ہنزہ کی سیاست اور چار بروشسکی کہاوتیں: ایک عملیت پسند معاشرے کی کہانی

اگر کوئی سماجی محقق آج ہنزہ آئے اور اس پچھلے ایک ہفتے کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی مزاج کو سمجھنا چاہے تو شاید اسے سیاسی جماعتوں کے منشور، انتخابی نتائج یا سوشل میڈیا مباحث سے زیادہ بصیرت چند بروشسکی کہاوتوں سے حاصل ہو۔
یہ کہاوتیں/محاورے بظاہر سیاست کے بارے میں نہیں ہیں، لیکن ان میں ہنزہ کی اجتماعی نفسیات، قیادت کے انداز اور سیاسی رویوں کی گہری جھلک ملتی ہے جو صدیوں سے ہنزہ کے مزاج کی عکاسی کرتا ہے ۔ اور بلخصوص حالات حاضرہ پر صادق آتا ہے ۔
(1) "جی نش، بُتر اُنّش”
جان جائے مگر مینڈھا بچ جائے
پہلی نظر میں یہ ایک چرواہے کی کہاوت معلوم ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ زندگی کے ایک بنیادی اصول کی نمائندگی کرتی ہے۔
مینڈھا محض ایک جانور نہیں تھا۔ وہ خاندان کی دولت، آئندہ نسلوں کے ریوڑ، معاشی تحفظ اور مستقبل کی علامت تھا۔
اس لیے کہاوت کا اصل مطلب ہے:
"جو چیز تمہاری بقا اور مستقبل کی ضمانت ہے، اسے ہر قیمت پر بچاؤ۔”
آج کے ہنزہ میں "مینڈھا” اپنی شکل بدل چکا ہے۔
یہ تعلیم بھی ہو سکتی ہے، روزگار بھی، سرکاری ملازمت بھی، ترقیاتی منصوبے بھی، سیاحت بھی اور حکومتی وسائل تک رسائی بھی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ہنزہ میں سیاسی رہنماؤں کا اصل امتحان ان کے نظریات سے زیادہ ان کی کارکردگی پر ہوتا ہے۔ لوگوں کے نزدیک وہ رہنما زیادہ کامیاب سمجھا جاتا ہے جو سڑک، کالج، نوکری، ترقیاتی منصوبہ یا حکومتی رسائی دلوا سکے۔
یعنی سیاست میں بھی اصل سوال یہی رہتا ہے:
مینڈھا کون بچا سکتا ہے؟
(2) "جار بے فائدہ ؟”
اس سے مجھے کیا فائدہ ہوگا؟
یہ شاید ہنزہ کی سیاسی ثقافت کو سمجھنے کی سب سے اہم کنجی ہے۔
کسی جماعت کا ساتھ دینا ہے؟
فائدہ کیا ہوگا؟
کسی تحریک میں شامل ہونا ہے؟
فائدہ کیا ہوگا؟
کسی امیدوار کو ووٹ دینا ہے؟
فائدہ کیا ہوگا؟
باہر سے دیکھنے والوں کو یہ سوچ مفاد پرستی محسوس ہو سکتی ہے، مگر پہاڑی معاشروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ رویہ اکثر صدیوں کی محرومی، وسائل کی کمی اور بقا کی جدوجہد سے پیدا ہوتا ہے۔
جہاں زمین محدود ہو، پانی قیمتی ہو اور مواقع کم ہوں، وہاں لوگ نظریات سے پہلے نتائج دیکھتے ہیں۔
ہنزہ میں سیاسی نظریات کی کمی نہیں۔
یہاں قوم پرست بھی ہیں، ترقی پسند بھی، مذہبی سوچ رکھنے والے بھی، لبرل بھی اور قدامت پسند بھی۔
لیکن اجتماعی فیصلوں میں اکثر ایک اور سوال غالب آ جاتا ہے:
اس سے ہنزہ کو کیا ملے گا؟
(3) "جا ہالے دایا کے بیسن دشما، اُن ہالے دایا کے بیسن اسیرچُما”
تم میرے گھر آؤ تو کیا تحفہ لاؤ گے، میں تمہارے گھر آؤں تو کیا پیش کرو گے؟
یہ کہاوت ایک ایسے کردار پر طنز کرتی ہے جو ہر تعلق کو ذاتی فائدے کی نظر سے دیکھتا ہے۔
وہ مہمان ہو یا میزبان، اس کی سوچ ایک ہی رہتی ہے:
مجھے کیا ملے گا؟
اگر اس کہاوت کو سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ہنزہ کی سیاست کے ایک دلچسپ پہلو کو سامنے لاتی ہے۔
یہاں سیاست اکثر نظریاتی وابستگی کے بجائے مفادات، تعلقات اور لین دین کی بنیاد پر بھی تشکیل پاتی رہی ہے۔
سیاسی اتحاد بنتے ہیں۔
ٹوٹتے ہیں۔
افراد جماعتیں بدلتے ہیں۔
گروہ اپنی ترجیحات تبدیل کرتے ہیں۔
بعض اوقات یہ سب کچھ اصولی مؤقف سے زیادہ عملی فائدے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
حالیہ انتخابات اس کی ایک مثال ہیں۔
ووٹروں کی اکثریت نے اپوزیشن کے امیدوار کو منتخب کیا، مگر بعد میں منتخب نمائندے نے حکومت کا ساتھ اختیار کر لیا اور اس کی دلیل یہ تھی کہ اس سے ہنزہ کے مفادات بہتر طریقے سے حاصل کیے جا سکیں گے۔
تنقید کرنے والوں نے اسے سیاسی موقع پرستی قرار دیا۔
حامیوں نے اسے سیاسی حقیقت پسندی کہا۔
مگر دونوں صورتوں میں بنیادی سوال ایک ہی رہا:
ہنزہ کو کیا فائدہ ہوگا؟
(4) "گوچی غُراس”
شلوار میں پاخانہ کر دینا
یہ شاید سب سے دلچسپ اور معنی خیز کہاوت ہے۔
اس کا استعمال ایسے شخص کے لیے ہوتا ہے جو اپنی زبان یا حرکتوں سے خود بھی رسوا ہو اور دوسروں کو بھی مشکل میں ڈال دے۔
جو غیر ذمہ دارانہ بات کرے۔
جو بے سوچے سمجھے الزام لگائے۔
جو خاندان، برادری، گاؤں یا پوری کمیونٹی کو نقصان پہنچائے۔
ہنزہ کی سماجی اور سیاسی ثقافت میں یہ کہاوت ایک اہم حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے۔
یہ معاشرہ عموماً احتیاط، ذمہ داری اور سماجی وقار کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
ایسے رہنما جو غیر ضروری تنازعات پیدا کریں، جذباتی بیانات دیں یا اجتماعی مفادات کو خطرے میں ڈالیں، اکثر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔
اس کے برعکس سنجیدہ، محتاط اور ذمہ دار قیادت کو زیادہ قبولیت حاصل ہوتی ہے۔
گویا ایک غیر تحریری سماجی اصول موجود ہے:
ایسا کچھ نہ کرو جس سے پوری برادری شرمندگی یا نقصان کا شکار ہو۔
ہنزہ کے بارے میں یہ کہاوتیں ہمیں کیا بتاتی ہیں؟
یہ چاروں کہاوتیں مل کر ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتی ہیں جسے صدیوں کی کمیابی، جغرافیائی تنہائی اور باہمی انحصار نے تشکیل دیا ہے۔
یہاں غالب کردار کوئی انقلابی، نظریاتی جنگجو یا رومانوی خواب دیکھنے والا نہیں۔
بلکہ ایک عملیت پسند زندہ رہنے والا انسان (Pragmatic Survivor) ہے۔
ایسا شخص جو:
– اپنے وسائل کی حفاظت کرتا ہے۔
– فائدے اور نقصان کا حساب رکھتا ہے۔
– تعلقات کے عملی پہلو کو سمجھتا ہے۔
– اجتماعی مفاد کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتا ہے۔
– نتائج کو نعروں پر ترجیح دیتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ہنزہ کی سیاست میں بعض اوقات نظریات سے زیادہ نتائج اہم نظر آتے ہیں۔
لوگ نظریاتی گفتگو کر سکتے ہیں، لیکن ووٹ دیتے وقت عملی فائدے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
وہ اپوزیشن کو منتخب کر سکتے ہیں، مگر اگر وہی نمائندہ حکومت میں شامل ہو کر علاقے کے لیے زیادہ وسائل لا سکے تو اسے قبول بھی کر سکتے ہیں۔
بظاہر یہ تضاد محسوس ہوتا ہے، مگر ان کہاوتوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ رویہ مکمل طور پر منطقی دکھائی دیتا ہے۔
اصل سوال
تاہم اکیسویں صدی کا ہنزہ ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی۔
زرعی زمینوں کا خاتمہ۔
ثقافتی ورثے کا تحفظ۔
مقامی زبانوں کی بقا۔
آئینی حقوق کا سوال۔
پائیدار سیاحت۔
روزگار اور کاروبار میں ترویج –
اچھی حکمرانی اور مقامی حکومت –
یہ ایسے مسائل ہیں جن کے فوائد فوری طور پر نظر نہیں آتے۔
یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ آج کیا فائدہ ہوگا، بلکہ یہ بھی ہے کہ پچیس یا پچاس سال بعد آنے والی نسلوں کو کیا ملے گا۔
شاید ہنزہ کی آئندہ داستان اسی سوال کے جواب میں لکھی جائے گی۔
کیونکہ ماضی کا عملیت پسند زندہ رہنے والا انسان ہنزہ کو یہاں تک لے آیا ہے۔
مگر مستقبل شاید ایسے رہنما اور شہری کا تقاضا کرتا ہے جو صرف مینڈھے کو ہی نہیں، بلکہ اس چراگاہ کو بھی محفوظ رکھے جس پر آنے والی نسلوں کی زندگی کا انحصار ہے۔
نوٹ:
بروشسکی زبان وادب سے واقف معزز قارئین سے گزارش ہے کہ کہاوتیں کی درستگی فرمائیں اور کومنٹس میں مزید کہاوتیں ترجمہ کے ساتھ شیئر کریں۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button