عوامی مطالبات اور ہمارے حکمرانوں کا رویہ 

تحریر سید مہدی شاہ

جب ایک گاؤں میں پہلی بار منشیات آنا شروع ہو ا تو عوام میں اس حوالے سے چہ میگوئیاں شرو ع ہو گئیں چرس استعمال کر نے والوں سے سنی سنائس گئی باتوں کے مطابق لوگوں نے چرس کے حوالے سے تجزیے شروع کر دئے گاؤں کے چند آوارہ لڑکوں نے ایک دن اجتماعی طور پر چرس پینے کا پروگرام بنایا اس حوالے سے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان کو بازار سے لاکر دیگر جوانوں کوچرس مہیا کر نے کی ذمہ داری دے دی گئی جب اس نوجوان کے باپ کو اس کے بارے میں علم ہوا تو اس نے تمام آوارہ نوجوانوں کو سبق سکھانے او ر ان کے ذہنی معیار جانچنے کے لئے ایک ترکیب بنایا اس نے اپنے بیٹے کو چرس مہیا کر نے سے روکنے کی بجائے یہ ذمہ داری خود اپنے سر لے لی اس نے ایک دن معین کر دیا اور تمام نوجوانوں کو اس دن چرس مہیا کر نے کا وعدہ کیا معین شدہ دن کو اس بزرگ نے بازار سے چرس کی بجائے انتہائی نا قص قسم کا نسوار لے کر گیا اور تمام نوجوانوں کو سگریٹ میں چرس کی بجائے نسوار بھر کر پلادیا چونکہ ان جوانوں نے زندگی میں کبھی چرس نہیں پیا تھا وہ اس کے اثرات سے نا آشنا تھے دوسروں سے سنی سنائی باتوں کے مطابق وہ تمام نوجوان بھی نسوار بھرا سگریٹ پی کر نشے میں آگئے اور دوسروں سے سنی ہوئی باتوں کو ذہن میں لاتے ہوئے ایک ،،سر ،، میں آگئے اور نشے میں ایک دوسرے سے بے ہو دہ باتیں کر نے لگے اسی دوران چرس کے بدلے نسوار بھرا سگریٹ پلا کر سب کو مد ہوش کرنے والا دانا بزرگ بولا بچو آپ ایک دوسرے کو نا زیبا باتیں کیوں کرتے ہو اصل تم سب تمام قسم کے بے ہودہ باتوں کے مستحق ہیں سگریٹ میں نسوار بھر کر پینے سے تم لوگ اتنے مدہوش ہوئے پڑے ہوتو اصلی چرس ملا تو تم لوگوں کی حالت کیا ہوگی بالکل یہی حال گلگت بلتستان کے مو جودہ منتخب سیاستدانوں کاہے عوام ان کو اس لئے ووٹ دیتے ہیں کہ عوامی حقوق کا ہر موقع پر دفاع کیا جائے ذاتی مفادات کے لئے علاقے کو کسی بھی صورت بدنام نہ کریں اپنی کر سی بچانے کے لئے علاقے میں مذہبی تفرقے کو ہوا دینے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے عوامی مسائل کے حل کے لئے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے حصے کا کر دار بھر پور ادا کر یں مگر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے گزشتہ پریس کانفرنس میں ٹیکس اور آئینی حقوق کے لئے چلنے والی تحریک کے ردعمل میں اپنی کرسی کو بچانے کی خاطر تحریک کو فرقہ واریت اور علاقائی تعصب کی بھینٹ چڑھانے کی ناکام کوشش کی اور قومی میڈیا کے سامنے علاقائی مفادات کا دفاع کر نے کی بجائے خطے کو ٹیکس نہ دینے والے اور یہاں کے عوام کو انتہائی غیر سنجیدہ قرار دینے کی کو شش کی گئی ہے استور ، چلاس ، گلگت اور دیگر اضلاع کے جو علماء ، سیاستدان اور تاجر برادری جو اس ٹیکس مخالف تحریک میں شریک تھے وہ حفیظ سر کار کو نظر ہی نہیں آئے ایسا ظاہر کر نے کی کوشش کی گئی کہ ٹیکس مخالف تحریک عوام کا جمہوری حق ہی نہیں عوام کسی مسلکی اور علاقائی تعصب کی وجہ سے حکومت کے خلاف تحریک چلا رہی ہے اگر ٹیکس مخالف تحریک علاقائی تعصب سے کی وجہ سے چلی تھی تو گلگت کے گڑھی باغ میں لانگ مارچ کے شرکاء کے لئے کئی استقبالبہ کیمپ کس نے لگائے?دیامر ، استور ، گلگت اور دیگر علاقوں میں شٹر ڈاون ہڑتال کرانے کے لئے بلتستان کے کن افراد نے زبر دستی کیا?احتجاج اور ہڑتال صرف بلتستا ن میں ہوئے ہیں اور ٹیکس کا خاتمہ فقط بلتستان والوں کا مطالبہ لگتا ہے تو طے شدہ معاہدے میں ایکشن کمیٹی کی جانب سے بلتستان کے علاوہ دیگر علاقوں کے رہنماوں سے حکومت کی مذاکرات کن نکات پر کی جا رہی ہے?کسی ایک مسلک کے لوگ ٹیکس مخالف تحریک کا حصہ تھے تو گانچے سے لیکر دیامر تک کے دیگر فرقوں کے علمائے کرام کے ٹیکس مخالف بیانات دینے کے لئے کس نے اکسا یا ? خطے کی حساسیت ، صوبے کی حیثیت اور عوام کے مطالبات کا تقاضا تھا کہ وزیر اعلٰی عوام کے پشت پر کھڑے ہوتے اور عوامی جذبات اور مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے وفاق کے سامنے آئینی حقوق اور ٹیکس کے خاتمے کے لئے ڈٹ جاتے تو علاقے کے دیگر حقوق بھی دینے پر وفاق بھی مجبور ہو جاتی اور حفیظ الرحمٰن خطے کے عوام کے سامنے سرخرو بھی ہو تے اور آئندہ آنے والی نسلیں ٹیکس مخالف تحریک کے شرکاء اور موجودہ حکومت کو اچھے الفاظ میں یا د کر تے ۔ ورنہ نسوار بھرا سگریٹ پی کر مدہوش ہونے والے نوجوانوں کی طرح لو لا لنگڑا صوبہ جو ایک وزیر اور سیکر ٹری کے ماتحت ہے کا وزیر اعلٰی بننے پر مدہوش ہو کر اپنی لولی پاپ جیسی اقتدار کو بچانے کے لئے عوامی اہمیت کے مطالبات کو فرقہ واریت اور علاقائیت کی بھینٹ چڑھانے کی روش نہیں بدلیں گے اور چرس کے اثرات سے نا آشنا نو جوانوں کی طرح لولا لنگڑا صوبے کی اقتدار ملنے پر دیگر آئینی صوبے کے حکمرانوں سے بھی ذیادہ مد ہوش ہو کر بیٹھ جائیں گے تو گلگت بلتستان کو آئینی حقوق ملیں گے نہ ہی کس ٹیکس کا خاتمہ ہوگا وفاقی حکمران بھی سمجھ بیٹھیں گے کہ گلگت بلتستان کے حکمران لولا لنگڑا صوبے کی اقتدار سے اتنا ہی نشے میں ہیں جس طرح نسوار بھرا سگریٹ کو چرس سمجھ کر وہ نوجوان،،سر ،،میں آئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments