دیامر میں ترقی : سونا، جنگل یا علم و ٹیکنالوجی؟
ہر دور میں ترقی کے پیمانے بدلتے رہے ہیں۔ جو قومیں وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر نئے راستوں کا انتخاب کرتی ہیں، ترقی انہی کے قدم چومتی ہے، جبکہ جو معاشرے ماضی کے سہاروں سے چمٹے رہتے ہیں وہ رفتہ رفتہ پسماندگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں معاشی ترقی کے ذرائع وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے تمام علاقوں نے ان تبدیلیوں سے یکساں فائدہ نہیں اٹھایا۔
دیامر میں اگر ماضی پر نظر ڈالیں تو ایک وقت تھا جب جنگلات کی لکڑی معاشی سرگرمیوں کا سب سے بڑا ذریعہ تھی۔ جنگل ختم ہوئے تو چلغوزے نے اس خلا کو پر کیا اور اب سونے کی دریافت کو ترقی کی نئی امید کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام وسائل سے فائدہ ہمیشہ وہی طبقہ اٹھاتا رہا جس کے پاس پہلے سے سرمایہ، طاقت اور اثر و رسوخ موجود تھا۔ عام نوجوان آج بھی چند ہزار روپے کی سرکاری نوکری کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔
دیامر کی پسماندگی کی ایک بڑی اور ناقابلِ تردید وجہ ہمارا اجتماعی سیاسی انتخاب بھی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہاں اکثر ایسے افراد کو قیادت کا موقع دیا جاتا ہے جنہوں نے بدقسمتی سے بنیادی تعلیم تک حاصل نہیں کی۔ ظاہر ہے کہ جو شخص خود تعلیم اور علم کی اہمیت سے واقف نہ ہو، وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے جدید اور تیزی سے بدلتے ہوئے شعبے کی افادیت کو کیسے سمجھے گا؟ ایسے حالات میں نوجوانوں کے لیے جدید مہارتوں، آئی ٹی اداروں یا ڈیجیٹل معیشت کی بات محض ایک غیر ضروری خیال سمجھ لی جاتی ہے، جس کا نتیجہ اجتماعی جمود کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
اس کے برعکس گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں، خصوصاً ہنزہ اور غذر، میں ایک خاموش مگر گہری معاشی تبدیلی جنم لے چکی ہے۔ وہاں کے نوجوانوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بطور ذریعۂ معاش اپنایا۔ فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کر کے آج وہ نہ صرف خود کفیل ہو چکے ہیں بلکہ سالانہ اربوں روپے کا ریونیو ملک میں لا رہے ہیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق پاکستان اس وقت دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں فری لانسنگ سب سے تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
عالمی فری لانس مارکیٹ پلیسز پر پاکستانی نوجوانوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور آئی ٹی برآمدات ہر سال اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ اس شعبے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے لیے نہ بھاری سرمایہ درکار ہوتا ہے اور نہ بڑے صنعتی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک لیپ ٹاپ، مستحکم انٹرنیٹ اور درست تربیت نوجوان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
ہنزہ اور غذر میں یہی ماڈل کامیابی سے اپنایا گیا۔ وہاں کے نوجوان اب سرکاری نوکری کو واحد کامیابی کا پیمانہ نہیں سمجھتے۔ وہ گھر بیٹھے بین الاقوامی کمپنیوں اور کلائنٹس کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی ذاتی آمدن میں اضافہ ہوا بلکہ پورے علاقے کی معیشت میں بہتری آئی۔ نئی کاروباری سرگرمیاں، بہتر تعلیمی سہولیات اور مجموعی معیارِ زندگی میں نمایاں تبدیلی اسی آئی ٹی شعور کا نتیجہ ہے۔
دیامر کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں اب تک اجتماعی معاشی ترقی کے حوالے سے سنجیدہ اور دور اندیش سوچ پروان نہیں چڑھ سکی۔ ہمارے بیشتر سیاسی نمائندے ذاتی ترقی اور انفرادی مفادات کو ترجیح دیتے رہے، جبکہ نوجوانوں کے لیے جدید مہارتوں کے دروازے بند ہی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود دیامر کا نوجوان آج بھی احساسِ محرومی اور بے روزگاری کا شکار ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ دیامر میں ترقی کے روایتی نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔ سب سے پہلے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ ادارے قائم کیے جائیں۔ چلاس جیسے مرکزی شہر میں آئی ٹی انسٹیٹیوٹ اور آئی ٹی پارک کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، جہاں نوجوانوں کو فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ڈیٹا اینالسس اور دیگر جدید ہنر سکھائے جا سکیں۔
تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ جن علاقوں میں آئی ٹی پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے وہاں نہ صرف بے روزگاری میں کمی آتی ہے بلکہ جرائم، انتہاپسندی اور سماجی مسائل میں بھی واضح فرق دیکھا جاتا ہے۔ دیامر جیسے حساس اور پسماندہ علاقے کے لیے یہ ماڈل کسی نعمت سے کم نہیں۔
اگر ہم واقعی اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں سونے، لکڑی اور چلغوزوں سے آگے سوچنا ہوگا۔ آج کے دور میں اصل دولت علم، ہنر اور ٹیکنالوجی ہے۔ جب تک دیامر کے نوجوان کو جدید دنیا کے ساتھ جوڑا نہیں جائے گا، ترقی کے تمام دعوے محض الفاظ ہی ثابت ہوں گے۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم تاریخ کے کس رخ پر کھڑے ہونا چاہتے ہیں: بدلتی دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنے والوں میں، یا ماضی کی زنجیروں میں جکڑے رہنے والوں میں۔






