صحت

گلگت بلتستان میں کرونا کے پھیلاو سے صورتحال گھمبیر ہونے کا خدشہ

صفدرعلی صفدر 

گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ اور سرکاری اسپتالوں میں کورونا ٹیسٹ کی محدود سہولیات کے باعث علاقے میں اس خطرناک وائرس کے پھیلاو سے صورتحال گھبیر ہونے کا خدشہ ہے۔

 ایک اہم سرکاری ذرائع نے "پامیرٹائمز "کو بتایا کہ گلگت بلتستان میں عوام کی جانب سے کورونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر پر عدم عملدرآمد اور سرکاری سطح پر کورونا ٹیسٹ کی محدود سہولیات کے سبب عوام الناس میں اس وائرس کے پھیلاو میں تیزی سے اضافہ ہوتاآرہا۔ اگر صورتحال یہی رہی تو آنے والے وقتوں میں یہاں پر بھی انتہائی تشویش ناک حالات پیدا ہوسکتے ہیں جن پر قابو پانا کسی صورت ممکن نہیں ہوگا۔

 ذرائع نے مذید بتایا کہ اس وقت گلگت بلتستان کے تین اسپتالوں جن میں صوبائی ہیڈکوارٹراسپتال گلگت،ریجنل ہیڈکوارٹر اسپتال چلاس اور سی ایم ایچ سکردو میں کورونا ٹیسٹنگ کے حوالے سے قائم لیبارٹریز میں مجموعی طورپر ڈیڑھ سو سیمپلز کا روازانہ کی  اوسط سے جائزہ لیکر رپورٹ تیار کی جاتی ہے جوکہ آبادی کے حساب سے انتہائی محدود ہے۔انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت کے پاس محدود ٹیسٹنگ کیپسٹی ہونے کے سبب بعض اوقات سیمپلز کو لیباڑی سے گزار کر رپورٹ اخذ کرنے میں خاصا وقت لگتا ہے جو مشتبہ افراد اور ان کے خاندانوں کے لئے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ اس حوالے سے ضلع غذر سے صحافی معراج علی عباسی نے بتایا کہ  غذر میں گزشتہ ہفتے کورونا کے دو مصدقہ مریضوں سے قریبی تعلق کی بنا پر ان کے گھرکے افراد اور چار صحافیوں سمیت اسی کے قریب سیمپلز لئے گئے تھے جوکہ کئی روز گزرجانے کے بعد بھی رپورٹس کا کچھ پتہ نہ چل سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے ذمہ دار اس سلسلے میں کوئی ردعمل دینے کی بجائے آئیں بائیں شائیں کررہے ہیں جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ نمونے کسی ردی کی ٹوکری کی نذر ہوگئے۔

کورونا وائرس سے متعلق معلومات عامہ کے لئے محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر شاہ زمان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اس وقت تاریخ کے مشکل ترین وقت سے گزررہا ہے ۔ایسی صورتحال میں تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول عوام کو اس وائرس کے پھیلاو کے تدارک کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی بی آج تک نوہزار افراد کا کورونا ٹیسٹ کیا چکا ہے اور فی ٹیسٹ کی قیمت مبلغ دس ہزار روپے ہے جو حکومت برداشت کررہی ہے۔ اسی لئے اب صرف ان افراد کے ہی ٹیسٹ سیمپلز لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں کورونا وائرس کے علامات واضح ہوں۔ اس کے علاوہ وہ افراد جن کے گھر کے کسی فر د یا افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہو یا کورنٹین سنٹرز یا اسپتالوں میں کوئی ایڈمٹ ہو۔

 انہوں نے کہا کہ ہم نے مارچ کے مہینے میں آغاخان ہیلتھ سروس کے زیرنگرانی چلنے والے گلگت میڈیکل سنٹر کی انتظامیہ سے ملکر کام کرنے کی گزارش کی مگر ان کا رویہ انتہائی مایوس کن رہا۔ ایسی صورتحال میں  پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے بغیر صرف سرکار پر انحصار کرنے سے کام نہیں چل سکتا۔ اللہ نا کرے حالات انتہائی ایمرجنسی کی طرف جانے لگے تو حکومت گلگت میڈیکل سنٹر، صحت فاونڈیشن اور فیملی ہیلتھ سمیت تمام نجی اداروں کو اپنی تحویل میں لے سکتی ہے کیونکہ کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لئے ہرممکنہ اقدامات حکومت کی ذمہ داری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: