کالمز

آہ! عادل غیاث

تحریر: فیض اللہ فراق

زندگی بہت مختصر ہے۔ دنیا کا عارضی دورانیہ پلک جھپکنے میں اختتام پاتا ہے۔ ادھر بچپن، ادھر لڑکپن، جوانی اور پھر زندگی کی شام۔۔۔ نہیں معلوم کب کہاں ؟ کونسا پل آخری ہوتا ہے۔ موت کی تاریخ متعین نہیں اسلئے انسان ہمشہ ایک امید لیکر زندہ رہتا ہے ورنہ اگر انسان کو معلوم ہوتا کہ فلاں تاریخ تمہاری زندگی کا آخری دن ہے یقین جانئے! زندگی کا سکون چھن جاتا، مایوسیاں زندگی کا مقدر بن جاتی، زندگی کے رنگ ویران ہوجاتے۔۔۔

آنا جانا لگا رہتا ہے۔۔ یہ کائنات کا دستور ہے۔۔ کوئی آئے گا کوئی جائے گا۔۔آج تک جو بھی یہاں سے گیا پلٹ کر واپس نہیں آیا ہے۔۔مگر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہزاروں دلوں کے ارمان، زندگی کے حسن، علاقے کی خوبصورتی، خزاں میں بہار، دکھ میں سکھ، ناامیدی کے صحرا میں امید کے پودے، بے یقینی کی دشت میں یقین کے سائے، نفرت کے ماحول میں محبت کے خزینے، تقسیم میں اتحاد، فراق میں وصال اور ظلم کے خلاف انصاف ہوتے ہیں اور وہ بلا مبالغہ راجہ عادل غیاث ہوتے ہیں۔۔

یہ لوگ جب بچھڑتے تو ہم جیسے لوگ دکھ اوڑھ کے معاشرے میں نئے پیدا شدہ خلا سے پریشان ہوتے ہیں۔ ان کی جدائی کے گھاو ٹھیک ہوسکتے، زخم مندمل بھی ہوں گے مگر ان کا خلا قیامت تک پر نہیں ہو سکتا۔۔۔ہاں! البتہ کچھ نئے لوگ آئیں گے زندگی کا کارواں چلتا رہے گا لیکن پہلے والے جیسے نہیں۔۔

وقت بڑا مرہم ہے یہ ہر زخم کا تریاق ہے۔۔۔ آہستہ آہستہ لوگ بھول جائیں گے لیکن راجہ عادل غیاث کا کام ، کردار اور صحافتی خدمات کو گلگت بلتستان کی زمین صدیوں یاد رکھے گی۔

ضلع غذر کی دیواریں ان کی صداکاری و اداکاری کے جوہر نہیں بھول پائیں گی ۔ وہاں کی مٹی کیلئے راجہ صاحب کے خدمت بھلانا آسان کام نہیں۔ وہ امن کے خوگر، ادب کا دلدادہ اور سچے پاکستانی تھے، اجتماعی شعور سے لبریز ایک نظریاتی پختگی رکھنے والے انسان تھے۔ اپنی تحریروں کے ذریعے موصوف نے ہر دور میں علاقے کے مسائل کو اجاگر کیا۔ علاقے کی ترقی کا سوچتے تھے اور پر امن و مثبت رویوں کے فروغ میں پیش پیش رہتے تھے۔ مرحوم ہمارے دوست تھے ایک دفعہ آئی- ایس- پی- آر کے دورے پر گلگت بلتستان کے صحافیوں کی ایک نمائندہ وفد کے ساتھ اکٹھے سفر کا موقع ملا تو مرحوم کو قریب سے دیکھا ۔۔ مرحوم ایک آزاد منش، ہنس مکھ اور بھر پور زندگی رکھنے والی شخصیت تھی۔۔۔ سننے میں آیا وہ نمونیا کے عارضے میں مبتلا تھے اور آج ہم سب کو داغ مفارقت دے گئے۔۔ زندگی بس اتنی ہے۔۔آیا تھا اور چلا گیا۔۔۔ اجل کا نقارہ بجے گا۔۔۔ زور سے بجے گا اور ہر ذی روح کیلئے بجے گا یہ حقیقت ہے۔۔ ہم سب راجہ صاحب کے رستے کے مسافر ہیں۔ ایک نہ ایک دن ہم سب اس دنیا کو چھوڑ جائیں گے لیکن رب کریم سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں طبقات اثیر میں عالم ملکوت کا مقام عطا کرے۔۔

راجہ صاحب کی اچانک وفات کا سن کر بڑا دکھ ہوا کیونکہ اس وقت گلگت بلتستان کے تمام صحافتی طبقوں میں ایک سوگ کی کیفیت پائی جاتی ہے اسلئے کہ مرحوم قلم قبیلے کے مجاہد تھے۔ اللہ مرحوم کو کروٹ کروٹ سکون اور پسماندگان کو صبر و جمیل کی دولت عطا کرے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: