کالمز

کیا سوال اٹھانا جرم ہے؟

عبدالحسین آزاد

تاریخ کے اوراق پلٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال اٹھانے کا جرم قدیم ہے۔اس کی پاداش میں مارے جانا، ہمسر زندان ہونا،مصائب وآلام کا جھیلنا بھی روایات سے ثابت ہے۔سوال کے جرم کی سزا سے تو موسیٰ بھی بچ نہیں پائے۔حضرت خضر نے موسیٰ سے اپنی راہیں جدا کرلی۔حالانکہ موسیٰ کا سوال اٹھانا فطری امرتھا۔حضرت خضر ؑ کے منع کرنے کے باوجود موسیٰ ؑکا یوں گویاں ہونا،کم فہمی، کم علمی کا نتیجہ نہیں بلکہ وہ حالات اور واقعات تھے،جنہیں دیکھنے کے بعد ولی خداکے لیے خاموش رہنا ناممکن تھا۔موسیٰ ؑ کا فرعون سے ٹکرانا، درباربدر ہونا،سختیوں کا جھیلنا،سوال کا نتیجہ تھا۔ سوال اٹھانے کے جرم میں ہی ابراہیم ؑکو آگ میں دھکیلا گیا۔ سوال اٹھانے کا عمل ہی تو ہے جوانسان کو مقام اشرف عطا کرتا ہے۔

اشراف المخلوقا ت کا جو مقام انسان کو ملا ہے،وہ بلا سبب ومقصد نہیں۔ سوال کی قوت صرف انسان کے پاس ہے،یہ انسان کی وہ صفت ہے جو دیگر مخلوقات سے اس کو ممتاز کرتی ہے۔ سوال اٹھانے والے عام لوگوں سے یکسر مختلف ہوتے ہیں،ان کی عقل،فہم وفراست، سوچ وفکر اور بصیرت و بصارت عام لوگوں سے ذرا ہٹ کے ہوتی ہے۔ وہ حالات و اقعات کو، سماجی نظام کو،قدرت کی رعنائی کو مختلف زاویہ سے دیکھتے ہیں۔ سوال اٹھانے کا رواج تو صدیوں پرانا ہے مگر سوال اٹھانے والوں کی تعداد ہر صدی میں محدود رہی ہے۔ سوال اٹھانے والے نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہوتے ہیں۔ سوال،جہاں سوال اٹھانے اورجواب دینے والوں کو مشکل میں ڈال دیتا ہے،وہی علم وتحقیق کے بند دریچے کھولنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہی سوال کی طاقت ہے،جس نے انسان کو پتھروں، غاروں اور درختوں کے کھول سے نکال کر پرُ تعیش زندگی کی جانب مائل کیا۔ پتھروں کے کھول سے انٹرنیٹ کے کھول تک کاسفر سوال ہی کی مرہون منت ہے۔ یہ فہم سوال ہی کا نتیجہ تھا،کہ درخت سے گرتے پھل کے معمولی واقعے پر سوال اٹھا یا اور کشش ثقل کا قانون پیش کرکے رہتی دنیا تک امر ہوگئے۔ میں بات نیوٹن کی کررہا ہوں۔ حالانکہ اس سے قبل بھی خس وخاشاک، پتھر،پھل اور پھول وغیرہ خلاء میں تحلیل نہیں ہواکرتے بلکہ زمین پر ہی گیر تے تھے، فرق صرف اتنا تھا کہ سوال اٹھانے والا کوئی نہ تھا۔ کارل مارکس سے پہلے بھی غریب تھے،سرمائیہ دار تھے، دولت مند تھے، سرمایہ سمیٹنے والے تھے، کارل مارکس نے سوال اٹھایا اور کہا ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ دولت چند گھروں کی رخیل بنی رہے۔ سر سید کو ہی دیکھ لیجیے سوال اٹھایا۔،مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوتے ہوتے بچ گئے، علامہ اقبال نے سوال اٹھایا تو کفر کے فتوے لگے اور یہ سلسلہ آج تک تھم نہ سکا۔ایران کے ایک اسکالر آیت اللہ جواد عاملی سوال اور جواب کے بارے میں لکھتے ہیں ”کہ سوال و جواب کا مقام حیات علمی میں وہی ہے جو حیات حیوانی میں نر اور مادہ کا ہوتا ہے، حیات حیوانی میں اگر نر اور مادہ میں سے کوئی ایک بھی با نجھ یا عقیم ہوجائے تو نسل حیوانی کا سلسلہ روک جاتا ہے،اسی طرح سے حیات علمی میں سوال یا جواب دونوں میں سے کوئی ایک بھی اگر عقیم ہو تو حیات علمی متروک ہوجاتی ہے” اس قاعدہ کی رو سے تو ہمارا نظام ہی با نجھ ہوچکا ہے۔تعلیمی اداروں میں سوال و جواب دونوں عقیم ہیں۔سوال میں اگر علمی تولیدی صلاحیت ہوتو بھی جواب دینے والے جواب کی بجائے سوال کی تولیدی صلاحیت ختم کرنے کے در پے ہوتے ہیں

۔سوال اٹھانے والوں کے ساتھ ہمارامجموعی سلوک اچھوتوں جیسا ہے، آج کل سوال اٹھانے والوں سے رسمی تعلقات تک منقطع کیے جارہے ہیں۔سوال اٹھانے والے کاانجام اکثر بھیانک ہوتا ہے۔قیام پاکستان سے تاحال وطن عزیز میں سوال اٹھانے والے، بذات خود سوال بن گئے ہیں،ایسا سوال جس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں بھی سوال کا سلسلہ متروک ہوتا چلا آرہا ہے۔ جامعات میں بڑی کھیپ ایسے اساتذہ پر مشتمل ہوتی ہے جو اعلیٰ سند یافتہ تو ہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں، ایسے اساتذہ کی بڑی کھیپ پنپ رہی ہے جو علمی بانجھ پن کاشکا ر ہیں۔ ایسے میں ہمیں صحت مند علمی،تحقیقی، فلسفی اور تخلیقی نسل کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ یہی تعلیمی و تدریسی بانجھ پن کے عناصر ہیں جن کی بدولت جامعات کا نظام روبہ زوال ہے اور اقبال کے شاہین آج کرگس کی چال چل رہے ہیں۔ دنیا بھر کی جامعات تحقیق،تخلیق اور ریسرچ کی جانب گامزن ہیں،لیکن ہماری جامعات ہر سال علمی بانجھ شدہ افراد کی بڑی کھیپ ملک کو مہیا کررہی ہیں۔قوموں کی ترقی نوجوانوں سے ہے اور ہمارے ملک کے نوجوان تنقید اور تحقیق کی بجائے تقلیدکو باعث زینت سمجھتے ہیں، اس لیے کہ ان کی تعلیمی پرورش جس ماحول میں ہوئی ہے وہاں تقلیدی رواج عام ہے۔وہاں طلباء سے تخلیق و تحقیق کی جگہ پیسے لے کرکمرہ جماعت سجانے کے عمل کواپنی منفر د تخلیقی صلاحیت سمجھاجاتاہے۔اس تعلیمی نظام کے ہوتے ہوئے ملکی ترقی، ہنوز دلی دور است۔ پس اگر ملک کے حالات کو بدلنا ہے تو،اس نظام میں تبدیلی درکار ہے، علمی بانجھ پن کو ختم کرنا ہوگا، جامعات میں تعلقات کی بناء پر سند یافتہ اساتذہ کی جگہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، کردار یافتہ،اخلاق یافتہ، محققین اور ناقدین کو موقع دینا ہوگا۔اساتذہ کی تعیناتی تعلقات،سفارش،پسند و ناپسند کی بجائے اہلیت کی بنیاد پرہونی چاہیے۔تاکہ جامعات میں جنسی ہراسانی،تشدد، بلیک میلنگ اوردھونس دھمکیوں کے واقعات کم ہوں۔ دوران تدریس اساتذہ کی گفتگو دلائل،تاریخی حقائق،تحقیق اور علمی استدلال سے مزین ہونہ کہ دھمکیوں سے لبریز۔تاکہ سوال اٹھانے والوں کی حوصلہ افزائی ہو،تخلیقی رجحان کے حامل طلباء کو آگے بڑھنے کا موقع ملے نہ کہ مالشی اور پالشی نظام میں حائل ہوکر منڈلاتے رہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: