کالمز

گلگت بلتستان اور بونیر میں سیلاب کے بعد ایمرجنسی ریسپانس کا تقابلی جائزہ

14 اگست کو بونیر میں آنے والے سیلاب کے بعد 22 اگست کو ڈپٹی کمشنر بونیر کے دفتر میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اقوام متحدہ کے چار ذیلی اداروں (یو این او سی ایچ اے، عالمی ادارہ صحت، یونیسف، یو این آئی او ایم) نیشنل ہیومینیٹیرین نیٹ ورک (NHN) اور پاکستان ہیومینیٹیرین فورم (PHF) سمیت 40 بین الاقوامی اور قومی فلاحی اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ اجلاس میں ایمرجنسی ریلیف پر جائزہ پیش کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق اس وقت تک 95 فیصد ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا تھا۔ نان فوڈ آئٹمز کے ساتھ ساتھ فوڈ آئٹمز بھی اس مقدار میں تقسیم کیے گئے جو چھ ماہ کے لیے کافی ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ادویات اتنی زیادہ تقسیم ہوئیں کہ متاثرین انہیں میڈیکل اسٹورز میں بیچنے لگے ہیں۔ اس دوران ریلیف کاموں کے لیے ترجیحی ضروریات کی نشاندہی بھی کی گئی۔ ضلعی انتظامیہ اور یو این او سی ایچ اے کے اشتراک سے ڈونر کوآرڈینیشن ڈیسک قائم کیا گیا اور ہفتہ وار رابطہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تمام شراکت داروں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنی کارکردگی کا ڈیٹا ضلعی انتظامیہ کے ساتھ شیئر کریں۔ این او سی کے عمل کو شفاف اور آسان بنایا گیا تاکہ ریلیف کی تقسیم مؤثر طریقے سے کی جا سکے۔

دوسری طرف گلگت بلتستان میں ہونے والی تباہی کسی بھی لحاظ سے کم نہیں تھی۔ بونیر میں انسانی جانوں کا نقصان زیادہ ہوا لیکن گلگت بلتستان میں بھی قیمتی جانوں کے ساتھ لوگوں کے گھر، زمین، جائیداد، مال مویشی اور انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچا۔ فلاحی اداروں پر یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایمرجنسی کے نام پر ڈونرز سے حاصل شدہ فنڈز کو شفاف اور منصفانہ طریقے سے متاثرین تک پہنچائیں۔ تاہم گلگت بلتستان میں صرف اے کے ڈی این، الخدمت فاؤنڈیشن سمیت چند مقامی ادارے سرگرم نظر آئے۔ کسی بڑے بین الاقوامی یا اقوام متحدہ کے ادارے کو ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لیتے نہیں دیکھا گیا۔ اگر کوئی ادارے موجود بھی تھے تو شاید وہ ہمیں نظر نہیں آئے۔

کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ بونیر کا فاصلہ گلگت بلتستان کی نسبت اسلام آباد سے قریب ہے۔ادارے آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔میڈیا میں زیادہ کوریج ملی۔ وہاں این او سی کا مسئلہ بھی نہیں تھا اور کئی ادارے پہلے سے ہی آن گراؤنڈ موجود تھے۔ جس کی وجہ سے اسے ترجیحات میں رکھاگیا۔ یہ سب اسباب اپنی جگہ درست، لیکن ایمرجنسی کی صورت میں ڈونرز کی بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی امداد کو کسی تفریق کے بغیر ہر متاثرہ علاقے میں استعمال کیا جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک جگہ ادویات اور ریلیف کا سامان ضرورت سے زیادہ دیا گیا، یہاں تک کہ روکنا پڑا جبکہ دوسری طرف متاثرین امداد کے لیے ترستے رہے۔

گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ کی صلاحیتوں سے سب واقف ہیں لیکن ان کے درجنوں ترجمان اور دیگر ذمہ دار اگر فرصت نکالتے تو کم از کم ان اداروں کو خط لکھ کر ریلیف سرگرمیوں میں شامل ہونے کی دعوت دیتے تاکہ متاثرین کی مشکلات کچھ کم ہوتیں۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا اور مقامی افراد ہی اپنی مدد آپ کے تحت سرگرم رہے۔ یہ مشکلات اب بھی برقرار ہیں۔ اگر یہ ادارے یہاں ایمرجنسی اور بعد ازاں بحالی کے کاموں کے لیے آتے تو نہ صرف متاثرین کی مشکلات میں کمی ہوتی بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے۔ ہم ملازمتوں کی کمی کا رونا تو روتے ہیں، لیکن جب مواقع سامنے آتے ہیں تو ان سے فائدہ اٹھانے کی سمجھ نہیں آتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم مقامی سطح پر ہی شکوے اور ایک دوسروں کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button