حفیظ اللہ آمین صاحب کی گرفتاری، انصاف کی فراہمی کا مطالبہ ہی کر سکتے ہیں

ذرائع کے مطابق حفیظ اللہ امین صاحب سائیبر کرائیم ایکٹ کے تحت گرفتار ہو چکے ہیں لیکن فی الحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان پر کس قسم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دیکھا جائے تو محض تنقید کی بنیاد پر گرفتاری کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا، تاہم چترال جیسے ضلع میں قانون کی پاسداری ایک خوش آئند بات ہے۔ دوسری جانب، اگر چترال کا کوئی عام شہری سائبر کرائم سے متعلق شکایت درج کروانے جائے تو اسے اتنی مشکلات اور خوارکاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ خود خاموش بیٹھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

حفیظ صاحب چترالی زبان کے ایک معروف شاعر ہیں اور امید یہی ہے کہ وہ کسی ایسے جرم کے مرتکب نہیں ہوئے ہوں گے جس پر انہیں سزا ملے۔ اگرچہ موجودہ حالات میں انصاف کی توقع کم ہی نظر آتی ہے، لیکن اس کے باوجود ہم انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

متعلقہ

حکام اور معاشرے میں مثبت تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ اگر اسی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری رہا تو نوجوان نسل کا ایک بڑا حصہ جیل کی ہوا کھائے گا۔

حال ہی میں ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک صاحب کسی خاتون کی ویڈیو چلا کر فحاشی پر درس دے رہے تھے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر کوئی خاتون فحاشی پھیلا رہی ہے تو آپ اپنے ذاتی فائدے اور پروموشن کے لیے اس کی ویڈیو کیوں چلا رہے ہیں؟ جبکہ بات کرنے کے لیے اور بھی کئی موضوعات موجود ہیں۔

اس کے علاوہ، کسی بھی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی تصاوير يا ويڈيو سوشل ميڈيا پر پوسٹ کرنا قانوناً جرم ہے اور اس صورت میں جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔

ہماری ایک اور منفی عادت یہ ہے کہ اگر سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ پسند نہ آئے تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے بلاوجہ گالی گلوچ اور نازیبا تبصرے شروع کر دیے جاتے ہیں۔ لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ کسی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جا کر غلط یا ناخوشگوار کمنٹ کرنے کی صورت میں شکایت ہونے پر پولیس گھر میں داخل ہو کر بھی گرفتار کر سکتی ہے۔

آپ کی رائے

comments

سید اولاد الدین شاہ

سید اولاد الدین شاہ ایک فری لانسر صحافی ہے۔ ان کی تحریریں انڈیپنڈںٹ اردو، لوک سجاگ وغیرہ میں تواتر سے چھپتی ہیں۔ ان کا تعلق چترال سے ہے

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button