گلگت بلتستان میں مثالی گورننس ممکن ہے
کالم: قطرہ قطرہ
گلگت بلتستان کے پاس گڈ گورننس سے متعلق مثالی انتظامی یونٹ بننے کی وہ تین شرائط موجود ہیں جو بیک وقت پاکستان کے کسی دوسرے صوبے کے پاس نہیں، کم آبادی، بلند سماجی ہم آہنگی اور قابل انتظام جغرافیہ۔ بیس لاکھ آبادی کے ساتھ بہتر ہزار مربع کلومیٹر کا نظم و نسق چلانا انتظامی طور پر سب سے آسان ہونا چاہیے تھا، لیکن آج بھی ہمارا نظام سب سے زیادہ تھکا ہوا ہے۔
ہمارا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، سسٹم کی فرسودگی ہے۔ آج بھی ایک شہری کی فائل دس میزوں سے گزرتی ہے، ہر میز پر نیا اعتراض، نیا دستخط اور نئی تاریخ ملتی ہے۔ بعض اوقات فائل گم ہو جاتی ہے اور شہری کو دوبارہ قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ یہ فائل کلچر نوآبادیاتی دور کی باقیات ہے۔ جب نظام خود اذیت کا ذریعہ بن جائے تو شہری مجبورا سفارش ڈھونڈتا ہے اور حکومت کو عارضی حل کے طور پر کھلی کچہری لگانی پڑتی ہے۔ حالانکہ اصول یہ ہے کہ اگر سسٹم ٹھیک ہو تو کھلی کچہری کی نوبت ہی نہ آئے۔
گلگت بلتستان کم آبادی کی وجہ سے پاکستان میں ای گورننس کا سب سے کامیاب پائلٹ ماڈل بن سکتا ہے۔ دنیا میں ایسے کئی ماڈلز موجود ہیں جن سے ہم براہ راست سیکھ سکتے ہیں۔
پہلا ماڈل ایسٹونیا کا ایکس روڈ ماڈل ہے۔ صرف تیرہ لاکھ آبادی کا یہ یورپی ملک دنیا کا پہلا مکمل ڈیجیٹل ملک کہلاتا ہے۔ دو ہزار ایک میں شروع کیا گیا ان کا ایکس روڈ سسٹم ایک ڈی سینٹرلائزڈ ڈیٹا ایکسچینج ہے جو ایک ہزار سے زائد سرکاری و نجی اداروں کو جوڑتا ہے، سالانہ دو اعشاریہ دو ارب سے زائد ٹرانزیکشنز کرتا ہے اور تین ہزار سے زائد ای سروسز فراہم کرتا ہے۔ وہاں ننانوے فیصد سرکاری خدمات آن لائن ہیں اور ٹیکس گوشوارہ تین منٹ میں جمع ہوتا ہے۔ اس ماڈل کا بنیادی اصول ہے کہ شہری سے ڈیٹا صرف ایک بار لیا جائے، باقی ادارے آپس میں خود ڈیٹا شیئر کر لیں۔
دوسرا ماڈل متحدہ عرب امارات کا دبئی ناؤ ماڈل ہے۔ دبئی حکومت نے دبئی ناؤ کے نام سے ایک ہی موبائل ایپ بنائی ہے جو پچاس سے زائد سرکاری و نجی اداروں کی تین سو بیس سے تین سو اسی تک خدمات ایک ہی جگہ فراہم کرتی ہے۔ بل ادائیگی، ویزہ، ٹریفک جرمانہ، صحت، تعلیم سب کچھ ایک لاگ ان سے۔ اس وقت ستائیس لاکھ سے زائد صارفین اسے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا فلسفہ ہے کہ شہری کو حکومت کے پاس نہ جانا پڑے، حکومت خود شہری کے پاس آئے۔
تیسرا ماڈل روانڈا کا ایرمبو ماڈل ہے۔ انیس سو چورانوے میں خانہ جنگی سے تباہ ہونے والا افریقی ملک روانڈا آج ای گورننس میں افریقہ کا لیڈر ہے۔ انہوں نے دو ہزار پندرہ میں ایرمبو گورنمنٹ پلیٹ فارم بنایا جو آج سو سے زائد سرکاری خدمات ایک ہی ونڈو پر دیتا ہے، ہر ماہ تین سے پانچ لاکھ درخواستیں نمٹاتا ہے اور اب تک پچیس ملین سے زائد درخواستیں پراسیس کر کے سو ملین ورکنگ گھنٹے بچا چکا ہے۔ سروس کا وقت پانچ دن سے کم ہو کر چوبیس گھنٹے رہ گیا ہے۔ یہ ماڈل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر بنا ہے اور بغیر انٹرنیٹ کے فیچر فون پر بھی یو ایس ایس ڈی کے ذریعے چلتا ہے۔
ان تینوں ماڈلز کی روشنی میں گلگت بلتستان کے لیے ایک عملی روڈ میپ واضح ہے۔ پہلا، جی بی ون ونڈو پورٹل کا قیام، جہاں تمام خدمات ایک ہی ڈیجیٹل دروازے پر ہوں۔ دوسرا، ٹائم باؤنڈ ای فائلنگ جس میں ہر افسر کے لیے مدت مقرر ہو اور تاخیر پر فائل خودکار طور پر اوپر چلی جائے۔ تیسرا، سٹیزن فیڈ بیک اور ڈیجیٹل احتساب۔
وزیر اعلی امجد ایڈووکیٹ ایک قانون دان ہیں اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ تاخیری انصاف، انصاف سے انکار ہے، یہی اصول گورننس پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر ان کی حکومت اس نظام کو ٹھیک کرنے میں کامیاب ہو گئی تو گلگت بلتستان واقعی پاکستان کا پہلا پیپر لیس، فاسٹ اور مثالی صوبہ بن سکتا ہے۔ مثالی صوبہ وہ نہیں جہاں وزیر ہر شہری کا کام ذاتی طور پر کرے، مثالی صوبہ وہ ہے جہاں نظام اتنا مضبوط ہو کہ شہری کو وزیر تک جانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔






