Uncategorized

ہم نے درختوں سے محبت سیکھی

تحریر :غالب شاہ سید
اسسٹنٹ پروفیسر
گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین گاہکوچ،غذر

درختوں کے ساتھ میری ایک جذباتی پیوستگی رہی  ہے۔درخت لگائے،کاٹے۔بچپن میں گرمیوں کی راتیں درخت کے نیچے کھٹ (چارپائی) پر گزریں۔ چڑیا مار زمانے میں درخت ہی بہترین شکارگاہیں رہیں۔پھل اپنے باغ کے کھانے ہوں یا دوسروں کے، درخت ہی میزبان ٹھہرے۔دوبار درختوں سے گرا، مرتے مرتے بچ گیا۔ایک بار ٹھیک پانچ منٹ بعد ہوش آیا۔ دوسری بار بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ دو مہینے تک اپنا ہی بازو کشکول کی مانندگردن میں لٹکائے پھرتا رہا۔

یہ مہان ہیں۔یہ انسانوں کی طرح کبھی کچھ نہیں مانگتے،نہ ہی کچھ چھینتے ہیں اور نہ ہی ملاوٹ کرتے ہیں۔یہ کبھی دھوکا نہیں دیتے اور نہ ہی کھبی جھوٹ بولتے ہیں۔یہ ہربار کچھ نہ کچھ دے کر ہی گزرتے ہیں۔زندگی،پھل،خوشی،سایہ،خوشبو،دوا، تیمار داری۔ نہ جانے کیا کیا؟میں نے درختوں کو مسکراتے ہوے بلکہ کھل کر مسکراتے ہوے دیکھا ہے۔سخاوت پسندی میں انکے برابر کوئی نہیں۔ یہ ملاوٹ کرنا نہیں جانتے۔یہ اپنے رب کی دی ہوئی ذمہ داری میں ذرہ برابر کوتاہی نہیں کرتے۔

نیچر (قدرت) کا قاعدہ ہے کہ ہر شے اپنے مزاج کے عین مطابق برتاو کرتی ہے۔سانپ اپنی پھٹکار کی عادت نہیں چھوڑ سکتے۔مور جنگل میں اکیلا ہی کیوں نہ ہو،ناچنا اسکی فطرت ہے۔شاخوں پر چھلانگے لگانا بندر کی عادت ہے۔الٹا لٹکے بغیر چمگادڑ کو چین نہیں آتا۔مرغ جتنا تھکا ہوا کیوں نہ ہو،صبح سویرے بانگ دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

درخت اپنی سخاوت پسندی کی عادت کی وجہ سے کچھ نہ کچھ دیے بغیر نہیں رہ پاتے۔یہ اتنا دیتے ہیں جتنا لینے والا ان سے لینا چاہتا ہے۔یہ بے حد خوبصورت ہیں۔انکی خوبصورتی کا صحیح اندازہ لگانے کے لئے دو آنکیں کافی نہیں،تین آنکھیں چاہیئے۔دو آنکھوں بلکہ ایک آنکھ سے بھی انکی کافی سے ذیادہ خوبصوتی دیکھی جاسکتی ہے۔ میں جب سیب،انگور،خوبانی اور اسطرح کے پانچ چھ مختلف النوع درختوں کے پتے اتار کر غور کرتا ہوں تو مجھے انکے انوکھے ڈیزائن بے حد بھاتے ہیں۔کوئی انجنیئر یا کاریگر اتنی خوبصورت انجنئرنگ یا کاریگری کھبی نہیں کر سکتا۔میں جب کبھی کسی شاخ کو چھو کر دیکھتا ہوں تو مجھے انکا لچکنا بے حد بھاتا ہے۔انکے پھولوں اورپتوں کی نرمی اور شرمیلے پن میں،میں بے حدگھم ہوجاتا ہوں،انکی خوشبو سے کھبی دل نہیں بھرتا۔ اسطرح کے پھل جب کھا رہا ہوتا ہوں تو مجھے انکی دیانت پر رشک ہونے لگتا ہے۔مجال ہے سیب کا درخت شہتوت پیدا کرے یا خوبانی انگور کا پھل دینے لگے۔میں انکے سائے میں دیر تک بیٹھتا ہوں تو گھنیری شاخوں کے بیچ سورج کی ایک کرن عجیب طرح سے جلوہ گر ہوتی ہے۔آپ اسے اپنے لئے قدرت کا ایک حسین تحفہ بھی کہہ سکتے ہیں۔سویرے دور کسی دیہات میں کسی پگڈنڈی پر چلتے چلتے اچانک آپ کسی درخت کے پاس سے گزرے تو تھوڑی دیر کے لئے ضرور رک جائے یہ آپ سے باتیں کرنے کے لئے بے تاب ہوگا،بے شمار باتیں،ایسے ہی جیسے میرے اور آپکے کے بے تکلف دوست کسی دن کسی سیر کے دوران گھر سے دور ہم سے کر نے کے لئے بیتاب ہوں۔یہ شور کھبی نہیں مچاتے دھیمی باتیں کرتے ہیں ایسی دھیمی باتیں جیسے کوئی مرشد اپنے مرید کو تعلیم دے رہا ہو۔میرے منہ میں خاک اگر خدا نخوانستہ جب کھبی آپ بیمار ہوں اور بستر پر چاہے وہ ہسپتال کا بستر ہو یا آپکے گھر کا،لیٹے لیٹے تنگ آجائے تو تھوڑی دیر کے لئے بستر چھوڑ کر درختوں کے پاس چلے جائیں یا آپ ڈپریشن یا ٹینشن کا شکار ہوں توتھوڑی دیر کا درختوں کا ساتھ اپکی ڈپریشن،ٹینشن اور بیماری کا کسی ماہر ڈاکٹر یا مسیحا کر طرح علاج کرکے چھوڑ دینگے۔کبھی آپ کو تنہائی کا احساس ہونے لگے تو آپ کسی درخت کے پاس جاکر بیٹھے آپکو تنہائی کا دور دور تک بھی احساس نہیں ہوگا۔پھول کھلنے Blossom))کے موسم میں آپ کسی درخت،سیب،چیری،خوبانی وغیرہ کے پاس چلے جائیں اسے اپنے اندر محسوس کریں یہ کسی مسجد،مندر یا بت بھکشو کی طرح اپنی گیان میں مست اور اپکی روحانی تسکین کا کسی عبادت گاہ کی طرح سامان فراہم کرینگے۔پت جڑ کے موسم میں انکے جڑتے پیلے پتے بہت کچھ بتاتے ہیں۔

مجھے نہیں معلوم لوگ اپنی تصویریں اونچی عمارتوں ِ، جگمگاتے ایوانوں اور بڑی گاڑیوں کے ساتھ کیوں کھینچوانا پسند کرتے ہیں،تصویر درخت کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے آپ اپنی بے حد چاہی جانے والی محبوبہ کے ساتھ تصویر کھینچوا رہے ہوں۔یقیناً درخت بے حد چاہی جانے والی محبوبائیں ہی تو ہیں۔انکے بغیر ہم اور ہمارا ماحول دونوں ہی نامکمل ہیں۔انکے ریشوں،جڑوں،پتوں اور چھلکوں میں عجیب دوا پوشیدہ ہے۔ رم جھم کے دنوں میں یہ دعوت نظارہ دیتے ہیں اور کسی پریستان کے فوارے کا منظر پیش کرتے ہیں۔یقیناً آپ کسی درخت پر چڑھنا پسند فرمائیں گے۔درخت پر چڑھنا آپکو بہت فرحت دیگا۔پرندے کتنے سیانے ہیں جواپنا مسکن،چہکنے اور پھدکنے کے لئے درختوں کا انتخاب کرتے ہیں۔یہ کسی کو سایہ دیتے ہیں،کسی کو پھل،کسی کو چھت الغرض یہ ہر کسی کو کچھ نہ کچھ دے ہی جاتے ہیں۔

انسان کی غذا پھل،پھول،اناج اورگھوشت ہے۔اس صورت میں ان درختوں کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ اس دنیا میں ہم سے پہلے آئے۔آپ اس زمین پر بھی کہہ سکتے ہیں۔

ہماری دادی آماں کہا کرتی تھی۔بیٹا رات کے وقت کسی بڑی درخت کے پاس مت جا نا وہاں جن بھوت رہتے ہیں۔جوان ہونے تک بڑے درختوں سے یہ سوچ کر کہ وہاں بھوت پریت رہتے ہوں گے، ڈرتے رہے، مگر اب جب کھبی میں سوچنے لگتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ کتنے ذہین تھے وہ لوگ جو کسی سکول،کالج یا یونیورسٹی تو نہیں گئے پھر بھی سائنس پر انکو کافی دسترس حاصل تھی۔بڑے درخت رات کے وقت اکسیجن خود استعمال کرتے ہیں اور کاربنڈائی اکسائیڈ خارج کرتے ہیں،جو انسانی زندگی اور صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ایسی صورت میں رات کے وقت کسی بڑے درخت کے پاس جانا یقیناً ڈر کا باعث یا جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بات کافی دلچسپ ہے کہ درخت کبھی قلم بھی رہا،کاغذ بھی اور دوات بھی۔کھبی درختوں کو بھگوان،دیوتا اور خدا کا رتبہ بھی حاصل رہا۔آپ اس عظیم نعمت کو اپنے گیلری،گھر کی چھت پر اور کسی کھڑکی کے پاس چھوٹے سے مٹکے میں بھی اگا سکتے ہیں۔یہ روز آپکو شبنم کے قریب لے جائے گا۔خوشبو مہیا کریگا،اکسیجن دیگا اور قدرت کے ساتھ اپکی گفتگو کروائے گا۔

دنیا کا کوئی انسان درختوں سے نفرت نہیں کرتا۔ان میں تعصب نا م کو نہیں۔یہ بچوں کیطرح معصوم ہوتے ہیں۔ان سے پیار کیجئے، ان سے ملئے گلیے،ان سے بات کریں، انکو سمجھنے کی کوشیش کریں آپ اپنے اندر ایک عجیب تبدیلی محسوس کرینگے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: