کالمز

نیٹکو، گلگت بلتستان کا قومی اثاثہ 

تحریر۔احسان شاہ 

کسی بھی ریاست کے ادارے اس ریاست کی طاقت کہلاتے ہیں۔ جو ریاست کو مضبوط بنانے کے ساتھ خدمات بھی سرانجام دیتے ہیں۔ان اداروں کی فعالیت اور استحکام سے خدمات کے دائرہ کار کو مزید وسعت ملتی ہے۔ ناردرن ایریاز ٹرانسپورٹ کارپوریشن (نیٹکو) گلگت بلتستان کا قومی اثاثہ ہے۔1974میں محض چار جیپوں سے جس ادارے کی بنیاد رکھی گئی تھی آج اس ادارے میں سفری اور مال برداری کے بیڑے میں سینکڑوں مختلف اقسام کی گاڑیاں موجود ہیں۔ یہ ادارہ جہاں گلگت بلتستان کی دور دراز وادیوں اور علاقوں کے مکینوں کو بروقت سفری سہولیات فراہم کرنے میں ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہاں اس ادارے کی مال بردار گاڑیاں گندم کی بروقت ترسیل میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس ادارے سے براہ راست کئی خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ اور بلواسطہ طور پر اس ادارے سے جڑی ہوئی کاروباری سرگرمیوں کو بھی پروان چڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔ نیٹکو کی خدمات کی تاریخ کی اگر بینائی کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کے ہر شعبے کی ترقی میں اس قومی ادارے کا کلیدی کردار رہا ہے۔ جن میں سفری و کارگو سہولیات کی فراہمی، روزگار کے مواقعے، تعلیم،سیاحتی ترقی، بین الضلاعی و بین الصوبائی تعلقات اور روابط کے استحکام اور پاک چائنا دوستی کا تسلسل شامل ہے۔

گلگت بلتستان کا پاکستان کے دیگر علاقوں سے رابطے کے راستے غیر معمولی پہاڑوں،دروں اور سنگلاخ چٹانوں پر مشتمل ہیں۔ماضی میں ان دور دراز وادیوں او ر پسماندہ علاقوں کے لیے غذائی اجناس،اشیائے خوردو نوش خصوصا گندم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے 1974 میں ناردرن ایریازٹرانسپورٹ کارپوریشن(NATCO) کا قیام عمل میں لایا۔اس کے بعد سے انتہائی متحرک انداز میں اس ادارے نے گلگت بلتستان کی دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے مکینوں کو گندم کی ترسیل کو جاری رکھا۔اور ایسے ناموافق حالات میں بھی جاری رکھا جب شدید بارشوں اور لینڈ سلائٹنگ کی وجہ سے شاہراہ کئی کئی ہفتوں تک بند رہی۔ اس دوران نیٹکو نے پرائیویٹ طور پر چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے متبادل سٹرک ناران کاغان کے راستے گلگت بلتستان پہنچایا تاکہ علاقے میں گندم کی قلت کا سامنا نہ ہو۔اس کے علاوہ قدرتی آفات کے موقع پر اس ادارے نے دیگر صوبائی اداروں کے ساتھ ملکر بے مثال خدمات سرانجام دیں۔ ان دنوں عالمی سطح پر کررونا جیسی وبا نے نظام زندگی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اس وبا کے دوران سارے ادارے بند رہے ہیں۔دیگر پرائیویٹ سفری ادارے بند تھے۔ لیکن نیٹکو ایک ایسا ادارہ تھا کہ جن کے کارکنوں اور ملازمین نے ملک کے دیگر حصوں میں پھنسے ہوئے گلگت بلتستان کے باسیوں کو ان کی منزل تک پہنچایا۔ اس دوران تمام سفری ادارے بند تھے۔ نیٹکو محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کی ہدایات اور رہنمائی میں زائرین،طلبا اور دیگر مسافروں کو مسلسل سفری سہولیات فراہم کرتا رہا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ نیٹکونے اپنے اسلام آبادآفس میں طلبا کو رہائش اورکھانے کا انتظام کیا۔لیکن یہ سارا کام حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات یعنی ایس او پیز کے تحت ہوا۔ نیٹکو کی ان خدمات کا اعتراف سرکاری اور صحافتی سطح پر ہوا۔ اخبارت اور سوشل میڈیا پر نیٹکو کی خدمات کو بھر پور سراہا گیا۔بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ عوام کو اس ادارے کی اہمیت کا بھرپور اندازہ ہوا۔ اس وبا کے دوران نیٹکو نے گلگت بلتستان کے عوام کو گندم کی ترسیل کا سلسلہ جاری رکھا تاکہ علاقے میں گندم کے بحران کا مسلہ پیدا نہ ہو۔ ہنگامی حالات کے دوران نیٹکو کے ٹرک ہنگامی حالات میں گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں کے باسیوں کو گندم کی ترسیل جاری رکھے ہوئے تھے۔باوجود اس کے کہ ملک کی بڑی شاہراہوں اور رابطہ سٹرکوں میں جابجا مشکلات تھیں۔ نیٹکو کے ٹرک شاہراہ قراقرم پر رواں تھے۔

اس ادارے کی خدمات کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔اپنی اہمیت کے باوجود اپنے قیام سے لے کر اب تک یہ ادارہ کئی بار نشیب و فراز سے گزرا۔ لیکن اس ادارے سے وابستہ کارکنوں اور ملازمین نے ڈٹ کر ناگفتہ حالات کا مقابلہ کیا۔اور ادارے کو اپنے پاوں پر کھڑا کیا۔ عام لوگوں کا یہ تاثر ہے کہ نیٹکو شدید مالی مشکلات سے دوچار ہے اور خسارے میں ہے اور نیٹکو تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ 1974میں نیٹکو کے پاس صرف چار جیپیں تھیں اور آج اس ادارے کے پاس سینکڑوں گاڑیاں ہیں۔اس وقت نیٹکو کے پاس کوئی ذاتی دفتر یا اثاثہ موجود نہیں تھا مگر اب اسلام آباد سے لے گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں نیٹکو کی اپنی زمینیں،دفاتر، فلنگ پمپس موجود ہیں۔آج نیٹکو کے کارگو بیڑے میں 22ویلر کے ٹرک تک موجود ہیں۔نیٹکو کا پاس آئی ٹی کا مربوط نظام اور تجربہ کار عملہ ہے۔آئی ٹی کا عملہ ٹرکوں اور بسوں میں موجود نصب شدہ ٹریکر کے ذریعے گاڑیوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اس وقت اس ادارے کے پاس تقریبا بارہ سو ملازمین ہیں۔ اس ادارے کی ترقی اور استحکام کے لئے کام جاری ہے۔نیٹکو کی گلگت بلتستان کے لئے خدمات بے مثال ہیں۔یہاں بس ایک گزارش ہے کہ زندہ قوموں کی طرح ہمیں اپنے قومی اداروں کے استحکام کے لئے کوششیں کرنی ہوں گی۔تنقید سے بلاشبہ تعمیر کا پہلو اجاگر ہوتا ہے لیکن تنقید برائے تنقید سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس لئے اس ادارے کی ترقی کے لئے مثبت تجاویز ضرور دیں۔کیونکہ یہ گلگت بلتستان کا قومی ادارہ ہے۔

۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d