کالمز
مسائل میں گھیرے پھنڈر کے عوام

تحصیل پھنڈر کو باقی ماندہ گلگت بلتستان سے کٹے ہوئے ایک مہینے ہونے کو ہے۔ اس دوران اس وادی کے باسی جن مشکلات سے گزر رہے ہیں وہ خدا ہی جانتا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ اس عرصے میں کسی سرکاری و نیم سرکاری ذمہ دار نے آکر وہاں کے لوگوں کا حال نہیں پوچھا۔ اس دوران چترال کی طرف سے اشیاء ضروریہ کی ترسیل ہورہی ہے، شروع شروع میں اس میں بھی رکاوٹ تھی۔ بہرحال تجار کی اپنی من مانی جاری ہے۔ پیٹرول ڈیزل ساڑھے تین سو سے اوپر فی لیٹر آٹے کے تھیلے پر اپنی مرضی کا منافع اور پھر غیر معیاری اشیاء کی بھر مار۔ علاقے میں ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو پھنڈر سے براستہ چترال پشاور اور کراچی جانا پڑ رہا ہے وہ بھی صاحب حیثیت لوگ ایسا کرسکتے ہیں غریب پڑے پڑے مررہے ہیں۔ کم از کم ایک خاتون کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جو علاج نہ ہونے کے باعث داعی اجل کو لبیک کہا۔
اسی دوران گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں سیلاب اور طغیانی سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ خلتی کے مقام پر جہاں 31 جولائی 2025ء کو سیلاب سے دریائے غذر کا راستہ بند ہونے کی وجہ سے جھیل بن گئی اور شاہراہِ غذر دریا برد ہوا تھا، گاؤں کے بیجوں بیج بادل پھٹنے کی وجہ سے دوبارہ سیلاب آیا۔ ایک ہی گھر کے پانچ افراد سمیت کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ جبکہ دائین اشکومن، یاسین، داماس غذر اور غلمت ہنزہ میں بھی طغیانی آنے کی وجہ سے املاک کا نقصان ہوا۔ اس سے پہلے فیری میڈوز دیامر میں سیلاب سے تباہ شدہ روڑ کی اپنی مدد آپ کے تحت بحالی کے دوران تودے گرنے سے دو شہری جان بحق اور دو شدید زخمی ہوئے تھے۔ چند دن بعد دنیور میں پینے کے پانی کی اسی طرح اپنی مدد آپ کے تحت بحالی کے کام کے دوران آٹھ نوجوان جان بحق ہوگئے۔
22 اگست 2025 کو جبکہ گلگت شندور روڑ کھلنا تھا ذرا سے فاصلے پر راوشن کے مقام پر گلیشیر پھٹنے کی وجہ سے سیلاب آیا۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم سو سے اوپر گھر تباہ ہوئے۔ اور گلگت شندور روڑ کھلنا تھا کہ بند رہ گیا۔ اب نجانے کب کھلے۔
لوگوں کے خاموشی سے مصیبتیں سہنے کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب تین ہفتے بعد ایک ادارے نے امداد کے نام پر ڈاکٹروں کے ساتھ کچھ تھیلے دالوں کے لے کر پھنڈر پہنچے تو وہاں بیماروں میں کچھ critical cases جیسے اپنڈیکس کے کیسز بھی سامنے آئے۔ ڈاکٹروں کی یہ ٹیم ایک گاؤں کے آدھے مریضوں کا بھی بوجہ ‘قید وقت معائنہ’ نہیں کرسکی اور واپس لوٹ گئی۔ اب سوچے ایک غریب آدمی ایسے مشکل وقت میں کیا کرسکتا ہے۔ روڑ بلاک ہے، پشاور تک جانے کے لیے جمع پونجی نہیں ہے۔
سرکاری مشنری کے اندر نااہلی کی ایک کہانی سن لیجیے۔ پاسکو کے تحت سول سپلائی کی گندم اب بائیو میٹرک سسٹم کے تحت تقسیم ہوتی ہے۔ پچھلے سال اسی طرح ہوا اب اچانک سے سسٹم کے اندر مبینہ خرابی سے سینکڑوں خاندانوں کا نام لسٹ سے غائب ہے۔ پھنڈر کے لوگ گندم لینے سول سپلائی پوائنٹ گئے اور ان کو بتایا کہ ان کے حصے کی گندم سرکار نے نہیں بھیجی ہے چونکہ ان کے خاندان کے افراد کا نام لسٹ میں موجود نہیں (یعنی ان خاندانوں کا ان کے مطابق وجود ہی نہیں)۔ تقسیم کنندہ کے مطابق عوام کو سول سپلائی آفیسر نے کہا ہے کہ عوام گاہ کوچ آکر اپنے ڈیٹا کا اندراج دوبارہ کروائے۔ اگر نہیں کروایا تو آگے بھی ان کو سول سپلائی سے سرکاری گندم نہیں ملے گی۔
اب اندازہ لگائیں کہ ایک پبلک سرونٹ کے دفتر سے پہلے سے موجود ڈیٹا غائب ہے (کیوں غائب ہے جبکہ پچھلے سال ٹھیک تھا اور اس کے مطابق گندم آرہی تھی؟)۔ اور وہ سینکڑوں لوگوں کو 110 کلو میٹر دور بلا رہا ہے اور اتنی زحمت کرنا گوارہ نہیں کرتا کہ ڈیوائس اٹھا کر پھنڈر آکر اپنی زمہ داری نبھائے۔
یہ مثال کے طور پر میں نے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے۔ اوپر بیان کردہ حالات کو ملا کر آپ لوگوں کی مشکلات کا اندازہ خود ہی لگا سکتے ہیں۔