کالمز

دانش سکول کی گانچھے منتقلی: پس منظر، تنازعہ اور کامیابی کا جائزہ

وزیرِاعظم پاکستان، میاں شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں تین دانش اسکول بنانے کا اعلان کیا تاکہ علاقے کے طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔ اس اعلان کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ تینوں ریجن میں ایک ایک اسکول بنایا جائے گا، اور مختلف اضلاع میں ان اسکولوں کے قیام کے حوالے سے غور و خوض شروع ہوا۔ ضلع گانچھے کی مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے ایک اسکول گانچھے میں قائم کیا جائے گا۔ اس حوالے سے صوبائی سطح پر بھی پارٹی کے اندر اتفاقِ رائے پیدا ہو گیا تھا، کیونکہ یہ ایک وفاقی منصوبہ تھا، اور وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہونے کے باعث یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ ضلع گانچھے میں اسکول کا قیام یقینی ہوگا۔ اس اعلان کو سوشل میڈیا پر بھی نمایاں طور پر پیش کیا گیا۔

کچھ عرصے بعد سرکاری سطح پر یہ فیصلہ سامنے آیا کہ شگر انتظامیہ کو دانش اسکول کے قیام کے لیے موزوں زمین کا تعین کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یوں، ابتدائی طور پر ضلع شگر کو دانش اسکول کے قیام کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ جب یہ فیصلہ سامنے آیا تو مسلم لیگ (ن) گانچھے کی ضلعی قیادت نے اسکول کو واپس گانچھے میں لانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے وفاقی وزیر احسن اقبال سے بھی ملاقات کرکے معاملہ اٹھایا، لیکن ان کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں، اور شگر کو ہی اسکول کے قیام کے لیے حتمی طور پر منتخب کر لیا گیا۔ وزیرِاعظم پاکستان، میاں شہباز شریف نے اس کا سنگِ بنیاد رکھنا تھا۔

بعد ازاں، زمین کے ملکیتی حقوق پر شدید تنازعہ پیدا ہو گیا۔ مقامی سطح پر اختلافات اور زمین کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل نے اسکول کے عملی آغاز میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ ضلعی اور ڈویژنل سطح پر انتظامیہ نے اس تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کی، لیکن جب معاملہ طول پکڑ گیا اور اس کے حل کے امکانات کم ہونے لگے، تو حکام نے دانش اسکول کو کسی اور موزوں مقام پر منتقل کرنے پر غور شروع کر دیا۔

دانش اسکول جیسے اہم تعلیمی منصوبے کو ناکام ہونے سے بچانے میں کمشنر بلتستان، کمال خان نے مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں، معاملہ فہمی اور بروقت فیصلوں نے اس منصوبے کو بچا لیا۔ اگر وہ اس معاملے میں مداخلت نہ کرتے تو شاید بلتستان میں دانش اسکول کا قیام ایک خواب ہی رہ جاتا، اور گلگت بلتستان کے طلبہ ایک اہم تعلیمی سہولت سے محروم رہ جاتے۔

اسی طرح، دانش اسکول کو گانچھے منتقل کروانے میں ڈپٹی کمشنر گانچھے، کیپٹن (ر) اریب مختار نے بھی انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ان کے عوامی خدمات کے جذبے، تعلیم دوستی، اور بہترین انتظامی صلاحیتوں نے اس منصوبے کو ضائع ہونے سے بچا لیا۔ اگر ان کی جگہ کوئی اور افسر ہوتا تو شاید یہ ممکن نہ ہو پاتا۔ انہوں نے انتھک محنت سے تمام متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیا، گانچھے کے عوام سے مشاورت کی، اور دانش اسکول کے قیام کو حقیقت بنانے میں کامیابی حاصل کی۔

جب شگر میں زمین کے تنازعے کی وجہ سے دانش اسکول کے قیام میں تاخیر ہونے لگی تو گانچھے کو ایک ممکنہ متبادل کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ اس موقع پر گانچھے کی ضلعی انتظامیہ نے فعال کردار ادا کیا اور علاقے کے عوام کو اس منصوبے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ سلینگ کے عوام نے دانش اسکول کے قیام کے لیے دو کنال اراضی، جو پہلے ڈیویژنل پبلک اسکول کے لیے مختص تھی، دانش اسکول کے لیے دینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ زمین کی فوری دستیابی، عوامی تعاون، اور ضلعی انتظامیہ کی انتھک کوششوں کی بدولت حکومت نے دانش اسکول کو شگر سے گانچھے منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔

یوں، کمشنر بلتستان کمال خان اور ڈپٹی کمشنر گانچھے، کیپٹن (ر) اریب مختار کی قائدانہ صلاحیتوں، علم دوستی اور عوامی خدمات کے جذبے کی بدولت یہ اہم تعلیمی منصوبہ ناکام ہونے سے بچ گیا۔ اگر ان افسران نے بروقت اقدامات نہ کیے ہوتے تو شاید یہ منصوبہ تاخیر یا تنازعات کا شکار ہو کر ختم ہو جاتا۔ ان کی محنت اور بصیرت نے دانش اسکول کو نہ صرف بچایا بلکہ اسے گانچھے میں کامیابی سے منتقل کرنے میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button