سرکاری سکولوں کی خراب کارکردگی پر تشویش ہے، ذمہ داروں‌کے خلاف کاروائی کی جائے، سپریم کونسل نگر کا مطالبہ

گلگت( سٹاف رپورٹر )سپریم کونسل نگر نے قراقرم بورڈ کے نہم اور دہم امتحانات میں ضلع نگر کے سرکاری سکولوں کے خراب نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکریڑی ایجوکیشن گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر نوٹس لیکر ضلع نگر کے جن سرکاری سکولوں کے نتائج خراب آئے ہیں ان کے زمہ داروں اور اساتذہ کے خلاف کاروائی عمل میں لائے جائے۔ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی خراب کارکردگی باعث تشویش ہے ۔ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی بھاری بھر تنخواہیں اور مراعات کے باوجود بورڈ سطح پر خراب نتایج سوالیہ نشان ہے۔ سرکاری سکولوں کی خراب نتائج کے حوالے سے محکمہ تعلیم کے زمہ داران اب تک خاموش ہے اور اس حوالے سے کوئی نوٹس نہیں لیاگیا ہے۔انجمن حسینیہ نگر اور سپریم کونسل کی کابینہ کی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین سپریم کونسل نگر محمد حسین ایڈوکیٹ نے کہا کہ ضلع نگر کے سرکاری سکولوں کے نتایج دیگر اضلاع کے نسبت بہت ہی زیادہ تشویش ناک ہے۔ وادی نگر کے جن سرکاری سکولوں کے نتایج صحیح نہیں آیا ہے ان سکولوں کے زمہ داراں اور اساتذہ کے خلاف کاروائی عمل میں لانا چاہئے اور آئندہ کے لئے کوئی میکنیزم بنانا چاہئے تاکہ سرکاری سکولوں کے نتائج اور کارکردگی بہتر ہوسکے۔ انہوں نے کہا ہے جن اساتذہ کا مضمون فیل ہوا ہے ان اساتذہ کا ضلع نگرسطح یا گلگت سطح کے اندر تبادلہ کیا جائے ۔ تاکہ وہ آئندہ اپنے کارکردگی میں بہتری لائے جاسکے۔ محکمہ تعلیم کے زمہ داران نے نگر کو تعلیمی سطح پر مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے اور غیر سرکاری ادارے کی بے بنیادی سروے کو بنیاد بناکر نگر کو تعلیمی سطح پر کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نگر کے اندر بہت سے سکول اساتذہ سے خالی اور بہت سے سکول میں مطلوبہ اساتذہ کی کمی ہے۔ محکمہ تعلیم کے زمہ داروں کو بارہا علم میں لانے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔ وادی نگر کے اندر بہت سے سکولوں کی گزشتہ کئی سالوں سے بلڈنگ تیار ہے لیکن محکمہ تعلیم والے ان کے پی سی ون تیار کرنے اور منظور کرنے کے لئے مختلف حرنے استعمال کررہے ہین اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ صوبائی سطح پر نگر کے خلاف تعلیمی میدان میں سازش کی جارہی ہے۔ انہوں نے چیف سکریڑی اور سکریڑی ایجوکیشن سے مطالبہ کیا کہ نگر کے اندر جتنے بھی سکولوں کے پی سی ون ابھی تک نہیں بنے ہیں ان کو ہنگامی طور پر منظوری دی جائے اور سکولون میں اساتذہ کی کمی کو پوری کیاجائے۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments