داماس کا سیلاب آنے والے دنوں کے لئے ایک اہم وارننگ

آج داماس گاؤں میں آنے والے سیلاب نے مرکزی لنک روڈ سمیت بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ خوش قسمتی سے یہ درمیانے درجے کا سیلاب دن کے وقت آیا لوگ بروقت محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو گئے اس لیے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ لیکن بارشوں اور سیلاب کا موسم ابھی شروع ہوا ہے۔ اس لیے اب یہ وقت ہے کہ سنجیدگی سے سوچا جائے کہ اگر یہی صورتحال رات کے وقت پیش آئے تو کیا ہم واقعی تیار ہیں؟
ارلی وارننگ سسٹم کہاں تک مؤثر ہے؟ اگر اچانک سیلاب آ جائے تو کیا ہر گھر تک بروقت اطلاع پہنچ سکے گی؟ کیا ہمارے بزرگ، خواتین، بچے اور معذور افراد محفوظ مقام تک پہنچ سکیں گے؟ سب سے قیمتی چیز انسانی جان ہے اور اس کا تحفظ ہر حال میں ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
تالی داس کے سیلاب میں اگر مقامی چرواہے بروقت لوگوں کو خبردار نہ کرتے تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بروقت اطلاع کئی جانیں بچا سکتی ہے۔
جب تک ریڈ الرٹ برقرار ہے ہر گاؤں میں کمیونٹی سطح پر رضاکاروں کی ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔ ان کی ذمہ داریاں واضح ہوں محفوظ مقامات اور انخلا کے راستوں کی نشاندہی کی جائے اور ہر محلے یا گاؤں میں ایک ایسا رابطہ شخص مقرر کیا جائے جو ہنگامی اطلاع فوری طور پر سب تک پہنچا سکے۔ موبائل نیٹ ورک متاثر ہونے کی صورت میں متبادل ذرائع، جیسے مساجد کے لاؤڈ اسپیکر، سائرن یا مقامی رضاکاروں کے ذریعے اطلاع رسانی کا نظام بھی تیار ہونا چاہیے۔
دریاؤں، نالوں اور گلیشیئرز کے قریب غیر ضروری آمدورفت سے گریز کیا جائے، خصوصاً رات کے وقت۔ سیاح، چرواہے اور دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے افراد موسمی پیش گوئی اور سرکاری الرٹس کو نظرانداز نہ کریں۔ ہر گھر میں ہنگامی صورتِ حال کے لیے ایک چھوٹا بیگ تیار ہونا چاہیے جس میں ضروری ادویات، ٹارچ، پاور بینک، پینے کا پانی، خشک خوراک اور اہم دستاویزات محفوظ ہوں۔
اگر ممکن ہو تو کمیونٹی کے ذمہ داران، رضاکاروں اور بوائے اسکاؤٹس کی مدد سے مختصر مشقیں بھی کرائی جائیں تاکہ خصوصاً بچے، خواتین اور بزرگ ہنگامی صورتحال میں گھبراہٹ کے بجائے درست فیصلہ کر سکیں۔ ذہنی طور پر تیار کمیونٹی کسی بھی آفت کا بہتر مقابلہ کر سکتی ہے۔
گلوف (GLOF) اور حالیہ موسمی الرٹس معمولی انتباہ نہیں بلکہ ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا لیکن بروقت منصوبہ بندی، مؤثر رابطہ کاری، کمیونٹی کی تیاری اور پیشگی حفاظتی اقدامات کے ذریعے قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
گلگت بلتستان میں قدرتی آفات کا یہ موسم چند ماہ پر محیط ہوتا ہے۔ اگر اس دوران مقامی لوگ، انتظامیہ اور رضاکار مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو ان آفات سے ہونے والے نقصانات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

متعلقہ

Back to top button