کالمز

آلو، سیاست اور بے حسی

شمس الرحمن تاجک
تاریخ سے شغف رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ گرم چشمہ وادی کو انجی گان یہاں کی زرخیزی اور انسانی رویوں کی کمال کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ یہاں کی زرخیزی ہمیشہ سے بیرونی مسافروں، مہمانوں اور سیاحوں کو متاثر کرتا رہا ہے۔ پرانے زمانوں میں اس علاقے کی زرخیزی کا یہ عالم ہوا کرتا تھا کہ قحط زدہ علاقوں سے آنے والے مہمانوں کو پیٹ بھر کر کھانا او ساتھ لے جانے کے لئے خوراک بھی میسر آیا کرتا تھا۔انجی گانی لوگ قابل کاشت زمین کی کمی کے باوجود زرخیزی زمین سے ہمیشہ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ تاریخ کے ہر دور کے ساتھ آج بھی جاری ہے۔انجی گان اپنے باسیوں کے ساتھ پورے چترال کو آج بھی کچھ نہ کچھ فراہم کررہا ہے۔ اس فراہمی بسیار کو کچھ ”اچھے“ لوگ آج کل ”اچھی“ نظروں سے دیکھنے یا پھر قبول کرنے کو تیار نہیں۔مگر سب سے افسوسناک پہلو ذرخیزی انجی گان کو لگنے والی دھچکوں میں یہی ہے کہ اب یہ ذرخیزی انجی گان کے کچھ ”اپنوں“ سے بھی برداشت نہیں ہورہا ہے۔
بڑے بوڑھے فرماتے ہیں کہ اخلاق، انسانیت، تہذیب اور تمام انسانی رویوں کا دارومدار بھرے اور خالی پیٹ سے ہوا کرتا ہے۔ جب پیٹ خالی ہو تو ڈاکیہ کو ڈاکو بننے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے۔ تختوں کا تختہ بھی اس لئے ہوجاتا ہے کہ پیٹ خالی ہے۔ بھرے ہوئے پیٹ کے ساتھ کوئی کیوں یہ سوچے گا کہ کسی کے تخت سے خطرہ ہے یا کسی کو تختے تک لے جانے میں فائدہ۔ زندگی اس سطح پر آنے میں دیر نہیں لگاتی مگر پیٹ خالی ہونا چاہئے۔ انجی گانی لوگوں میں بھی اچھے اوصاف کا موجود ہونا بس اسی ایک نکتے کی بدولت ہے، کہ یہاں کے لوگ بھوک و افلاس کا شکار کبھی نہیں رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب لوگوں کے منہ سے نوالہ چھینا گیا چاہے تہذیب و نرم خوئی کے جس بھی درجے پر وہ معاشرے ہوں۔ انہیں ان تمام کمالات کو بھولنے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے؟۔ ان تاریخی شواہد کے ہوتے ہوئے انجی گانی لوگوں کے منہ سے نوالہ چھین لینا انسانی عقل تسلیم کیوں کر کرسکتی ہے۔ کیوں ہر سال یہ سب دھرائے جاتے ہیں۔
ایشوز دو ہیں
پہلا ایشو آلو کے فصل پر لگنے والی ٹیکس کا اور دوسراوادی لٹکوہ کے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے لٹکوہ یوسی کو ریلیف پیکیج سے مکمل طور پر محروم کرنے کا۔ حالیہ سیلاب اور فصلوں کی مکمل طور پر تباہی کے بعد علاقے کے غریب لوگوں کی سانسوں کی بحالی کے لئے یہ دونوں ایشوز بہت ہی اہم ہیں۔ہم پہلے ایشو کو ہی لیتے ہیں۔ ٹیکس لینا اور دینا دونوں ریاست کے انتظام و انصرام کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔ہمارے ملک میں ٹیکس کا نظام لاگو کرنے کی ناکامی کے اصل  ذمہ دار بھی وہی لوگ ہیں جو ٹیکس کے نظام کے نام پر تنحواہیں لے رہے ہوتے ہیں۔ اس کی حالیہ مثال چترال کے دور افتادہ علاقے گرم چشمہ سے حاصل ہونے والی آلو کی پیداوار پر بہت ہی بچگانہ انداز میں ٹیکس لاگو کرنے کی کوشش ہے۔ اسی طرح کی کوشش اس سے پہلے بھی کئی بھی آزمائے جاچکے ہیں مگر ناکامی اور معزز عدالت کے فیصلے کے باوجود دوبارہ سے اسی انداز میں ٹیکس لاگو کرنے کی کوشش کرنا عدالتی فیصلے اور آج کل کے حالات میں جبکہ آدھے سے زیادہ چترال سیلاب برد ہوچکا ہے ایک مذاق ہی تصور کیا جائے گا۔لوگوں کی آلو کی تیار فصلیں وادی لٹکوہ میں سیلاب برد ہوچکی ہیں۔ گندم کی تیار فصل اور جانوروں کا چارہ سب کچھ تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ لوگ زندہ رہنے کی جتن میں لگے ہوئے ہیں اور کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا ہے کہ اگلا پورا ایک سال کیسے زندہ رہا جاسکتا ہے۔ اس دورانحکومت یہ  ڈیمانڈ کرے کہ جو کچھ بچا ہوا ہے وہ میرے حوالے کرو۔ اس لئے کہ ہم نے آپ پر عدالتی فیصلے کے باوجود ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیا کسی مہذب معاشرے میں یہ تصور کیا جاسکتا ہے؟۔حالانکہ اب یہ ٹیکس والا نوٹی فی کیشن واپس ہوچکا ہے مگر اگلے سال پھر سے اسی انداز میں دہرایا جائے گا۔
اب دوسرا مذاق ملاحظ فرمائیں۔ حالیہ سیلاب کے دوران لوئر چترال میں شیشی کوہ کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ وادی لٹکوہ ہے۔ مخیر حضرات اور ادارے آج بھی لٹکوہ یوسی کے کئی علاقوں میں لوگوں تک ریلیف پہنچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ لٹکوہ یوسی کے کئی گھرانے، عبادت خانے اور افراد سیلاب سے شدید متاثر ہوچکے ہیں۔ تمام مخیر ادارے اور افراد ان علاقوں میں لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر ان علاقوں میں کوئی نظر نہیں آرہا ہے تو وہ انتظامیہ ہے۔ غیر ذمہ دارانہ رویے کی انتہا دیکھئے کہ تحصیل لٹکوہ کے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے یوسی لٹکوہ کو سرے سے ریلیف پیکیج سے مکمل طور پر خارج کردیا گیا۔ اس رویے اور اس طرح کے سروے کو غیر ذمہ داری کے علاوہ کیا اور کوئی نام دیا جاسکتا ہے۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا لٹکوہ یوسی کو ریلیف پیکیج سے الگ کرنے کا ذمہ دار صرف ضلعی انتظامیہ ہے یا ہمارے منتخب کردہ سیاسی نمائندے بھی اس جرم میں شریک ہیں۔ کیا عوامی نمائندے اتنے غیر ذمہ دار ہوسکتے ہیں کہ سیلاب برد ہونے والے اپنے ہی گھر سے بے خبر ہوں۔
اتنے غیر ذمہ دار افراد کی سربراہی میں ہونے والے فیصلوں کے دوران اس بات کی توقع رکھنا بے کار ہی ہے کہ وہ چترال میں آنے والے دنوں کی سختی اور پریشانیوں کا حساب لگانے کا ہنر جانتے ہیں۔ ہمارا مجموعی رویہ صرف تگڑے کمیشن کی وصولی کی حد تک رہا ہے اس لئے چترال میں سیلاب اور بارشوں کے بعد بظاہر جس چیز کو سب سے اہمیت دی جارہی ہے وہ سیلاب کی تباہ کاریاں، دریا برد ہونے والے مکانات و زمینات اور مال مویشی ہیں۔ فی الحال کوئی اس ایشو پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے کہ آنے والے تین سے چار مہینے کے بعد اصل ایشو جو پورے چترال کو متاثر کرے گا وہ خراب ہونے والی گندم کی تیار فصل اور جانوروں کے لئے تیار شدہ چارے کی خرابی سے پیدا ہونے والی قحط کا امکان ہے جس سے انسان اور جانور دونوں شدید متاثر ہوں گے۔ چترال میں ایسے خاندانوں کے بارے میں اب تک کوئی سوچنے کو بھی تیار نہیں جو اپنی ذاتی جائیداد سے اپنے لئے غلہ اور جانوروں کے لئے چارہ حاصل کرتے ہیں، پورے سال اسی جمع شدہ غلہ اور چارے سے زندگی کی ضروریات پورا کرتے ہیں۔ کیا یہ اس سال بھی ممکن ہے۔ کیا کوئی اس بارے میں بھی سوچنے کو تیار ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: