گلگت بلتستان کے لیے مختص وفاقی بجٹ 2026–27 ………..اونٹ کے منہ میں زیرہ
کیا ایک بار پھر ترقیاتی ترجیحات نظرانداز ہو گئیں؟
وفاقی بجٹ 2026–27 اور حکومتِ گلگت بلتستان کے بجٹ کا جائزہ ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ایک مرتبہ پھر اس خطے کی اسٹریٹجک، معاشی، ماحولیاتی اور قومی اہمیت کے مطابق وسائل مختص نہیں کیے گئے؟
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان کے لیے تقریباً 136 ارب روپے کے مجموعی بجٹ میں سے 88 ارب روپے غیر ترقیاتی (Recurring) اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے لیے صرف 44 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکیج کے تحت مزید 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے بعد بھی مجموعی ترقیاتی وسائل صرف 48 ارب روپے بنتے ہیں۔
یہ رقم خطے کی جغرافیائی وسعت، آبادی، بنیادی انفراسٹرکچر، موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات، سرحدی اہمیت اور مستقبل کی ترقیاتی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی دکھائی دیتی ہے۔ یوں مجموعی بجٹ کا تقریباً دو تہائی حصہ انتظامی اور جاری اخراجات پر صرف ہوگا، جبکہ بنیادی ڈھانچے، انسانی ترقی، روزگار، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور معاشی ترقی کے لیے دستیاب وسائل انتہائی محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی، معاشی اور ترقیاتی حلقے اس ترقیاتی بجٹ کو "اونٹ کے منہ میں زیرہ” قرار دے رہے ہیں۔
یہ صورتحال اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ گلگت بلتستان محض ایک انتظامی خطہ نہیں بلکہ پاکستان کا آبی ذخیرہ، شمالی سرحدوں کا محافظ، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا داخلی دروازہ، چین کے ساتھ زمینی تجارت کا واحد راستہ، عالمی سیاحت کا اہم مرکز، معدنی وسائل سے مالا مال خطہ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ اس کے باوجود ترقیاتی سرمایہ کاری خطے کی ضروریات، آبادی، جغرافیائی وسعت، موسمیاتی خطرات اور قومی اہمیت کے مقابلے میں ناکافی دکھائی دیتی ہے۔
اسی تناظر میں ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے بجٹ کو صرف سالانہ اخراجات کی دستاویز نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک ایسی سرمایہ کاری کی حکمت عملی بنایا جائے جو انسانی ترقی، روزگار، ماحولیات، جدید معیشت اور قومی مفادات کو یکجا کرے۔
حکومتِ گلگت بلتستان کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کی ترجیحات
سالانہ ترقیاتی پروگرام میں روایتی تعمیراتی منصوبوں سے آگے بڑھتے ہوئے کم از کم 30 فیصد وسائل گرین گروتھ، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے مختص کیے جائیں۔ گلیشیئرز، جنگلات، چراگاہوں، واٹرشیڈ مینجمنٹ، سیلاب اور گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) سے تحفظ، قابلِ تجدید توانائی، صاف پانی، ویسٹ مینجمنٹ اور ماحول دوست سیاحت کو ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بنایا جائے، جبکہ تمام نئے انفراسٹرکچر کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کے مطابق ڈیزائن کیا جائے۔
کم از کم 25 فیصد ترقیاتی وسائل نوجوانوں کی ہنرمندی، روزگار، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت (AI)، فری لانسنگ، کاروباری معاونت اور خواتین کی معاشی بااختیاری کے لیے مختص کیے جائیں۔ ہر ضلع میں جدید اسکلز سینٹرز، اسٹارٹ اپ فنڈز، زرعی ویلیو چین پروگرام اور کاروباری معاونت کے مراکز قائم کیے جائیں تاکہ نوجوان روزگار کے متلاشی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بن سکیں۔
پائیدار ترقی کے لیے فعال، بااختیار اور مالی خودمختار بلدیاتی نظام ناگزیر ہے۔ ترقیاتی وسائل کا مناسب حصہ براہِ راست مقامی حکومتوں کو منتقل کیا جائے اور انہیں انتظامی و مالی اختیارات دے کر پانی، صفائی، ویسٹ مینجمنٹ، مقامی سڑکوں، پارکوں، کھیلوں، تفریحی سہولیات، شہری خدمات اور مقامی ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی و عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی جائے تاکہ ترقی کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچ سکیں۔
ترقیاتی بجٹ میں نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے میدان، سپورٹس کمپلیکس، یوتھ سینٹرز، لائبریریوں اور صحت مند تفریحی سہولیات کو بھی ترجیح دی جائے تاکہ ایک صحت مند، باصلاحیت اور مثبت معاشرہ تشکیل پا سکے۔
اسی طرح ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ انفراسٹرکچر پر صرف کیا جائے، جبکہ وسائل کی تقسیم صرف آبادی کی بنیاد پر نہیں بلکہ جغرافیائی وسعت، پسماندگی، موسمیاتی خطرات، بنیادی سہولیات کی کمی اور حقیقی ترقیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے۔
سکول کی تعلیم کو ھنر اور کاروبار سیکھنے کے مواقعوں سے جوڈا جاے اور صحت کے مراکز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے فنڈز فراہم کی جائیں ۔
وفاقی حکومت اور PSDP کی ترجیحات
وفاقی حکومت آئندہ پی ایس ڈی پی میں گلگت بلتستان کے لیے پانچ سالہ گرین گروتھ، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی ترقیاتی پیکیج کا اعلان کرے اور نئے منصوبوں کے آغاز سے پہلے تمام جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مکمل فنڈز فراہم کرے۔
بابوسر ٹنل کو قومی اہمیت کا منصوبہ قرار دے کر فوری فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ گلگت بلتستان کو سال بھر ملک کے دیگر حصوں سے محفوظ اور قابلِ اعتماد زمینی رابطہ حاصل ہو۔ اسی طرح دیامر بھاشا ڈیم، داسو ڈیم، شاہراہ قراقرم کی اپ گریڈیشن، جگلوٹ۔سکردو شاہراہ اور دیگر جاری وفاقی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔
سی پیک کے دوسرے مرحلے میں ایسے منصوبے شامل کیے جائیں جن سے گلگت بلتستان کی مقامی معیشت، نوجوانوں کے روزگار، صنعت، معدنیات، سیاحت، زراعت اور سرحدی تجارت کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔
سوست، گلگت، سکردو اور چلاس میں جدید ایکسپورٹ پروسیسنگ اور لاجسٹکس مراکز قائم کیے جائیں، جن میں کولڈ اسٹوریج، کولڈ چین، پیکنگ و گریڈنگ ہاؤسز، فائٹو سینیٹری لیبارٹریاں، فوڈ سیفٹی سرٹیفکیشن، ڈرائی پورٹس اور ون ونڈو ایکسپورٹ سروس سینٹرز شامل ہوں تاکہ گلگت بلتستان کی زرعی، باغبانی، ماہی پروری، شہد، جڑی بوٹیوں، قیمتی پتھروں اور دستکاری کی مصنوعات زمینی اور ہوائی راستوں سے عالمی منڈیوں تک باآسانی پہنچ سکیں۔
اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، اس کے ضلعی کیمپس اور یونیورسٹی آف بلتستان کو خصوصی ترقیاتی فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز، آبی وسائل، معدنیات، سیاحت، ماؤنٹین ایگریکلچر اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں عالمی معیار کی تحقیق اور اختراع کو فروغ دیا جا سکے۔
وفاقی حکومت معیاری گندم، آٹے اور پیٹرولیم مصنوعات پر جاری سبسڈی برقرار رکھے کیونکہ یہ مراعات نہیں بلکہ جغرافیائی دشواریوں، سخت موسمی حالات اور بلند ترسیلی لاگت کا منصفانہ ازالہ ہیں۔
اسی طرح جب تک گلگت بلتستان کے عوام کو آئینِ پاکستان کے تحت پارلیمنٹ اور دیگر وفاقی آئینی اداروں میں مؤثر نمائندگی حاصل نہیں ہوتی، "نمائندگی کے بغیر ٹیکس نہیں” کے جمہوری اصول کا احترام کیا جائے اور نئے وفاقی ٹیکس عائد کرنے سے گریز کیا جائے۔
مرکزی پیغام
حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان پر ہونے والی سرمایہ کاری صرف اس خطے پر خرچ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ یہی خطہ پاکستان کے سب سے بڑے گلیشیئرز، جنگلات، چراگاہوں، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی ماحولیاتی نظام کا محافظ ہے۔ بالائی دریائے سندھ کے طاس سے آنے والا تقریباً 70 فیصد پانی پاکستان کے دریائی نظام میں شامل ہو کر ملک کے میدانی علاقوں کو سیراب کرتا ہے، زرعی پیداوار کو ممکن بناتا ہے، پن بجلی پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور قومی آبی و غذائی سلامتی کی ضمانت بنتا ہے۔
اسی طرح گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری پاکستان کو سیاحت، معدنی وسائل، پاک چین سرحدی تجارت، سی پیک، قابلِ تجدید توانائی، قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام اور مستقبل کی سبز معیشت کی صورت میں طویل المدتی معاشی فوائد فراہم کرتی ہے۔ اس لیے گلگت بلتستان پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ درحقیقت پاکستان کی معیشت، ماحول، پانی، خوراک، توانائی، قومی سلامتی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ ترقیاتی بجٹ کو صرف تعمیراتی منصوبوں تک محدود رکھنے کے بجائے انسانی ترقی، نوجوانوں کی مہارت، خواتین کی معاشی شمولیت، فعال اور بااختیار بلدیاتی نظام، سبز معیشت، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، جدید برآمدی انفراسٹرکچر، اعلیٰ تعلیم، آئینی انصاف اور علاقائی مساوات پر مرکوز کیا جائے۔
اگر یہ ترجیحات آئندہ بجٹ اور قومی پالیسی کا حصہ بنتی ہیں تو گلگت بلتستان نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے پہاڑی خطوں کے لیے پائیدار، جامع اور ماحول دوست ترقی کا ایک مثالی ماڈل بن سکتا ہے، جبکہ پاکستان کو سیاحت، معدنی وسائل، سرحدی تجارت، آبی تحفظ، توانائی، غذائی سلامتی، ماحولیاتی استحکام اور پائیدار معاشی ترقی کی صورت میں اس سرمایہ کاری کے دیرپا ثمرات حاصل ہوں گے۔
ایک پُرامن ، مضبوط، خوشحال، تعلیم یافتہ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ گلگت بلتستان ہی ایک مضبوط، خوشحال اور پائیدار پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔






