سُروں میں زندہ تہذیب
کالم : قطرہ قطرہ
میر غضنفر علی خان نے مومن آباد ہنزہ میں ایک میوزک اسکول کی افتتاحی تقریب میں جب بزرگی کے باوجود اپنے ہاتھوں سے ڈھاملی/ڈھولے (ڈھولک) کی تھاپ چھیڑی تو یہ محض ایک رسمی عمل نہیں تھا، بلکہ اس بات کا جیتا جاگتا اظہار تھا کہ ہنزہ کے میر خاندان کا مقامی ثقافت، موسیقی اور روایات سے صدیوں پرانا رشتہ آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے۔ ان کی انگلیوں کی جنبش میں صرف ردھم نہیں تھی بلکہ تاریخ کی بازگشت، تہذیب کی خوشبو اور پہاڑوں کی روح بول رہی تھی۔
اس منظر میں دلکشی اور رونق اُس وقت مزید بڑھ گئی جب میر غضنفر کے سیاسی حریف بابا جان اور ان کے ساتھی آصف سخی اور اکرام اللہ نے میر غضنفر کے ڈھولک کی تھاپ پر ثقافتی رقص پیش کیا۔ یہ لمحہ صرف ایک ثقافتی منظر نہیں تھا بلکہ ایک علامت تھا کہ موسیقی، ثقافت اور فن وہ زبانیں ہیں جو سیاسی اختلافات، نظریاتی تقسیم اور سماجی فاصلے بھی مٹا سکتی ہیں۔ جہاں سیاست دیواریں کھڑی کرتی ہے وہاں موسیقی دلوں کے درمیان راستے بناتی ہے۔
موسیقی انسان کے باطن کو تازگی بخشتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عمر کے اس حصے میں بھی میرِ ہنزہ جس پھرتی، شوق اور دلکشی کے ساتھ ڈھاملی بجاتے دکھائی دیے، وہ واقعی قابلِ رشک منظر تھا۔ ان کے چہرے کی شادابی اور حرکات کی روانی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ فن اور موسیقی سے جڑا انسان وقت کی سختیوں کے باوجود اندر سے جوان رہتا ہے۔
ماضی میں گلگت بلتستان اور چترال کی مقامی ریاستوں کے حکمران خاندان صرف اقتدار کے مراکز نہیں تھے بلکہ ثقافت، موسیقی، شاعری، رقص اور روایات کے امین بھی سمجھے جاتے تھے۔ شاہی دربار مقامی فنکاروں، سازندوں اور شعرا کی سرپرستی کرتے تھے، جہاں تاریخ اور روایات صرف محفوظ نہیں رہتی تھیں بلکہ پروان بھی چڑھتی تھیں۔ وقت کے بدلتے دھاروں نے اگرچہ ان روایات کو کمزور کیا، مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ ہنزہ کی میر فیملی، یاسین کے راجہ خاندان اور چترال کے سابق حکمران خاندان آج بھی کسی نہ کسی صورت ان ثقافتی اقدار کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم پونیال، گوپس، اشکومن، بلتستان اور دیگر علاقوں میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کے حکمران خاندان اپنی تاریخی و ثقافتی وابستگی کو محض یادگاروں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی ثقافتی سرگرمیوں کا حصہ بنیں۔ موسیقی، لوک رقص، روایتی کھیل، زبان، لباس اور ادبی محافل کی سرپرستی کے ذریعے وہ نئی نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑ سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان کی موسیقی یہاں کے لسانی، ثقافتی اور فرقہ وارانہ تنوع کے باوجود ایک مشترکہ میراث کی حیثیت رکھتی ہے۔ بروشسکی، شینا، بلتی، وخی، کھوار اور دیگر زبانوں میں گائے جانے والے لوک گیت دراصل اس خطے کی اجتماعی روح کے مختلف رنگ ہیں۔ جنگوں کی دھنوں سے لے کر شادیوں، فصلوں، میلوں، قبیلوں اور خاندانوں کی خوشیوں تک ہر موقع کی اپنی مخصوص لے اور ساز ہے، جن میں اس سرزمین کی صدیوں پرانی تاریخ پوشیدہ ہے۔
یہ موسیقی صرف تفریح نہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے۔ ان دھنوں میں ہجرتوں کی داستانیں، محبت کی کہانیاں، پہاڑوں کی سخت زندگی، بہادری کے قصے اور اجتماعی یادداشت محفوظ ہے۔ اگر اس موسیقی اور ثقافت کا تحفظ نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں اپنی شناخت کے اہم ترین حوالوں سے محروم ہو جائیں گی۔
آج جب دنیا بھر کی طرح گلگت بلتستان بھی شناخت کے بحران، سماجی تقسیم اور فکری انتشار کا سامنا کر رہا ہے تو یہاں کی منفرد موسیقی اور ثقافت امید کی ایک روشن کرن بن سکتی ہے۔ موسیقی شدت پسندی کے مقابلے میں برداشت، شعور، رواداری اور انسان دوستی کو فروغ دیتی ہے۔ ایک نوجوان جب اپنے علاقے کے ساز، رقص، زبان اور لوک ادب سے جڑتا ہے تو وہ نفرت کے بیانیوں کے بجائے اپنی زمین، تاریخ اور انسانوں سے محبت سیکھتا ہے۔
دنیا کے کئی معاشروں میں شاہی یا روایتی خاندان سیاسی طاقت سے محروم ہونے کے باوجود قومی روایات اور تہذیبی شناخت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ برٹش رائل فیملی اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جس کے پاس عملی سیاسی اختیار نہیں، مگر وہ قومی تاریخ، روایت اور ثقافتی تسلسل کی علامت تصور کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں بھی اگر یہ تاریخی خاندان سیاست کی کشمکش سے دور رہتے ہوئے خود کو ثقافتی، ادبی اور سماجی سرگرمیوں تک محدود رکھیں تو وہ ہر طبقۂ فکر کے لیے قابلِ قبول، غیر متنازع اور احترام کے حامل علامتی مراکز بن سکتے ہیں۔
ایسے خاندان اگر روایت، ثقافت اور فن کے چراغ روشن رکھیں تو آنے والی نسلیں صرف کتابوں میں اپنی تاریخ نہیں ڈھونڈیں گی بلکہ اسے زندہ، سانس لیتے اور سازوں کی لے میں دھڑکتے ہوئے محسوس کریں گی۔ گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں گونجتی یہ دھنیں دراصل ایک ایسے معاشرے کی آواز ہیں جو اپنی اصل، اپنی تاریخ اور اپنی تہذیب کو فراموش نہیں کرنا چاہتا۔






