کالمز

ہنزہ کی سیاست: ڈھول، کرتب اور پرانا تماشہ

گلگت بلتستان میں الیکشن کی آمد، بالکل اُس مداری کی طرح ہوتی ہے جو ہر پانچ سال بعد لاہور کے کسی پارک یا کراچی کی کسی چورنگی پر وہی پرانا ڈھول، وہی بوسیدہ تھیلا اور وہی گھسے پٹے کرتب لے کر آ دھمکتا ہے اور پورے اعتماد سے اعلان کرتا ہے.
حضرات! آج ایسا تماشہ دکھاؤں گا کہ آپ کی سوچ ہی بدل جائے گی.

تماش بین بھی ہر بار ویسے ہی اکٹھے ہو جاتے ہیں جیسے پہلی بار مداری کو دیکھا ہو۔ ڈھول بجتا ہے، بندر اچھلتا ہے، سانپ ٹوکری سے نکلتا ہے، اور مداری مسکرا کر کہتا ہے.
دیکھا! سب کچھ نیا ہے.
جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ
بندر وہی، سانپ وہی، مداری وہی بس ہجوم نیا.

بالکل یہی منظر آج حلقہ 6 ہنزہ میں نظر آ رہا ہے۔ ڈھول بج چکا ہے، کرتب شروع ہونے جارہا ہیں، نعرے فضا میں گونجنے والے ہیں، اور ہر امیدوار خود کو عوام کے دکھوں کا واحد حکیم ثابت کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ امیدواروں کی ایک پوری بارات میدان میں اترنے کیلئے تیار ہے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں اپنا اپنا کرتب ہے کوئی تلوار سے سانپ کاٹنے کا وعدہ کریگا ، کوئی ایک ہاتھ میں روزگار اور دوسرے میں ترقی اٹھائے کھڑا ہوگا۔
کوئی کہےگا میں آتے ہی پانی کا مسئلہ حل کر دوں گا.
کوئی اعلان کریگا کہ روزگار کے دروازے کھول دوں گا.
اور کوئی سینہ تان کر کہےگا کہ حلقے کی قسمت اب بدل کر رہے گی.
قصہ مختصر، وعدے ایسے بکھر ینگے جیسے مداری کے تھیلے سے رنگ برنگی چنیاں—دیکھنے میں دلکش، کھانے میں اکثر کھوکھلی
ہر مداری کے ساتھ کچھ بچے، کچھ بوڑھے اور کچھ انتہائی جذباتی تماش بین ہوتے ہیں لغت کی زبان میں انکو سیاسی جزباتی کارکن بھی کہا جاسکتا ہیں۔
نعرے ایسے لگتے ہیں جیسے بندر کو مرچیں سونگھا دی ہوں
ڈھول اتنا بجتا ہے کہ اصل بات سنائی دینا ہی بند ہو جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں رہتا کہ پروگرام کیا ہے، سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ شور کس کا زیادہ ہے۔
آزاد امیدوار اس میلے کے وہ فنکار ہوتے ہیں جو نہ مین سرکس میں جگہ پاتے ہیں، نہ گھر واپس جاتے ہیں۔ کوئی رسی پر چلنے کے کرتب دکھاتا ہے، کوئی آگ کے گولے اچھالتا ہے، اور کوئی صرف یہ اعلان کرتا ہے کہ میں سسٹم ہلا دوں گا
اکثر سسٹم ہلنے سے پہلے خود امیدوار ہی ہل جاتے ہیں۔
نتیجہ وہی، ٹکٹ کوئی بھی لے جائے
آخرکار الیکشن ہوگا۔ کوئی نہ کوئی امیدوار سب سے زیادہ تالیاں سمیٹ لے گا۔ کوئی ہار کر کہے گا ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے.
کچھ عدالت جائیں گے، کچھ سیاست سے عارضی کنارہ کشی اختیار کریں گے، اور کچھ اگلے میلے کے لیے اپنے کرتب مزید تیارو پختہ کریں گے۔
عوام اگلے پانچ سال وہی پرانا تماشہ دیکھیں گے
اس سیاسی سرکس سے ایک ہی سچ نکل کر سامنے آتا ہے:
کوئی نہ کوئی ضرور جیتے گا، مگر عوام کے حالات جوں کے توں رہیں گے۔

مداری بدلتا رہے گا، ڈھول بجتا رہے گا، بندر ناچتا رہے گا، تماش بین تالیاں بجاتے رہیں گے اور حلقے کے اصل مسائل خاموشی سے اگلے الیکشن کا انتظار کرتے رہیں گے۔
آخر میں عوام بھی وہی جملہ کہنے پر مجبور ہوجائینگے جو ہر سرکس کے بعد کہا جاتا ہے:
چلو، اگلی بار شاید کچھ نیا کچھ اچھا ہو

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button