزر ماسک اور دیگر اہم چیزیں موجود نہیں۔ یہ وہی ابتدائی اہم چیزیں ہیں جو محکمہ صحت کو کرنا چاہیں۔ اس وقت ہنزہ میں 10 روپے کی  ماسک کی قیمت 50 روپے ہیں۔ مگر محکمہ صحت اور کمیونٹی ادارے عوام میں انتشار پھلا رہیں ہیں کے عوام گھروں میں بند رہیں عبادت گاہیں بند سکول بند کاروباری مراکز بند رشتہ داروں سے ملنا بند۔ پورا مقبوضہ کشمیر جیسے حالات پیدا کر دیے ہیں۔ مگر اللہ کی مہربانی سے  ہنزہ بھر ابھی تک کوئی بھی انسان  کرونا وائرس سے متاثر نہیں ہوا ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: